شوریٰ سے متعلق رافضی دسیسہ کاریاں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

شوریٰ سے متعلق رافضی دسیسہ کاریاں

  علی محمد محمد الصلابی

اسلامی تاریخ میں بہت سی رافضی خرافات و اباطیل در آئی ہیں، انھیں میں سے ایک مسئلہ انتخابِ عثمان غنیؓ اور اس کے لیے شوریٰ کی کارروائی بھی ہے۔ مستشرقین نے حقیقت سے آنکھیں موند کر ان باطل روایات کو کافی اچھالا اور پروپیگنڈا کیا، بد قسمتی سے بہت سارے مؤرخین اور جدید مفکرین نے اس موضوع سے متعلق روایات کی چھان پھٹک نہیں کی، ان کی اسناد اور متول کی تحقیق نہیں کی۔ نتیجتاً ان روایات سے متاثر ہو گئے اور مسلمانوں میں غلط روایات عام ہو گئیں۔ روافض شیعہ مؤرخین نے شوریٰ اور خلافت کے لیے حضرت عثمانؓ کی نامزدگی کو خاص طور سے موضوع بحث بنایا اور اپنی من گھڑت، خودساختہ و جھوٹی روایات نیز خرافات و ہفوات کو اس میں بھر دیا، بلکہ ان کے متعدد مؤلفین نے اس موضوع پر مستقل کتب لکھی ہیں۔

جیسا کہ ابو مخنف نے ’’کتاب الشوریٰ‘‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی، اسی طرح ابن عقدہ اور ابن بابویہ (الذریقہ الی تصانیف الشیعہ: جلد 14 صفحہ 246)

 نے بھی ایسی ہی کتب لکھی ہیں اور ابنِ سعدؒ نے مجلس شوریٰ، انتخابِ عثمانؓ اور منصبِ خلافت سنبھالنے کی تاریخ سے متعلق واقدی کی سند سے نو (9) روایات نقل کی ہیں۔

(الطبقات الکبرٰی: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 63، 67)۔

اور ایک روایت عبیداللہ بن موسیٰ کی سند سے نقل کیا ہے۔ جس میں حضرت عمر فاروقؓ کے واقعۂ شہادت، مجلس شوریٰ کے لیے چھ افراد کی نامزدگی، سیدنا علی اور عثمان رضی اللہ عنہما میں سے جو بھی خلافت سنبھالے اسے خلافت سے متعلق نصیحت اور صہیب رومیؓ کے لیے اس سلسلہ میں وصیت کا تذکرہ ہے۔

(الطبقات الکبرٰی لابن سعد: جلد 3 صفحہ 63، 67)

بلاذری نے بھی مجلس شوریٰ اور بیعتِ عثمان کے واقعہ کو ابو مخنف کی روایت سے نقل کیا ہے،

(أنساب الأشراف: جلد 5 صفحہ 18، 19)۔ 

 اور ہشام کلبی سے ان میں سے بعض روایات کو ابو مخنف کے حوالہ سے اور بعض کو خود اپنی سند سے، (أنساب الأشراف: جلد 5 صفحہ 18، 19)

اور واقدی سے (أنساب الأشراف: جلد 5 صفحہ 18، 19)

اور عبیداللہ بن موسیٰ (أنساب الأشراف: جلد 5 صفحہ 6)

سے روایت کیا ہے۔ طبری نے واقعہ شوریٰ کو نقل کرتے ہوئے جن چند روایات پر اعتماد کیا یہ ان میں ابومخنف کی روایت شامل ہے۔

(أثر التشیع علی الروایات التاریخیۃ: صفحہ 321)

 ابن ابی الحدید نے واقعہ شوریٰ کے کچھ حصہ کو احمد بن عبدالعزیز الجوہری کی سند سے نقل کیا ہے،

(شرح نہج البلاغۃ: جلد 9 صفحہ 49،5،58)

اور اشارہ کیا ہے کہ یہ واقدی کی کتاب ’’الشورٰی‘‘ سے منقول ہے۔

(شرح نہج البلاغۃ: جلد 9 صفحہ 15)

یہ تمام تر شیعی روایات ان کے مختلف مکر و فریب اور سازشوں پر مشتمل ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہاں چند ایک کو بطورِ مثال ذکر کیا جارہا ہے: