امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا علامہ محمد عبدالشکور فاروقی…

امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا علامہ محمد عبدالشکور فاروقی لکھنوی رحمۃاللہ کا فتویٰ


شیعہ کا ذبیحہ کھانے کا حکم:

جب امامِ اہلِ سنت حضرت مولانا عبدالشکور فاروقی لکھنوی رحمۃ اللہ کو اپنی تحقیقات پر پورا ایقان و وثوق حاصل ہو گیا تو آپؒ نے اپنی حتمی اور آخری رائے کو چھ صفحہ کے اندر ایک فتویٰ کی شکل میں مرتب کر کے شائع کر دیا، جس پر اس وقت مختلف اکابرِ اہلِ سنت کی تصدیقات بھی شامل تھیں۔ اور اس فتویٰ کی عبارت تحریر کرنے سے پہلے آپ نے بطورِ تمہید لکھا تھا کہ: 

بعض دینی بھائیوں کو یہ دیکھ کر بڑا صدمہ ہوا کہ اہلِ سنت بوجہِ ناواقفیت کے شیعوں کو مسلمان سمجھ کر ان کے ساتھ مناکحت سے پرہیز نہیں کرتے، جس کے تلخ ترین نتائج سامنے آ کر سوہانِ روح بن رہے ہیں۔ شیعہ لڑکی سنیوں کے ہاں آ کر تقیہ کر لیتی ہے اور پوشیدہ طور پر اپنی اولاد کو اپنی مذہبی تعلیم دیتی ہے اور مرتے وقت ظاہر کرتی ہے کہ میں شیعہ ہوں۔ اور سنی لڑکی شیعہ کے گھر پہنچتے ہی طرح طرح کے ظلم و ستم کا نشانہ بن کر مجبور ہو جاتی ہے کہ شیعہ ہو جائے۔ یہ خرابی علاوہ ارتکابِ حرام کے ہے جو ناجائز نکاح کے سبب سے ہوتا ہے۔ پھر شیعوں کے ہاتھ کا ذبیحہ بھی استعمال کر لیا جاتا ہے اور ان کو جنازہ میں بھی شریک کیا جاتا ہے۔ لہٰذا ان حضرات کا اصرار ہوا کہ علمائے کرام کا ایک متفقہ فتویٰ اس کے متعلق شائع کر دیا جائے تاکہ ان فسادات کا سدِباب ہو۔

اس میں شک نہیں کہ کسی کلمہ گو کو کافر کہنا بہت سخت کام ہے اور علمائے اسلام کو ہمیشہ اس معاملے میں بڑی احتیاط رہی ہے۔ اور ہمارے امامِ اعظم رحمۃ اللہ نے بڑی تاکید کے ساتھ ہدایت کی ہے کہ اہلِ قبلہ کو کافر نہ کہنا چاہیے، مگر اس صورت میں کہ ضروریاتِ دین میں کسی چیز کا کھلم کھلا انکار اس سے صادر ہو۔ اب عقیدہ تحریفِ قرآن کے ظاہر ہونے کے بعد شیعوں کی تکفیر میں کسی کو اختلاف ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ یہ مسئلہ علمائے مسلمین میں بلااختلاف مسلّم ہے کہ قرآنِ مجید کے ایک حرف کا انکار بھی کفر ہے۔

اس تمہیدی تحریر کے بعد ہم اس فتویٰ کی اصل عبارت کو جو آج سے تقریباً 70 سال پہلے دفتر النجم لکھنؤ کی طرف سے شائع ہوئی تھی، یہاں نقل کر رہے ہیں:

*سوال:* کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ شیعہ اثناء عشری مسلمان ہیں یا اسلام سے خارج ہیں؟ ان کے ساتھ مناکحت جائز اور ان کا ذبیحہ حلال ہے یا کہ نہیں؟ ان کے جنازہ کی نماز پڑھنا یا ان کو اپنے جنازہ میں شریک کرنا درست ہے کہ نہیں؟ نیز اگر وہ کسی مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ دینا چاہیں تو یہ چندہ لیا جائے یا نہیں؟

*جواب:* شیعہ اثناء عشری خارج از اسلام ہیں۔ ہمارے علمائے سابقین کو چونکہ ان کے مذہب کی حقیقت کما ینبغی معلوم نہ تھی، بوجہ اس کے کہ یہ لوگ اپنے مذہب کو چھپاتے ہیں اور کتابیں بھی ان کی نایاب تھیں۔ لہٰذا بعض محققین نے بناءً بر احتیاط ان کی تکفیر نہ کی تھی۔ مگر آج ان کی کتابیں نایاب نہیں رہیں اور ان کے مذہب کی حقیقت منکشف ہو گئی ہے۔ اس لیے تمام محققین ان کی تکفیر پر متفق ہو گئے ہیں۔ ضروریاتِ دین کا انکار کفر ہے اور قرآنِ شریف ضروریاتِ دین میں سب سے اعلیٰ و ارفع چیز ہے۔ اور شیعہ بلا اختلاف، کیا ان کے مقدّمین اور متأخرین سب کے سب تحریفِ قرآن کے قائل ہیں۔ ان کی معتبر کتابوں میں 2 ہزار سے زائد روایاتِ تحریفِ قرآن کی موجود ہیں، جن میں پانچ قسم کی تحریفِ قرآنِ شریف میں بیان کی گئی ہیں: 1: کمی 2: بیشی 3: تبدّل الفاظ 4: تبدّل حروف 5: خرابی ترتیب: ترتیب کی یہ خرابی سورتوں میں بھی، آیتوں میں بھی اور کلمات میں بھی ہے۔

ان پانچ قسم کی روایاتِ تحریف کے ساتھ ان کے علماء کے یہ تین اقرار بھی ساتھ ہیں کہ:  

1: یہ روایات متواتر ہیں۔ 2: تحریفِ قرآن پر صریح الدلالہ بھی ہیں۔ 3: انہی کے مطابق اعتقاد بھی ہے۔ علمائے شیعہ میں گنتی کے چار آدمی تحریفِ قرآن کے منکر ہیں: شیخ صدوق، ابن بابویہ قمی، شریف مرتضیٰ اور ابو علی طبرسی۔ ان چار اشخاص کے اقوال چونکہ محض بے دلیل اور روایاتِ متواترہ کے خلاف ہیں، اس لیے خود علمائے شیعہ نے ان کو رد کر دیا ہے۔ 

علامہ بحر العلوم فرنگی محلی رحمۃ اللہ پہلے شیعوں کے مسلمان ہونے کا فتویٰ دیتے تھے، مگر تفسیر مجمع البیان از ابو علی طبرسی کے دیکھنے سے ان کو معلوم ہوا کہ وہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں۔ لہٰذا انہوں نے فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت میں شیعوں کا کفر بر بنائے عقیدہ تحریفِ قرآن محلِ تردد نہیں ہے۔ علاوہ اس کے دوسرے وجوہِ کفر بھی ہیں، مثلِ عقیدہ بداء اور قذفِ اُمّ المؤمنین (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) وغیرہ کے، مگر ان میں کچھ تاویل کی گنجائش ہے۔

لہٰذا شیعوں کے ساتھ مناکحت قطعاً ناجائز اور ان کا ذبیحہ حرام اور ان کا چندہ مسجد میں لینا نا روا نہیں۔ ان کا جنازہ پڑھنا، ان کو اپنے جنازہ میں شریک کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ ان کی مذہبی کتابوں میں یہ ہے کہ سنیوں کے جنازہ میں شریک ہو کر یہ دعا کرنا چاہیے: یا اللہ اس کی قبر کو آگ سے بھر دے، اس پر عذاب کر۔

اس فتویٰ پر مدرجہ ذیل حضرات اور اس دور کے دیگر اکابرِ علماء و اصحابِ فتویٰ کے دستخط ہیں: شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی صاحب رحمۃ اللہ، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی  رحمۃ اللہ، حضرت مولانا حافظ عبدالرحمٰن امرودہوی  رحمۃ اللہ، حضرت مولانا سید مرتضیٰ حسن چاندپوری  رحمۃ اللہ، حضرت مولانا مہدی حسن شاہ جہان پوری رحمۃ اللہ، حضرت مولانا محمد اعزاز علی ؒ، حضرت مولانا محمد شفیعؒ ، حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ ، حضرت مولانا محمد ابراہیم بلیاوؒی ، حضرت مولانا اصغر حسینؒ، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ، حضرت مولانا محمد رسول خانؒ ، حضرت مولانا نبیہ حسن ؒ اور حضرت مولانا انوار الحق امروہویؒ۔ 

حضرت لکھنویؒ  کی ان کاوشات اور جدوجہد سے اب الحمدللہ حق و باطل میں امتیاز قائم ہو گیا ہے۔ اور سوائے چند مصلحت کوش، مفاد پرست اور مذہب سے لاتعلق نام نہاد سیکولر افراد کے تمام مسلمان اس فرقے کے خارج از اسلام ہونے میں متفق ہیں۔ اور آپس میں مناکحت اور ذبیحہ وغیرہ کے استعمال سے عام طور پر اجتناب ہونے لگا ہے۔ یہاں تک کہ ان کی مسجدیں اور ان کے قبرستان وغیرہ بھی علیحدہ ہو چکے ہیں۔

(امامِ اہلسنت حضرت علامہ محمد عبدالشکور فاروقی لکھنویؒ حیات و خدمات: صفحہ 670)