سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تعریف میں عبداللہ بن حسن بن…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تعریف میں عبداللہ بن حسن بن علی بن ابی طالب کا قول

  علی محمد محمد الصلابی

7: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تعریف میں عبداللہ بن حسن بن علی بن ابی طالب کا قول:

حفص بن قیس کا بیان ہے کہ میں نے عبداللہ بن حسن سے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں فتویٰ پوچھا، تو انھوں نے کہا: مسح کرو، کیونکہ سیدنا عمر بن خطابؓ نے بھی مسح کیا ہے۔ میں نے کہا: میں آپ سے یہ پوچھتا ہوں کہ آپ مسح کرتے ہیں یا نہیں؟ انھوں نے کہا: تمھاری سمجھ میں بات آنے والی نہیں، میں تمھیں حضرت عمرؓ کے حوالہ سے بتا رہا ہوں اور تم اس میں میری رائے پوچھتے ہو، حضرت عمرؓ صرف مجھ سے نہیں بلکہ اپنے وقت میں پوری روئے زمین میں سب سے بہتر تھے۔ میں نے کہا: اے ابو محمد! کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ لوگ تقیہ کے طور سے ایسا کہتے ہیں، راوی کا بیان ہے کہ انھوں نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا جب کہ ہم دونوں قبر نبویﷺ اور منبر نبویﷺ کے درمیان بیٹھے تھے۔ اے اللہ! ظاہر و باطن دونوں حالتوں میں میر ی یہی بات ہے، میرے بعد کسی کی بات میرے خلاف نہ سننا، پھر کہنے لگے، کون کہتا ہے کہ سیدنا علیؓ مظلوم تھے اور اللہ کے رسولﷺ نے انھیں ایک کام (خلافت لینے) کا حکم دیا تھا، لیکن انھوں نے اسے نہیں کیا؟ حضرت علیؓ پر طعن تشنیع کرنے اور ان کی عظمت کو مجروح کرنے کے لیے یہی کافی ہے کہ گمان کیا جائے کہ نبی کریمﷺ نے انھیں ایک بات کا حکم دیا تھا جسے انھوں نے نہیں کیا۔

(النہی عن سب الأصحاب و ما فیہ من الاثم و العقاب: محمد عبدالواحد المقدسی: صفحہ 57)۔