کیا سقیفہ بنی ساعدہ کی کارروائی ایک ڈھونگ تھا؟ - ردِ رافضیت…

کیا سقیفہ بنی ساعدہ کی کارروائی ایک ڈھونگ تھا؟

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2

برائے مہربانی اس ساری بحث کو ایک مرتبہ پھر پڑھیے پھر جلاء العیون کا اقتباس پڑھئے ، امید ہے کہ درج ذیل نکات کی حقانیت منصف مزاج ذہنوں میں واضح ہوجائے گی:
 1: خلفائے ثلاثہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا۔
 2' شیعانِ علی کی کتب جن کا تذکرہ پیچھے گزر چکا ہے یا ان کے علاوہ دوسری کتب کا مطالعہ کرنے سے یا ان کی محفلوں میں خلفاءثلاثہ کے بارے میں استعمال ہونے والی زبان سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ نعوذ باللہ اللہ کی مخلوق میں سب سے کم تر اور گمراہ ترین لوگ خلفائے ثلاثہ ہی تھے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں کے نام ان کے ناموں پر رکھ کر یہ ثابت کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی انہیں کی طرح تھے جیسا کہ شیعہ خلفائے ثلاثہ کو سمجھتے ہیں یا وہ ان کے ساتھ بہت محبت و عقیدت رکھنے والے تھے۔ کیونکہ بہت زیادہ عقیدت و محبت کے بغیر کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام اس کے نام پر نہیں رکھتا ہے۔
 3: خلفائے ثلاثہؓ کے بارے میں شیعانِ علی کی تمام روایات جھوٹی، من گھڑت اور شیاطین کی ذہنی خباثت کا مظہر ہیں ان تمام روایات کا مقصد صرف اور صرف اسلام دشمنی ہے۔
جس کا اندازہ آپ مشہور شیعہ مورخ حسین کاظم زادہ کے اس اقتباس سے  خودکر سکتے ہیں:
 "جس دن حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے خلیفہ دوم کی جانب سے ایران کو فتح کیا۔ ایرانی اپنے دلوں میں کینہ و انتقام کا جذبہ پالتے رہے۔ یہاں تک کہ شیعہ فرقے کی بنیاد پر جانے سے پورے طور پر اس کا اظہار کرنے لگے۔ ایرانی ہرگز اس بات کو کبھی نہ بھول سکتے تھے کہ مٹی پر ننگے پاؤں پھرنے والے  عربوں نے جو جنگل و صحرا کے رہنے والے تھے ان کی مملکت پر تسلط کر لیا اور ان کے قدیم خزانوں کو لوٹ کر غارت کر دیا اور ہزاروں کو قتل کر دیا۔ اس معاملے نے ایرانیوں کے دلوں میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف غصہ اور کینہ کو بھڑکا دیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی محبت کو اور زیادہ کر دیا"۔
جب کہ قرآن و حدیث اور تاریخ اسلام نے ان نفوس قدسیہ کے بارے میں جو کچھ بیان کیا ہے۔ وہ حرف بہ حرف سچ ہے ۔اسی لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ ان اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دل سے قدر کرتے تھے اور انہیں  قابلِ تقلید سمجھتے تھے۔ جن کا ثبوت طریقہ خلافت کے  ذیل میں نہج البلاغہ کے اقتباسات اور اپنے بیٹوں کے نام اصحابِ ثلاثہ رضی اللہ عنہم کے اسمائے گرامی پر رکھنے سے ملتا ہے اور یہ ایسا ثبوت ہے جس کی تردید نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے۔ لہذا ہمیں اپنا فرض سمجھتے ہوئے انہیں ایرانی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا جو اپنے قدیم تعصب کی وجہ سے دین اسلام کے خلاف کام کر رہے ہیں۔
خلاصہ:
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے طریقہ کار کو پسند فرما کر اپنے مخالفین کو بطور دلیل حوالہ دے کے ساتھ دینے کا حکم دیا۔


صفحہ 2 از 2