شیعہ کے ذبیحہ کا حکم - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

شیعہ کے ذبیحہ کا حکم


سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہمارے شہر میں گوشت کا کام شیعہ مذہب کے لوگ کرتے ہیں۔ بعض بکری ذبح کرنے والے قصائی شیعہ قسم کے لوگ ہیں۔ لہٰذا فتویٰ طے فرما دیں کہ سنی لوگ اسے جائز سمجھ کر کھا سکتے ہیں؟

جواب: حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ اس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ شیعہ کے ذبیحہ کی حلت میں علمائے اہلِ سنت کا اختلاف ہے۔ راجح اور صحیح قول یہ ہے کہ حلال ہے۔ لیکن مجھے اس مسئلہ میں تاحال تشفی نہیں ہوئی۔ 

کچھ تشفی ہو سکتی ہے، وہ یہ کہ کفر کا حکم کیا جا سکتا ہے۔ اسلام کا حکم۔ اول میں تو خود اس کے معاملات کے اعتبار سے احتیاط ہے اور حکمِ ثانی میں دوسرے مسلمانوں کے معاملات کے اعتبار میں یہ احتیاط ہے۔ پس احکام میں دونوں احتیاطوں کو جمع کیا جائے گا۔ یعنی اس سے نہ تو مناکحت کی اجازت دیں گے، نہ اس کی اقتداء کریں گے، نہ اس کا ذبیحہ کھائیں گے اور نہ اس پر سیاست کافرانہ جاری کریں گے۔ اگر تحقیق کی قدرت ہو تو اس کے عقائد کی تفتیش کریں گے اور اس تفتیش کے بعد جو ثابت ہو ویسے ہی احکام جاری کریں گے۔ اور اگر تحقیق کی قدرت نہ ہو تو سکوت کریں گے اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کریں گے۔  

(جامع الفتاویٰ: جلد 8 صفحہ،146)