سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ستائش سیدنا علی رضی اللہ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ستائش سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زبانی

  علی محمد محمد الصلابی

3: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ستائش سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زبانی:

عبد خیر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ اہلِ نجران سیدنا علیؓ کے پاس آئے، میں آپ کے بالکل قریب بیٹھا تھا، میں نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر حضرت عمرؓ کے کسی فیصلہ کو آپ منسوخ کرنا چاہیں گے تو آج ضرور کریں گے۔ اہل نجران آئے آپ کو سلام کہا، اور سامنے صف بندی کر کے بیٹھ گئے، پھر ان میں سے ایک آدمی نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر ایک نوشتہ نکالا اور اسے حضرت علیؓ کے ہاتھ میں رکھ دیا اور سب کہنے لگے: اے امیرالمومنین! یہ آپ کے ہاتھوں کی تحریر ہے، اسے رسولﷺ نے آپ کو املا کروایا تھا۔ راوی کا بیان ہے کہ پھر میں نے دیکھا کہ حضرت علیؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو کر رخسار پر بہنے لگے، پھر آپ نے ان کی طرف نگاہ اٹھائی اور کہا: اے نجران والو! یہ سب سے آخری تحریر ہے جو میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لکھی تھی۔ وہ سب کہنے لگے، پھر جو اس میں لکھا ہے ہمیں دیجیے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا: اس کے بارے میں میں تمھیں بتاتا ہوں، سنو! حضرت عمرؓ نے جو کچھ لیا، اپنے لیے نہیں لیا، بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے لیا، اور جو لے لیا وہ اس سے بہتر ہے جو تمھیں دیا ہے، اللہ کی قسم! عمرؓ نے جو کچھ کیا ہے میں اسے رد کرنے والا نہیں، حضرت عمرؓ بڑی سوجھ بوجھ کے مالک، معاملہ فہم تھے۔

(معجم البلدان: جلد 5 صفحہ 269، المختصر من کتاب الموافقہ: صفحہ 139، فقہ الامام علی: جلد 2 صفحہ 813، بحوالہ السنن الکبری: البیہقی۔ اس کی سند مرسل ہے۔ دیکھیے: الشریعۃ: الآجری: 4 صفحہ 1777)

اس واقعہ کی روشنی میں فقہائے اسلام نے یہ فقہی اصول بنایا ہے کہ سیدنا علیؓ کے نزدیک قاضی، اپنے سے پہلے قاضی کے اجتہاد و فیصلہ کو منسوخ نہیں کر سکتا۔

(فقہ الامام علی: جلد 2 صفحہ 813)۔

اور حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آپؓ نے فرمایا: تم جیسے فیصلہ کرتے تھے ویسے ہی کرتے رہو، یہاں تک کہ ایک جماعت بن جاؤ میں اختلاف سے ڈرتا ہوں۔

(مصنف عبدالرزاق: جلد 10 صفحہ 329، بحوالہ فقہ الامام علی: جلد 2 صفحہ 814)۔

 اور یہی جمہور فقہاء کامسلک ہے۔

(فقہ الامام علی: جلد 2 صفحہ 813)

نیز حضرت علیؓ نے فرمایا: حضرت عمرؓ کی باندھی ہوئی کسی گرہ کو میں نہیں کھول سکتا۔

(المختصر من کتاب الموافقۃ میں اھل البیت الصحابۃ: صفحہ 140) اس کی سند میں القطاع ہے، دیکھیے: مصنف ابن ابی شیبۃ: جلد 12 صفحہ 33)