حضرت مولانا مفتی مہربان علی کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع…

حضرت مولانا مفتی مہربان علی کا فتویٰ


خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والے کافر ہیں اور ان کا ذبیحہ کھانے کا حکم

سوال: خلفائے راشدینؓ اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی شان میں جو شخص الفاظِ ناملائم یا دشنام یا برا کہتا ہو اور تہمت لگاتا ہو، وہ دائرہ اسلام میں ہے یا نہیں؟ ایسے شخص کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے یا نہیں؟ ان لوگوں کے ساتھ تعلقِ دوستانہ و ہمدردی رکھنا اور کھانا کھانا وغیرہ جائز ہے یا نہیں؟ جو شخص ایسے لوگوں سے میل جول رکھتا ہو، اس سے میل جول رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم پر سبّ وشتم کو بھی بہت سے علماء و فقہاء نے کافر لکھا ہے۔ اور بالخصوص حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت رکھنے والوں اور افک کے قائلین کو باتفاق کافر کہا ہے، کیونکہ اس میں نصِ قطعی کا انکار ہے۔ اس شخص کا ذبیحہ درست نہیں اور اس سے تعلق و محبت رکھنا درست نہیں ہے۔ اور جو شخص اس سے میل جول رکھے وہ عاصی و فاسق ہے، توبہ کرے۔  

(جامع الفتاویٰ: جلد 2 صفحہ 168)