خلافت کے لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی منتخب کمیٹی…

خلافت کے لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی منتخب کمیٹی میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام اور جناب عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے حق میں علی رضی اللہ عنہ کے کلمات خیر

  علی محمد محمد الصلابی

11۔ خلافت کے لیے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی منتخب کمیٹی میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام اور جناب عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے حق میں علی رضی اللہ عنہ کے کلمات خیر:

1: اہل شوریٰ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتخاب:

جب حضرت عمر بن خطابؓ پر حملہ ہوا اور پھر یقین ہونے لگا کہ آپؓ عنقریب اس دنیا سے وفات پا جائیں گے تو لوگ آپ کے پاس آنے لگے اور کہا: اے امیرالمومنین! کسی کو خلیفہ مقرر کر دیجیے، آپ نے کہا: خلافت کے لیے یہ لوگ زیادہ مناسب ہیں جن سے اللہ کے رسولﷺ راضی رہے ہیں، پھر انھوں نے علی، عثمان، زبیر، طلحہ،سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم کا نام لیا۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد 7 صفحہ 142)۔

پھر ان چھ میں سے خصوصیت کے حامل افراد عبدالرحمٰن بن عوف، عثمان غنی، اور علی رضی اللہ عنہم کو بلایا، اور انھیں نصیحت کی۔ (البخاری: 3700)

سیدنا عمرؓ مسلمانوں کے امام تھے، اُن پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ جو شخص مسلمانوں کے لیے زیادہ مناسب و بہتر ہو اسے خلیفہ نامزد کر دیں، چنانچہ انھوں نے اجتہاد کیا، اور اس فیصلہ پر پہنچے کہ دوسروں سے مقابلہ میں یہ چھ لوگ اس کے زیادہ مستحق ہیں جن سے اللہ کے رسولﷺ اپنے وفات تک راضی رہے۔ بات وہی صحیح تھی جو حضرت عمر فاروقؓ نے اختیار کی۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ ان چھ افراد کے علاوہ کوئی دوسرا خلافت کا زیادہ حق دار ہے۔ اور پھر ان میں کسی ایک کو اس لیے متعین نہیں کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دوسرا اس سے زیادہ مناسب ہو، اس لیے ایک کو متعین کرنے کی بجائے چھ افراد کے درمیان اس کو مشترک رکھنا راجح سمجھا، چنانچہ آپ نے فرمایا کہ معاملہ ان چھ کے حوالے ہے، یہ اپنے میں سے کسی ایک کو منتخب کر لیں۔ دراصل یہ ایک عادل و خیر خواہ امام کا اجتہاد تھا، جو نفس پرست نہ تھا اور اس کا عمل شورائیت کی تنفیذ کا ایک عملی نمونہ تھا، جس سے متعلق اللہ کا ارشاد ہے:

  وَاَمۡرُهُمۡ شُوۡرٰى بَيۡنَهُمۡ۞ ( سورۃ الشوریٰ آیت 38)

’’اور اُن کے معاملات باہم مشورہ سے چلتے ہیں۔‘‘

اور فرمایا:

وَشَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ (آل عمران:159)

’’اور کام میں ان سے مشورہ کر۔‘‘

بہرحال حضرت عمر فاروقؓ نے شورائیت کا جو نمونہ پیش کیا وہ مصلحت پر مبنی تھا۔ 

(منہاج السنۃ: جلد 3 صفحہ 162، 163،  المنتقیٰ: صفحہ 362۔ 364)۔

سیدنا عمر فاروقؓ نے دیکھا کہ کمیٹی کے سبھی چھ ممبران تقریباً اہلیت میں برابر ہیں، کیونکہ اگرچہ معمولی اعتبار سے کسی کو کسی پر فضیلت حاصل ہے، لیکن یہ بھی ہے کہ ہر ایک کی نوعیت مختلف ہے، ایسی صورت میں اگر کسی ایک کو متعین کر دیا جاتا ہے تو اندیشہ تھا کہ اس کے دورِ حکومت میں اگر کبھی کوئی گڑبڑ واقع ہوئی تو انکار کی انگلیاں میری طرف اٹھ جائیں گی، اس لیے اللہ کا خوف کھاتے ہوئے آپ نے کسی کو متعین نہیں کیا اور جان لیا کہ کسی کو کسی پر ترجیح دینا مناسب نہیں ہے۔ اس طرح آپ نے دو مصلحتوں پر نگاہ رکھی، چھ افراد کو نامزد کر دیا اس لیے کہ ان سے زیادہ کوئی حق دار نہ تھا، اور پھر کسی ایک کو خاص نہیں کیا، کیونکہ تقصیر میں واقع ہونے کا اندیشہ تھا، اور اللہ کو یہ چیز اپنے بندوں سے مطلوب بھی ہے کہ جتنا ممکن ہو سکے امت کے مصلحت و مفاد کو ترجیح دیں، آپ نے جو کچھ کیا وہ انتہائی پُرحکمت مصلحت پر مبنی تھا۔

(عقیدہ اہل السنۃ: جلد 3 صفحہ 1042)

یہاں یہ اعتراض کرنا ہرگز درست نہیں ہے کہ سیدنا عمر فاروقؓ نے خلافت کے مشورہ کو صرف چھ افراد کے حوالہ کر کے اپنے متقدین یعنی محمدﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے طرزِ عمل کی مخالفت کی ہے، جیسا کہ روافض شیعہ کا خیال ہے، اس لیے کہ اختلاف کی دواشکال ہیں، اختلاف تضاد، جس میں ٹکراؤ پیدا ہو جائے اور اختلاف تنوع، جس میں حقیقت ایک ہوتی ہے صرف شکل بدلی ہوتی ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا عمل اختلاف تنوع کے قبیل سے تھا۔

(منہاج السنۃ: 3 صفحہ 162، 164، المنتقیٰ: صفحہ 362، 364)۔

تمام صحابہ کرامؓ نے بشر و چشم قبول کیا، حضرت عمرؓ کے جدید طرزِ انتخاب کو میں نے اپنی کتاب ’’عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے‘‘ میں تفصیل سے لکھا ہے۔ مزید معلومات کے لیے برائے مہربانی وہاں رجوع کریں۔

2: سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کے حق میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے کلمات خیر:

ابنِ عباسؓ کا بیان ہے کہ جب سیدنا عمر فاروقؓ کو (شہادت کے بعد) ان کے بستر پر رکھا گیا تو تمام لوگوں نے میت مبارک کو گھیر لیا اور ان کے لیے اللہ سے دعائے مغفرت کرنے لگے، میت ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی، میں بھی وہیں موجود تھا، اسی حالت میں اچانک ایک صاحب نے میرا شانہ پکڑ لیا، میں نے دیکھا تو وہ حضرت علیؓ تھے۔ پھر انھوں نے سیدنا عمرؓ کے لیے دعائے رحمت کی، اور (ان کی میت مبارک کو مخاطب کر کے کہنے لگے) آپ نے اپنے بعد کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا کہ جسے دیکھ کر مجھے یہ تمنا ہوتی کہ اس کے عمل جیسا عمل کرتے ہوئے میں اللہ سے جا ملوں اور اللہ کی قسم! مجھے پہلے سے یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ ہی رکھے گا، میرا یہ یقین اس وجہ سے تھا کہ میں نے اکثر رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سنے تھے:

ذَہَبْتُ اَنَا وَاَبُوْبَکْرٍ وَ عُمَرَ،وَدَخَلْتُ اَنَا وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ ،وَخَرَجْتُ اَنَا وَاَبُوْبَکْرٍ وَعُمَرُ۔

(صحیح البخاری: حدیث، نمبر 3685)۔

’’ میں، ابوبکر اور عمر گئے، میں، ابوبکر اور عمر داخل ہوئے، میں ابوبکر اور عمر باہر آئے۔‘‘