حضرت مولانا مفتی احمد بن ابراہیم بیمات رحمۃاللہ کا فتویٰ…

حضرت مولانا مفتی احمد بن ابراہیم بیمات رحمۃاللہ کا فتویٰ (سابق شیخ الحدیث و صدر مفتی دارالعلوم فلاح دارین ترکیسر گجرات صدر جمعیت علمائے ہند گجرات شاخ و بانی در العلوم مدنی دار التربیت کرمالی)


بوہروں کا ذبیحہ کھانے کا حکم

سوال: بوہرے لوگوں کے ہاتھ کا ذبح کیا ہوا جانور کھانا درست ہے یا نہیں؟ جبکہ انہوں نے بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا ہے ہم نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا تھا کہ تم کیا پڑھ کر ذبح کرتے ہو انہوں نے بتایا کہ ہم ذبح کے وقت بسم اللہ اللہ اکبر پڑھتے ہیں عقائد میں یہ لوگ شیعہ سے بھی زیادہ خراب اور گندے ہیں نیز ان کی دعوت قبول کرنا اور انہیں سلام میں پہل کرنا چاہیے یا نہیں؟ 

جواب: اگر کسی شخص یا فرد کے متعلق یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ وہ ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا منکر ہے تو وہ شخص یا فرقہ اسلام سے خارج شمار کیا جائے گا اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ چند ضروریاتِ دین یہ ہیں: 

1: قران کریم کا مکمل صحیح سالم غیر محرف ہونا

2: حضور اکرمﷺ‏ کا خاتم النبیین ہونا

3: حضرت عائشہ صدیقہؓ کی عفت و پاک دامنی کا اعتقاد رکھنا 4: اس بات کا ماننا کہ کوئی انسان الوہیت کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا۔ 

اب اگر اس کے خلاف کوئی اعتقاد رکھے تو اس سے ضروریاتِ دین کا منکر کہا جائے گا اور ایسا شخص ایمان سے نکل جائے گا مثلاً تحریفِ قرآن کا عقیدہ رکھنا حضرات شیخین رضی اللہ عنہما کی خلافت کا انکار کرنا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر (نعوذ باللہ) بدکاری کی تمہت لگانا یا حضرت علیؓ کے متعلق الوہیت کا اعتقاد رکھنا یا یہ کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے وحی لانے میں غلطی کی۔ 

شیعہ کے 22 فرقے ہیں ان میں سے ایک یا دو فقط مسلمان ہیں بقیہ فرقے مذکورہ باتوں کی بناء پر ایمان سے خارج ہیں ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو مرتدین اور کفار کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ 

فتاویٰ عالمگیری میں ہے: و ھولاء القوم خارجون عن ملة الاسلام، و احکامھم احکام المرتدین: 

لہٰذا ان سے ملاقات کے وقت سلام میں پہل نہ کرنا چاہیے: عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہﷺ قال: لا تبدء الیھود والنصاریٰ بالسلام، و اذا لقیتم احدھم فی الطریق فاضطروھم الی اضیفه:

اور جواب میں بھی قدرِ ضرورت پر اکتفاء کرنا چاہیے: ان رسول اللہﷺ‏ قال: اذا سلم علیکم اھل الکتاب فقولوا وعلیکم: 

سلام کے علاوہ کوئی تعظیم کا فعل وہ خود کریں تو اس کی مکافات بہ قدر مشروع کرنا چاہیے۔ نہ ان کا ذبیحہ حلال ہے اگرچہ بسم اللہ الله اکبر: پڑھ کر ذبح کریں، نہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھی جاۓ گی اور نہ ان سے نکاح کیا جاۓ گا: و فی الدر المختار مع ردالمختار (لا) تحل (ذبیحة) غیر کتابی من (وثنی و مجوسی و مرتد) 

و قال الله تبارک و تعالیٰ: وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓى اَحَدٍ مِّنۡهُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمۡ عَلٰى قَبۡرِهٖ اِنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَمَاتُوۡا وَهُمۡ فٰسِقُوۡنَ‏

و قال الله تعالیٰ: وَلَا تَنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكٰتِ حَتّٰى يُؤۡمِنَّ‌ وَلَاَمَةٌ مُّؤۡمِنَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ مُّشۡرِكَةٍ وَّلَوۡ اَعۡجَبَتۡكُمۡ‌ وَلَا تُنۡكِحُوا الۡمُشۡرِكِيۡنَ حَتّٰى يُؤۡمِنُوۡا 

ایسے ہی عیادت، تعزیت ،تہنیت و مبارکبادی اور دعوت قبول کرنے میں صرف اس قدر مکافات اور برابری کا لحاظ رکھنا چاہیے جس کی شریعت نے اجازت دی ہے۔ شامی میں ہے: 

لاشک فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشة او انکر صحبة الصدیق او اعتقد الالوھیة فی علی او ان جبرائیل علیه السلام غلط فی الوحی او نحو ذٰلک من الکفر الصریح المخالف للقرآن 

فتاویٰ عالمگیری میں ہے: الرافضی اذا کان یسب الشیخین و یلعنھما والعیاذ بالله فھو کافر، و ان کا یفضل علیا علیٰ ابی بکر لا یکون کافر الا انه مبتدع ولو قذف عائشة بالزنا کفر بالله من انکر ابی بکر الصدیق فھو کافر، و علیٰ قول بعضھم ھو مبتدع و لیس بکافر والصحیح انه کافر، و کذلک خلافة عمر فی اصح الاقوال 

(فتاویٰ فلاحیہ: جلد1 صفحہ 259)