روافض شیعہ کا ذبیحہ کھانے کا حکم:
سوال: روافض اہلِ تشیع میں بہت سے مختلف العقائد فرقے ہیں اور ہر فرقے کے عقائد کو جدا منضبط کرنا بھی دشوار ہے۔ ایک دوسری مشکل یہ ہے کہ کسی فرقے کی کتابوں میں ان کے بعض عقائد معلوم ہوتے ہیں، مگر جب وہ عقیدہ ان کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو وہ اس کا انکار کرتے ہیں۔ مثلاً شیعہ کی کتابوں میں جا بجا اس قسم کی عبارتیں ملتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ موجودہ قرآن کو محرف و ناقابلِ اعتبار سمجھتے ہیں، مگر جب کہا جاتا ہے کہ تم موجودہ قرآن پر ایمان نہیں رکھتے تو وہ شدت کے ساتھ تبرّی کرتے ہیں۔ ایک مشکل یہ ہے کہ ہندوستان میں عوام روافض کے متعلق یہ فیصلہ بھی دشوار ہے کہ وہ کس فرقہ میں درج ہیں۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ ایسی حالت میں ہم روافض کے ساتھ کیا معاملہ کریں؟ ان کو مسلمان سمجھیں یا کافر؟ ان فرقوں کے جتنے عقائد معلوم ہو سکے وہ لکھے جاتے ہیں:
1: بعض شیعہ مسلمانوں سے صرف اس میں اختلاف رکھتے ہیں کہ وہ خلافت کے مستحقِ اول حضرت علی المرتضیٰؓ کو قرار دیتے ہیں، مگر باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا نہیں کرتے۔
2: بعض وہ ہیں جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ اول قرار دیتے ہیں اور باقی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا کرتے ہیں۔
3: بعض وہ ہیں جو حضرت علیؓ کو خود معبود سمجھتے ہیں۔ (معاذاللہ)
4: بعض وہ ہیں جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے وحی لانے میں غلطی کی۔ اصل میں وحی سیدنا علیؓ پر آئی تھی، وہ غلطی سے حضرت محمدﷺ کے پاس لے آئے (نعوذ باللہ منه) گو حقیقتاً نبی و رسول حضرت علی المرتضیٰؓ کو مانتے ہیں۔
5. بعض وہ ہیں جو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت رکھتے ہیں یا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کافر و مرتد کہتے ہیں۔ (معاذاللہ)
جواب: مختصر اور محقق و جامع کلام روافض (شیعہ) کے بارے میں یہ ہے کہ بلحاظِ احکام روافض کی تین صورتیں ہیں:
اول: یہ کہ ان میں سے کسی شخص یا فرقہ کے متعلق یقینی طور سے یہ بات ثابت ہو جائے کہ وہ ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا منکر ہے، اگرچہ انکار میں تاویل بھی کرتا ہو اور صاف انکار کرنے سے تبرّی کرتا ہو۔ مثلاً قرآنِ مجید کے محرف و ناقابلِ اعتبار ہونے پر اگر کسی شخص کی ایسی صاف عبارت ہے کہ اس سے یقینی طور پر یہی مفہوم نکلتا ہے، پھر باوجود اس کے وہ اپنی عبارت کو غلط مان کر اس سے رجوع ظاہر نہیں کرتا، مگر عقیدۂ تحریف سے تبرّی کرتا ہے، تو اس تبرّی کا کوئی اعتبار نہیں۔ بلکہ وہ باتفاق و باجماع کافر مرتد ہے۔
اس کے ساتھ کسی قسم کا اسلامی معاملہ رکھنا جائز نہیں۔ نہ اس سے کسی مسلمان کا نکاح جائز، اور اگر نکاح کے بعد اس کا عقیدہ ایسا ہو گیا تو نکاح فسخ ہو جائے گا۔ نہ اس کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال ہے، نہ اس پر نمازِ جنازہ جائز غیر ذالک من الاحکام۔ اور دلیل اس کی وہ تمام فقہاء کرام رحمہم اللہ کی عبارات ہیں جو سوالِ اول کے جواب میں ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کے منکر کے متعلق لکھی گئی ہیں۔
نیز علامہ شامیؒ کی عبارتِ ذیل بھی اس کے لیے کافی ہے: نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیدة عائشة أو أنکر صحبة الصدیق أو اعتقد الألوهیة فی علی أو أن جبریل علیه السلام غلط فی الوحی الخ
دوم: دوسری صورت یہ ہے کہ کسی شخص یا فرقہ سے متعلق یقینی طور پر معلوم ہو جائے کہ وہ ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا منکر نہیں، مگر صرف اس میں اختلاف رکھتا ہے کہ جمہورِ امت کے خلاف حضرت علیؓ کو افضل الصحابہ اور خلیفۂ اول سمجھتا ہے۔ تو وہ شخص فاسق و گمراہ ہے مگر کافر و مرتد نہیں۔ ان کے ساتھ وہ اسلامی معاملات جائز ہیں جو کسی فاسق و گمراہ کے ساتھ کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً اس کا ذبیحہ حلال ہے، اس کے جنازہ پر نماز جائز ہے۔ نکاح کے معاملے میں اس سے بھی اجتناب کرنا بہتر ہے، کیونکہ فاسق کی معاشرت کے اثرات و نتائج خطرناک ہیں۔ لیکن اگر کسی مسلمان سنی لڑکی کا نکاح اس سے کر دیا گیا تو اگرچہ بلا ضرورتِ شدیدہ ایسا کرنا اچھا نہیں، لیکن یہ نکاح اس شرط سے جائز و منعقد ہو جائے گا کہ لڑکی بالغہ اور اس کے اولیاء دونوں کو نکاح کے وقت اس کا عقیدہ معلوم ہو اور اس عقیدے کے باوجود نکاح کی اجازت دے دیں۔ اور اگر دونوں میں سے کسی ایک نے بھی نکاح کی اجازت دینے سے انکار کیا تو یہ نکاح مذہبِ مفتیٰ به قول کے مطابق منعقد و صحیح نہیں ہو گا۔ لڑکی کو شرعاً اختیار ہو گا کہ اپنا نکاح دوسری جگہ کسی سنی مسلمان سے کرے۔
اور اگر بوقتِ نکاح اس شخص نے دھوکہ دے کر اپنے آپ کو سنی مسلمان ظاہر کیا، اس بناء پر لڑکی اور اس کے اولیاء نے نکاح کر دیا، بعدِ نکاح حقیقتِ حال معلوم ہوئی، تو لڑکی اور اس کے اولیاء کو حق ہو گا کہ مسلمان حاکم کی عدالت میں دعویٰ دائر کر کے نکاح فسخ کرا لیں۔ اور اگر مسلمان حاکم کی عدالت میں مقدمہ لے جانا اختیار میں نہ ہو تو اہلِ محلہ یا اہلِ شہر کے دیندار مسلمانوں کی ایک جماعت کے سامنے معاملہ پیش کر کے ان سے فسخِ نکاح کرا لیا جائے۔ (لیکن اس صورت میں قانونی گرفت سے بچنے کے لیے) بہتر یہ ہے کہ پہلے موجودہ حکومت میں درخواست دے کر نکاح فسخ کرائیں، خواہ حاکم مسلم ہو یا غیر مسلم۔ پھر اگر حاکم مسلم ہو تو یہی فسخ شرعاً بھی معتبر ہو گا۔ اگر حاکم غیر مسلم تھا تو دوبارہ مسلمانوں کی پنچائیت میں معاملہ پیش کر کے شرعاً فسخ کرایا جائے۔ مسلمانوں کی پنچائیت، جس کا فیصلہ شرعاً معتبر ہو سکتا ہے، اس کے لیے چند شرائط ہیں جو رسالہ حیلہ ناجزہ میں مدلل و مفصل مذکور ہیں۔ وہاں دیکھ لیا جائے۔ اگر ضرورت پیش آئے تو بغیر اس کے دیکھے ہوئے عمل نہ کیا جائے۔ اس دوم قسم کے احکام کے دلائل بھی رسالہ حیلہ ناجزہ کے تتمہ میں خیارِ کفاءت کے ذیل میں مفصل مذکور ہیں، وہاں دیکھ لیا جائے۔
سوم: تیسری صورت یہ ہے کہ یقینی طور پر کسی امر کا ثبوت نہ ملے، یعنی نہ اس کا یقین ہے کہ وہ ضروریاتِ دین میں سے کسی چیز کا منکر ہے اور نہ اس کا کہ منکر نہیں، بلکہ ایک مشتبہ حالت ہے۔ خواہ اشتباہ اس وجہ سے ہو کہ اس فرقہ کے اقوال و افعال ہی مشتبہ ہیں، یا اس وجہ سے کہ اس شخص کے متعلق یہ یقین نہیں کہ اس کا تعلق باعتبارِ مذہب و عقائد کے کسی فرقہ سے ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق شرعی فیصلہ بھی دشوار ہے۔ اور اس میں سب سے زیادہ احواط و اسلم وہ ہے جو حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ نے امداد الفتاویٰ میں نقل فرمایا ہے، اور وہ یہ ہے:
اگر کسی خاص شخص کے متعلق یا کسی خاص جماعت کے متعلق حکم بالکفر میں تردد ہو، خواہ تردد کے اسباب علماء کا اختلاف ہو، یا قرائن کا تعارض ہو، یا اصول کا غموض، تو اسلم یہ ہے کہ نہ کفر کا حکم کیا جائے نہ اسلام کا۔ حکمِ اول میں تو خود اس کے معاملات کے اعتبار سے بے احتیاطی ہے، اور حکمِ ثانی میں دوسرے مسلمانوں کے معاملات کے اعتبار سے بے احتیاطی ہے۔
پس احکام میں دونوں احتیاطوں کو جمع کیا جائے گا۔ یعنی اس سے نہ عقدِ مناکحت کی اجازت دیں گے، نہ اس کی اقتداء کریں گے، نہ اس کا ذبیحہ کھائیں گے، اور نہ اس پر سیاستِ کافرانہ جاری کریں گے۔ اگر تحقیق کی قدرت ہو تو اس کے عقائد کی تفتیش کریں گے اور اس تفتیش کے بعد جو ثابت ہو ویسے ہی احکام جاری کریں گے۔ اور اگر تحقیق کی قدرت نہ ہو تو سکوت کریں گے اور اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ جل شانہ کے سپرد کریں گے۔ اس کی نظیر وہ حکم ہے جو اہلِ کتاب کی مشتبہ روایات کے متعلق حدیثِ شریف میں وارد ہے:
لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُوۡلُوۡٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَآ اُنۡزِلَ اِلَيۡنَا الآیۃ
ترجمہ: نہ اہلِ کتاب کی تصدیق کرو نہ تکذیب، بلکہ یوں کہو کہ ہم اللہ جل شانہ پر ایمان لائے اور اس وحی پر جو ہم پر نازل ہوئی۔
(جواہر الفقہ: جلد 1 صفحہ 177)