صحابہ کرامؓ غیر مسلموں کی نظر میں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

صحابہ کرامؓ غیر مسلموں کی نظر میں

  ابو معاويہ مسعود الرحمٰن عثمانیؒ

صفحہ 2 از 2
پروفیسر فلپ (Philip Khuri Hitti)  اپنی کتاب ”The Arabs a Short History“ میں لکھتا ہے (صحابہ کرامؓ کے جہادی کارناموں اور غلبہ اسلام کے حوالہ سے) حضرت محمدﷺ کی وفات کے بعد ایک صدی کے اندر ہی آپﷺ کے ہیرو (صحابہؓ) ایک ایسی وسیع و عریض سلطنت کے مالک بن گئے جو رومیوں کو ان کے انتہائی عروج کے وقت بھی نصیب نہ ہوئی تھی اس سلطنت کے دامن اگر ایک طرف خلیج Biscay سے دریائے سندھ اور چین کی سرحدوں تک پھیل گئے تھے تو دوسری طرف ”بحریرہ خوارزم“ اور دریائے نیل کے شمال آبشاروں کو انہوں نے اپنے اندر سمیٹ لیا تھا۔ ریگ زار عرب کے فرزند رسول (ﷺ) کا نام خدائے قدیر اللہ کے نام کے ساتھ دن میں پانچ مرتبہ ان سینکڑوں ہزاروں معبودوں کے بلند میناروں سے پکارا جاتا تھا جو جنوبی یورپ شمالی افریقہ سے لے کر مغربی اور وسطی ایشیاء تک پھیلی ہوئی تھی اس بے نظیر وسعت پزیری کے دور میں مسلمانوں نے اپنے دینی عقائد طرزِ کلام حتیٰ کہ اپنے جسمانی خدوخال کے اعتبار سے بھی غیر قوموں کی آزادی کی جتنی بڑی تعداد اپنے اندر جذب کر لیا تھا اتنی بڑی تعداد میں دنیا کی کوئی قوم آج تک نہ کرسکی نہ یونانی نہ رومی، *صحابہ کرامؓ کے ایمان اور اطاعت پر پروفسیر فلپ مزید لکھتا ہے کہ آپﷺ کی بیوی خدیجہؓ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ اور آپﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت علیؓ نے آپ کی رسالت کو تسلیم کیا اور آپﷺ پر ایمان لائے۔*
(خلفائے راشدینؓ کے متعلق لکھتا ہے) سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کے بعد خلفاء کی فہرست میں علی الترتیب ”سیدنا عمرؓ“ ”سیدنا عثمانؓ“ ”سیدنا علیؓ“ کے نام شریک ہیں۔ یہ چاروں خلفاء رسولﷺ کے قریب ترین صحابی اور رشتہ دار تھے ان کی زندگیاں رسولﷺ کی زندگی کے فیضان سے اتنی اثر پذیر ہوچکی تھیں کہ ان کے اعمال اور خیالات میں اسی نور (محمدﷺ) کا اثر اور اس کی جھلک نمایاں رہی۔
عرب کے فاتح اور متحد کرنے والے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ایک سردار قبیلہ کی سیدھی سادی زندگی بسر کی جب آپؓ خلیفہ ہوئے اس وقت آپؓ ایک معمولی مکان میں اپنی بیوی حبیبہ کے ساتھ رہے تھے۔
اس زمانہ میں اسلامی مملکت کی آمدن کا کوئی ذریعہ نہ تھا اس لیے آپ کو کوئی وظیفہ نہ ملتا تھا۔
سیدنا عمر فاروقؓ اطاعتِ الٰہی کے پیمانے میں بندھے ہوئے تھے۔ ان کی قسمت میں اسلامی مملکت کے قیام میں نمایاں حصہ لینے کی سعادت مقدر ہو چکی تھی۔ خلیفہ ہونے کے بعد بھی آپؓ تجارت کے ذریعہ گزر بسر کرتے تھے۔ عمر کا نام اسلامی روایات کے اعتبار سے عظمتِ شہرت میں حضرت محمدﷺ کے نام کے بعد ہی آتا ہے۔ آپؓ کے زہد و تقویٰ، آپؓ کی انصاف پسندی، بزرگانہ سادگی کی مسلمان مصنفوں نے بھی بہت زیادہ تعریف کی ہے۔
مشہور انگریز  مؤرخ گبن  اپنی کتاب ”زوال سقوطِ روم“ میں خلفاء راشدینؓ کے متعلق لکھتا ہے کہ پہلے چار خلفاء کے اطوار و اوصاف ضرب المثل تھے ان کی کوششیں اخلاص پر مبنی تھیں۔ انہوں نے اپنی زندگیاں اخلاقی فرض کی ادائیگی اور دینی امور کی انجام دہی میں صرف کیں۔
فرانسیسی سکالر  اپنی کتاب تمدن عربی میں لکھتا ہے کہ انہوں (محمدﷺ) نے خلافت کے لیے ایسے لوگوں کو منتخب کیا جن کی اصل غرض غایت دین محمدیﷺ کی اشاعت تھی۔
 مشہور مستشرق مسٹر گارلن  لکھتا ہے مگر آپﷺ نے ان (صحابہؓ) کو اخلاق حسنہ اور بہترین تہذیب تمدن کے وہ درس دیے جس نے نہ صرف ان کو بلکہ پوری دنیا کو انسان بنا دیا۔
 پروفیسر ایچ۔ جی ویلز اپنی کتاب آؤٹ لائن آف ہسٹری میں(The Outline of History) لکھتا ہے کہ پیغمبرﷺ صداقت کا یہی بڑا ثبوت ہے کہ جو آپﷺ کے سب سے زیادہ قریب تھے اور زیادہ جانتے تھے وہی آپﷺ پر سب سے پہلے اسلام لائے پیغمبرﷺ نے ایسی سوسائٹی کی بنیاد رکھی جس میں ظلم اور سفاکی کا خاتمہ کیا گیا۔ 
قلمکار کملا دیوی  لکھتی ہے اے عرب کے مہارش آپﷺ نے دھرم سیوکوں میں وہ بات پیدا کر دی کہ ایک ہی سمے کے اندر وہ جرنیل کمانڈر اور چیف جسٹس بھی تھے اور آقاؤں کے سدھار کا کام بھی کیا کرتے تھے۔
 مہاتما گاندھی لکھتا ہے  اگر ہمارے کانگریسی وزراء عالی وقار چاہتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں ان کا سر اونچا ہو تو وہ صدیقؓ و عمر فاروقؓ کا نمونہ اختیار کریں جن کے قدموں میں دنیا کے خزانے ڈالے گئے اور ملکوں کی دولتیں آئیں مگر اس کے باوجود نہ ان کے پیوند لگے کپڑے چھوٹے، نہ جو کی روٹی اور نہ زیتون کا تیل چھوٹا۔ حسنات و خیرات، عجز و انکساری کا پیکر، دنیا کی محبت سے دور عبادت میں خشوع رکھنے والے اور اللہ کی پرستش کرنے والے تھے۔ وحی کے مطیع ذی وجاہت اور اولیٰ درجہ کے لائق پیرو تھے ان کے اعمال میں پیغمبرﷺ کی جھلک تھی اور آپﷺ کے بعد سب سے بڑے متقی زاہد انصاف پرور تھے۔ آپﷺ پر ایمان لانے والے اور ایمان کی خاطر جان قربان کرنے والے تھے ان کے اخلاقِ حسنہ سے دنیا انسان بنی مہاتما گاندھی اپنے وزراء کو صدیقؓ و عمرؓ جیسا بننے کی تلقین کرتا ہے ۔
مگر افسوس صد افسوس!!!کہ اہلِ تشیع اپنے آپ کو مؤمن کہتے ہیں مگر پیغمبرﷺ کی اس مبارک جماعت کو معاذاللہ برا کہتے ہیں تف ہے ایسے عقیدہ رکھنے والوں پر۔

 پیشکش: دارالافتاء ادارہ دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 2 از 2