صحابہ کرامؓ غیر مسلموں کی نظر میں - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

صحابہ کرامؓ غیر مسلموں کی نظر میں

  ابو معاويہ مسعود الرحمٰن عثمانیؒ

صفحہ 1 از 2


صحابی شریعت کی اصطلاح میں اس شخص کو کہا جاتا ہے جس نے ایمان کی حالت میں حضورﷺ کی صحبت اختیار کی اور آپﷺ کا دیدار کیا ہو ایمان کی حالت میں اس کی موت واقع ہو۔ 
ویسے تو سوا لاکھ انبیاء کی قوموں میں ان پر ایمان لانے والے افراد موجود ہیں لیکن جو مقام حضورﷺ کی تربیت یافتہ جماعت صحابہ کرامؓ کا ہے وہ کسی اور کو نہیں ملا۔ جیسے مقدس نفوس چشم فلک نے نہ اس سے پہلے دیکھا نہ قیامت تک دیکھ سکے گا صحابہ کرامؓ دین کی اساس اور اسلام کی صداقت و حقانیت کی دلیل ہیں۔ اللہ پاک اور رسول اللہﷺ کی رضا خوشنودی کا محور و مصداق ہیں۔
 صحابہ کرامؓ کا مقام قرآن جیسی عظیم لا شک و لاریب کتاب میں اللہ کی زبانی 750 آیات میں واضح طور پر موجود ہے اور حضورﷺ کی مبارک زبان سے بے شمار روایات میں صحابہ کرامؓ کو آسمانِ ہدایت کے چمکتے ہوئے ستاروں سے تشبیہ دی گئی سابقہ کتب سماویہ تورات زبور انجیل میں بھی صحابہ کرامؓ کی شان میں دلائل ملتے ہیں اور پھر تابعین تبع تابعین اولیاء کرام سلف صالحین کی تقاریر اور تحاریر میں بھی صحابہؓ کی شان میں بہت زیادہ مدح سرائی کی گئی ہے مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ اپنے تو خامیاں دیکھ کر بھی تعریف کرتے ہیں اپنوں کی تعریف کوئی کمال نہیں کیونکہ دنیا کا دستور ہے کہ شاگرد استاد کی مرید مرشد کی بیوی اپنے خاوند کی بیٹا اپنے باپ کی تعریف کرتا ہے کمال تو یہ ہے کہ دشمن بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو وہ کمالات اوصافِ حمیدہ دیکھ کر رطب اللسان ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔ صحابہ کرامؓ کے غیر مسلموں کی نظر میں تاثرات پیشِ خدمت ہیں جن سے صحابہ کرامؓ کی عظمت مزید کھل کر سامنے آتی ہے جو صحابہ کرامؓ کو ہدف تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے چہروں پر زور دار طمانچہ کیونکہ یہ ایسے غیر مسلموں کے تاثرات ہیں جو اسلام دشمنی میں تو حد درجہ تک پہنچے مگر صحابہ کرامؓ کے اعلیٰ اخلاق سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے ملاحظہ ہوں!
جن غیر مسلموں نے صحابہ کرامؓ کو آنکھوں سے دیکھا ان کے تاثرات
حضرت عمرو بن العاصؓ نے مصر کے قلعہ کا محاصرہ کیا تو قبطی بادشاہ مقوقس نے قلعہ سے نکل کر جزیرہ مصر میں پناہ لی اور اپنے دو قاصدوں کو خط دے کر مسلمانوں کے پاس ڈرانے کے لیے بھیجا حضرت عمرو بن العاصؓ نے فوراً جواب دینے کی بجائے ان کو اپنے پاس ٹھہرایا اور ان کی میزبانی کی اور مسلمانوں کے شب و روز کے معمولات کو انہوں نے قریب سے دیکھا جب مقوقس کے پاس واپس پہنچے تو اس نے پوچھا بتاؤ مسلمانوں کو تم نے کیسا پایا؟ تو قاصدوں نے جواب دیا کہ ہم نے ایک ایسی جماعت دیکھی ہے جس کے ہر فرد کو موت زندگی سے زیادہ محبوب ہے وہ لوگ عجز و انکساری کو دنیا کی ٹھاٹ باٹ پر فوقیت دیتے ہیں ان کے دل میں دنیا کی حرص و رغبت بالکل نہیں وہ زمین پر بیٹھتے ہیں اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں ان میں سب برابر ہیں کوئی معلوم نہیں ہوتا کہ آقا کون ہے، غلام کون ہے۔ ان کا امیر ایک عام سا آدمی ہوتا ہے اور جب نماز کا وقت ہوتا ہے ان میں سے کوئی پیچھے نہیں رہتا وہ وضو کرکے نماز خشوع سے پڑھتے ہیں یہ صحابہ کرامؓ کی تعریف ہے جو غیر مسلم قاصد اپنے غیر مسلم بادشاہ کے سامنے بیان کر رہے ہیں مقوقس نے جب یہ باتیں سنی تو بے اختیار پکار اٹھا کہ ان لوگوں کے سامنے پہاڑ بھی آ جائیں تو پاش پاش ہو جائیں گے۔
 حترم قارئین! یہ ان غیر مسلموں کے تاثرات ہیں جنہوں نے خود قریب سے صحابہ کرامؓ کو دیکھا تھا جبکہ وہ غیر مسلم جنہوں نے صحابہ کرامؓ کو دیکھا نہیں صرف کتابوں میں پڑھا ہے وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چند غیر مسلم مفکرین اور دانشوروں کے تاثرات پیشِ خدمت ہیں!
غیر مسلم مفکرین کے تاثرات صحابہ کرامؓ کے بارے میں
چنانچہ  سر ولیم میور نصرانی  مؤرخ اور متعصب عیسائی اپنی کتاب ”Life Of Muhammad“ میں لکھتا ہے کہ ہجرت سے 13 سال قبل مکہ ایک ذلیل حالت میں بے جان پڑا تھا مگر ان تیرا برسوں میں کیا ہی عظیم اثر پیدا ہوا سینکڑوں آدمیوں کی جماعت (صحابہؓ) نے بت پرستی چھوڑ کر خدائے واحد کی پرستش اختیار کی اور اپنے اعتقاد کے موافق وحی الٰہی کی ہدایت کے مطیع و منقاد ہوئے اس قادر مطلق سے بکثرت و شدت (صحابہؓ) دعا مانگتے اسی کی رحمت پر مغفرت کے امید رکھتے اور یہ (صحابہؓ) حسنات و خیرات پاک دامنی اور انصاف کرنے میں بڑی کوشش کرتے تھے محمدﷺ کو (ان کی ساری امیدوں کا ماخذ تھے) اپنا حیات تازہ بخشنے والا سمجھتے تھے اور ان کی ایسے طور پر اطاعت کرتے جو آپﷺ کے رتبہ عالی کے لائق تھی۔ (ان صحابہؓ میں سے) ایک سو مرد عورتوں نے اپنا گھر بار چھوڑا مگر ایمان عزیز سے منہ نہ موڑا۔ 
مؤرخ ایڈورڈ گبن(Edward Gibbon) عیسائی (اپنے عیسائیوں کو متوجہ کر کے بیان کرتا ہے) نصف صدی سے کم میں اسلام بہت سے عالیشان اور سر سبز سلطنتوں پر غالب آ گیا جبکہ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو سولی پر لائے تو اس کی پیروکار بھاگ گئے اور مقتداء کو سولی کے نیچے چھوڑ کر چل دیے اس کے برعکس محمدﷺ کے پیروکار صحابہ کرامؓ اپنے پیغمبرﷺ کہ گردو پیش رہے اور آپﷺ کو بچانے کے لیے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر تمام دشمنوں پر اس (رسولﷺ)کو غالب کر دیا۔ 
گاڈفرے ہگینز(Godfrey Higgins)  اپنی کتاب ”Apology From Muhammad“ میں رقم طراز ہے کہ محمدﷺ کے لوگ بڑے ذی وجاہت تھے اور جب وہ خلیفہ و افسر فوجِ اسلام ہوئے تو اس زمانے میں انہوں نے جو کچھ کام کیا ان سے ثابت ہوتا ہے کہ ان میں اول درجہ کی لیاقتیں تھیں اور غالباً وہ ایسے نہ تھے کہ بآسانی دھوکہ کھا جاتے۔
 یہاں سے ان ظالموں کو اپنے عقائد پر شرم آنی چاہیے جو صحابہ کرامؓ کو آج کے دور کی نکٹھو فوجوں کو صحابہؓ پر فوقیت دینے کی بات کرتے ہیں جیسا کہ خمینی کی تحریروں میں یہ بات موجود ہے۔
صفحہ 1 از 2