حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے فضائل ومناقب - دفاعِ…

حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کے فضائل ومناقب

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 2

اس سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ جو شخص صدق دل کے ساتھ اہل بیت نبوت بالخصوص سیدنا حسینؓ سے محبت رکھتا اور آپ کی تعظیم و توقیر کرتا ہے وہ اللہ جل شانہ کی محبت میں آجاتا ہے اور وہ اپنے لیے نجات کا سامان حاصل کر لیتا ہے خود سیدنا حسینؓ نے بھی اس بات کی بشارت دی ہے کہ جو شخص ہم سے اللہ کے واسطے محبت رکھتا ہے تو قیامت کے دن وہ ہمارے اس طرح ہوگا جس طرح دو انگلیاں آپس میں ایک دوسرے سے جڑی ہوتی ہیں یعنی وہ ہمارے قریب اور ساتھ ہوگا کتنا خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس دنیا میں بھی سیدنا حسینؓ کے ساتھ سچی محبت کے بدلے میں روز محشر کی یہ سعادت حاصل کر لے سیدنا حسینؓ فرماتے ہیں: مَنْ أَحَبَّنَا لِلَّهِ كُنَّا نَحْنُ وَهُوَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَاتَيْنِ. 

(المعجم الكبير: جلد 3 صفحہ 125 للطبرانی)

قال من أحبنا للہ وردنا نحن وهو على نبينا هكذا وضم إصبعيه 

(تاریخ دمشق: جلد 14 صفحہ 184، لابن عساکر)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ اپنے دوش مبارک پر سیدنا حسینؓ کو لیے جا رہے تھے کہ ایک شخص نے دیکھا تو کہا صاحبزادے بڑی اچھی سواری پر بیٹھے ہو، رسول اللہﷺ نے سنا تو فرمایا ”وَنِعْمَ الرَّاکِبُ ھُوَ“ کہ سوار بھی تو بہترین ہے 

(اسد الغابۃ: جلد 2 صفحہ 17 ترمذی: جلد 2 صفحہ 219) 

حضرت سلیمانؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضورﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ام ایمن آئیں اور کہا یا رسول اللہﷺ حسن اور حسین رضی اللہ عنہما معلوم نہیں کہاں ہیں مل نہیں رہے اس وقت دن چڑھ چکا تھا حضورﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا کہ چلو میرے دونوں بچوں کو تلاش کریں چنانچہ ہر شخص ان دونوں کی تلاش میں نکل پڑے میں حضورﷺ کے ساتھ تھا یہاں تک کہ ہم ایک پہاڑ کے دامن میں پہنچ گئے تو دیکھا کہ حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما ایک دوسرے کو چمٹے ہوئے کھڑے ہیں اور ان کے قریب ایک کالا سانپ اپنی دم پر کھڑا ہے حضورﷺ جلدی سے ناگ کی طرح بڑھے اور اس نے جب حضورﷺ کو اپنی طرف آتے دیکھا تو وہ مڑ کر چل پڑا اور ایک سوراخ میں داخل ہو گیا حضورﷺ ان دونوں کے قریب ہوئے اور ان دونوں کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں تم دونوں اللہ کے ہاں کتنے قابل احترام ہو پھر آپﷺ نے ایک کو دائیں اور دوسرے کو بائیں کندھے پر بٹھا لیا میں نے کہا کہ تم دونوں کو بشارت ہو کہ تمہاری سواری بہت ہی عمدہ ہے حضورﷺ نے فرمایا یہ دونوں بہت عمدہ سوار ہیں اور ان کے والدین ان دونوں سے بہتر ہے۔ (حیات الصحابہ: جلد 2 صفحہ 869، مجمع الزوائد: جلد 5 صفحہ 182) 

یعلی بن مرہؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک دن حضورﷺ کے ساتھ ایک دعوت میں جا رہے تھے راستہ میں سیدنا حسینؓ کو کھیلتے ہوئے دیکھا تو حضورﷺ انہیں پکڑنے کے لیے آگے بڑھے اور اپنے ہاتھ پھیلا دیے مگر سیدنا حسینؓ ادھر ادھر بھاگنے لگے اور حضورﷺ ان سے مزاح کرنے لگے یہاں تک کہ انہیں جا پکڑا اور اپنا ایک ہاتھ ان کی گدی پر اور اور دوسرا ان کی ٹھوڑی کے نیچے رکھا اور سیدنا حسینؓ کو بوسہ دیا اور فرمایا کہ حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں جو شخص حسین کو دوست رکھتا ہے خدا اس کو دوست رکھتا ہے (اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ) حُسَیْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ حسین اسباط میں سے ایک سبط ہے۔ 

(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 772، لاحمد بن حنبل۔ سنن ابن ماجہ: 51 ش) 

حضرت حذیفہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورﷺ نے فرمایا ایک فرشتہ اترا جو اس سے پہلے کبھی نہ آیا تھا اس نے مجھے سلام کے بعد یہ بشارت پہنچائی کہ سیدہ فاطمہؓ جنت کی عورتوں کی اور حسن اور حسین رضی اللہ عنہما جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ 

(رواہ الترمذی: جلد 5 صفحہ 660، البدایہ: جلد 8 صفحہ 206) 

حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا أَنَّ الحَسَنَ وَالحُسیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ أَھْلِ الجَنَّةِ۔ 

(مسند ابی یعلی: جلد 2 صفحہ 58، سنن نسائی کبریٰ: جلد 5 صفحہ 50) 

سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔

 حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ (1362ھ) فرماتے ہیں حضرت حسینؓ سے زیادہ کون ولی ہوگا جو حضورﷺ کے نواسے اور حد درجہ محبوب تھے جن کے بارے میں پیشنگوئی ہے حسنؓ اور حسینؓ دونوں نوجوان جنت کے سردار ہیں۔

(وعظ حقیقت الصبر، صفحہ 42)


صفحہ 2 از 2