سیدنا حسینؓ کی ایک دعا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا حسینؓ کی ایک دعا

  مولانا اقبال رنگونی

آپؓ کی دعا ملاحظہ کیجیے باوجود یہ کہ آپؓ جوانانِ جنت کے سردار ہیں پھر بھی اللہ تعالیٰ کے آگے آپ اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے کرم کے طلب رکھتے ہیں آپ نے یہ دعا مقام ملتزم کے پاس مانگی تھی: إلهي أنعَمتَ عَلَي فَلَمْ تَجِدني شاكرًا وابْتَلَيتَني فَلَمْ تَجِدني صابِرًا ، فَلا أنتَ سَلَبتَ النَّعْمَةَ بِتَركِ الشّكر، ولا أنتَ أدَمتَ الشَّدّةَ بِتَركِ الصَّبرِ إلهي لا يَكُونُ مِنَ الكَرِيمِ إِلَّا الكَرَمُ 

(بحار الانوار: جلد 96 صفحہ 198) 

اے میرے اللہ اپ نے مجھ پر بے شمار انعامات احسانات فرمائے مگر میں کما حقہ اس کا شکر ادا نہ کر سکا اور مجھے آزمائش میں بھی ڈالا تو (مجھے جیسا صبر کرنا چاہیے تھا) میں ویسا صبر نہ کرسکا پھر بھی آپ نے مجھ سے نعمتیں نہیں چھینی اور صبر نہ کرنے کے باوجود آپ نے مجھے ہمیشہ کے لیے مصیبت اور سختی میں نہیں اتارا اے میرے اللہ آپ تو کریم ہیں اور کریم سے کرم ہی کی امید کی جا سکتی ہے (اس لیے مجھ پر کرم فرما) 

نوٹ: حضرت شیخ عبدالکریم بن ہوازن القشیری رحمۃاللہ (465ھ) اور حضرت علامہ محمد بن محمد الطرطوشی المالکیؒ(520ھ) نے اپنی کتاب سراج الملوک میں اسے سیدنا حسن بن علیؓ کی دعا بتلائی ہے۔