سیدنا حسینؓ کے چند قیمتی اقوال - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا حسینؓ کے چند قیمتی اقوال

  مولانا اقبال رنگونی

1: آپؓ نے فرمایا جس کام کی طاقت نہ ہو اس کو قبول مت کرو، اور جس چیز کو حاصل نہ کر سکو اس کے در پے نہ ہونا، اپنی کمائی کے برابر خرچ کرنا (اسراف نہ کرنا) اور اپنے عمل کے بقدر بدلہ طلب کرو، صرف اللہ کی فرمانبرداری پر مسرت کا اظہار کرو اور وہ چیز استعمال کرو جس کا اپنے آپ کو اہل سمجھتے ہو۔ 

2: بہترین مال وہ ہے جو اپنی عزت اور آبرو کی حفاظت میں کام آئے۔  

3: کسی سے بھلائی کا بدلہ لینے میں جلدی مت کرو کیونکہ روز قیامت اس کا بدلہ تمہیں مل کر رہے گا۔ 

4: آپ نے چند اشعار میں فرمایا کہ ہائے زمانہ تیری دوستی پر افسوس ہے تیرے کتنے ہی دوست اور مطلوب ہیں کہ صبح شام مر رہے ہیں زمانہ بدلہ پر قناعت نہیں کرتا تمام کاموں کی باگ دوڑ درحقیقت اللہ ہی کے ہاتھ ہے اور ہر جاندار نے اس راہ پر چلنا ہے۔ 

5: اسحاق بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک دن سیدنا حسینؓ جنت البقیع (قبرستان) آئے تو آپ نے وہاں چند اشعار پڑھے۔ 

نَادَيْتُ سُكَّانَ الْقُبُورِ فَأَسْكَتُوا

وَأَجَابَنِي عَنْ صَمْتِهِمْ ترب الحصا

قالت أتدري ما فعلت بساكني

مزقت لحمهم وخرقت الكسا 

وحشوت أعينهم ترابا بعدما

كانت تأذى باليسير من القذا

أَمَّا الْعِظَامُ فَإِنَّنِي مَزَّقُتُهَا

حَتَّى تَبَايَنَتِ الْمَفَاصِلُ والشوا 

قطعت ذا زاد من هذا كذا

فتركتها رمماً يطوف بها البلا

اور بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے

لَئِنْ كَانَتِ الدُّنْيَا تُعَدُّ نَفِيسَہً

فَدَارُ ثَوَابِ اللّٰهِ أَعَلَى وَأَنْبَلُ

إِنْ كَانَتِ الْأَبْدَانُ لَلْمَوْتِ أَنشنت

فقتل امرئ بالسيف في الله أَفْضَلُ

وَإِنْ كَانَتِ الْأَرْزَاقُ شَيْئًا مُقَدَّرًا

فَقِلَّةُ سعي المرء في الرزق أجمل

وإن كانت الأموال للترك جمعها

فَمَا بَالُ مَتُرُوكٍ بِهِ الْمَرْءُ يَبْخَلُ

جن کا ترجمہ یہ ہے:

میں نے قبر والوں کو آواز دی تو وہاں سے کوئی جواب نہیں ملا ان کے بجائے قبر کی مٹی اور سنگریزے بولے کہ آپ کو کچھ پتہ ہے کہ میں نے قبر والوں کا کیا حشر کیا ہے سنو میں نے ان کے نرم و نازک جسم کو پارہ پارہ کر دیا اور ان کے کفن کو پھاڑ دیا ہے اور ان کی وہ روشن آنکھیں جو معمولی تنکا گرنے سے بھی تکلیف میں آجاتی تھیں میں نے آج ان آنکھوں میں مٹی بھر دی ہے بدن کو ریزہ کر دیا اور بدن کے ہر حصے کو ایک دوسرے سے علیحدہ کر دیا (قبر نے کہا کہ) جو لوگ یہاں تیاری کے ساتھ آئے تھے (یعنی سج سجا کر) میں نے ان کے بھی ٹکڑے کر دیے اور ان کو ایسا ڈراؤناک بنا دیا ہے کہ اب سوائے مٹی اور ٹوٹ پھوٹ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا (بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے) دنیا کتنی ہی حسین صورت میں کیوں ظاہر نہ ہو مگر جنت تو اس سے کہیں اعلیٰ اور افضل ہے یہ بدن تو مرنے کے لیے بنا ہے تو پھر اللہ کی راہ میں شہید ہونا کتنی اونچی بات ہے اگرچہ رزق ایک مقرر شداہ چیز ہے مگر طلب معاش کے لیے بھی انسان کی کوشش اچھی بات ہے مال اگرچہ چھوڑنے کے لیے ہی جمع کیا جاتا ہے مگر اس چھوڑنے والی چیز میں بھی انسان کنجوسی سے کام لیں تو (خود سوچ لے کہ) اس کا انجام کیا ہوگا۔ 

(البدایہ: جلد 8 صفحہ 228)