حضرت زین العابدینؒ تقیہ کے قائل نہ تھے - دفاعِ اہلِ سنت |…

حضرت زین العابدینؒ تقیہ کے قائل نہ تھے

  مولانا اقبال رنگونی

حضرت زین العابدینؒ کے صاحبزادے حضرت محمد باقرؒ کہتے ہیں میں اپنے والد حضرت زین العابدینؒ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ بنی امیہ کی اقتداء میں بغیر کسی تقیہ کے نمازیں پڑھا کرتے تھے اور ہمارا بھی یہی معمول ہے۔

عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ: إِنَّا لَنُصَلِّي خَلْفَهُمْ فِي غَيْرِ تَقِيَّةٍ وَأَشْهَدُ عَلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي خَلْفَهُمْ فِي غَيْرِ تَقِيَّةٍ۔ (طبقات: جلد 5 صفحہ 164)

آپ کی وفات 94ھ کو مدینہ میں ہوئی اور جنت البقیع میں آپ کی تدفین عمل میں آئی تھی۔

نوٹ: جس طرح سیدنا حسینؓ کی شہادت کے بعد شیعہ گروہ امامت کے عنوان پر ایک دوسرے کے مقابل آگیا اور ہر کوئی اپنی پسندیدہ شخصیت کو امام بتانے لگا اسی طرح سیدنا علی بن حسینؓ کی وفات کے بعد بھی امامت کے مسئلہ پر ایک طوفان کھڑا ہو گیا تھا۔

شیعہ روایات بتاتی ہیں کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کے صاحبزادے حضرت زید نے دعویٰ امامت کر دیا (ان کی امامت کے قائلین کو زیدیہ کہا جاتا ہے) اور وہ چالیس ہزار کا لشکر لے کر عراق کے حاکم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے مگر ان میں سے تیس ہزار نے عین موقع پر آپ سے بے وفائی کر لی اور حضرت زید شہید کر دیے گئے۔

انہی دنوں کچھ لوگ حضرت حسن مثنیٰ بن حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی امامت کے قائل ہوئے ان کے بعد ان کے بیٹے عبداللہ محض، پھر ان کے بعد ان کے پوتے محمد نفس زکیہ کی امامت کے قائل ہوئے اور انہوں نے آپ کو امام مہدی سمجھا۔

ایک گروہ حضرت زین العابدینؒ کے بعد آپ کے دوسرے بیٹے حضرت محمد باقرؒ کی امامت کا قائل ہوا اس گروہ میں چار لوگ ایسے تھے جن کے بارے میں حضرت جعفر صادقؒ کہتے ہیں کہ وہ اگر نہ ہوتے تو ہمارا کہیں ذکر بھی نہ ہوتا۔ زرارہ، ابو بصیر، محمد بن مسلم، برید بن معاویہ۔ (شیعہ کتاب رجال کشی: صفحہ 135)

ہم اس وقت اس تفصیل میں نہیں جاتے کہ ان چاروں نے اہل بیت نبوت کے نام پر کس قدر شرمناک تماشا برپا کیا اور ان بزرگوں کے نام سے کتنی شرمناک روایات وضع کر ڈالیں یہ بات خود شیعہ علماء بھی تسلیم کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جب ان بزرگوں کو ان خرافات کا پتہ چلتا تو وہ ان پر لعنتیں بھیجا کرتے تھے اور ان کو پرلے درجے کا جھوٹا کہتے تھے۔