شیعہ مناظر کے نامکمل دلائل اور اہل سنت علماء امام عسقلانی،…

شیعہ مناظر کے نامکمل دلائل اور اہل سنت علماء امام عسقلانی، بدرالعینی کی عبارات سے من پسند مفہوم نکالنے کا حشر نشر، کیا سیدہ فاطمہ کی تدفین رات کو خاموشی میں کی گئی؟ امام زہری کے ادراج پر تحقیق،انبیائے کرام کے گمان جو درحقیقت درست نہیں تھے۔(قرآن کریم کی روشنی میں) صحیح بخاری کی مطالبہ فدک والی حدیث اور اس میں راوی ابن شہاب الزہری کے ظن یا گمان کا ثبوت۔(قسط 13)

  جعفر صادق

صفحہ 3 از 5

حضرت عبداللہ بن عمرؓ کی ایک روایت حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہؓ کے سامنے پیش کی گئی تو فرمایا

اما انہ یکذب ولکنہ نسی آؤ اخطا

ہاں وہ جھوٹ نہیں بولتے لیکن بھول گئے یا  خطا  کی۔

  اگر علمائے اہلِ سنت کا دعوی ہوتا  کہ صحیح بخاری کے راوی غلط فہمی سے منزہ ہیں، خطا سے پاک ہیں، لغزش سے مبرا ہیں تو واقعی  راوی کے گمان  والا جواب قابل سماعت نہ ہوتا۔مگر اس قسم کا دعویٰ علمائے اہلِ سنت میں سے کسی نے نہیں کیا۔ پس یہ جواب صحیح ہے کہ اس حدیث میں راوی نے جو گمان پیش کیا ہے وہ درست نہیں ہیں۔

امام بخاری کے صحیح ہونے کا معنی یہ ہے کہ اس کتاب کے اندر جس قدر راوی ہیں وہ ثقہ ہیں، عادل ہیں ، ضابط ہیں، کوئی ان میں وضاع نہیں اور نہ کوئی ان میں کذاب ہے۔صحیح بخاری کے صحیح ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قرآن پاک کی طرح صحیح ہے۔اللہ عزوجل قرآن حکیم کے بارے میں فرماتے ہیں ذالک الکتاب لاریب فیہ

یہ کتاب ایسی ہے جس میں کسی قسم کے شبہ کی گنجائش نہیں۔

معلوم ہوا کہ دنیا میں قرآن حکیم کے علاوہ کوئی کتاب اس شان کی نہیں۔

اہلِ سنت نے کبھی بھی اس قسم کا دعویٰ صحیح بخاری کے متعلق نہیں کیا۔ دوسری بات یہ کہ امام بخاری کی کتاب کے اندر کسی راوی کی غلط فہمی دریافت کر لینے سے کتاب کی شان کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا۔

امام زہری اصل حدیث میں اپنی طرف سے بھی اضافہ بطور تفسیر کر دیتے تھے تاکہ حدیث کی وضاحت ہو جائے،  یہاں تک کہ ان کے ہم عصر علماء بھی امام زہری کو کہتے تھے کہ حدیث بیان کرتے وقت اضافہ نہ کرو یا کوئی فرق کرو۔دوسری بات امام زہری کا اضافہ سو فیصد درست ہو یہ بھی ضروری نہیں ہے۔

 اب میں شیعہ کتب سے دکھاتا ہوں کہ سیدہ فاطمہؓ کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کو خبر تھی یا نہیں؟

 شیعہ کتاب حیات القلوب کے مطابق سیدہ فاطمہؓ نے نبی کریم سے وعدہ کیا تھا کہ میں کسی پر بھی غضب ناک نہیں ہونگی۔

آپ کے جوابات کسی کام کے نہیں ہیں کیونکہ وضاحت طلب نکات کے جوابات ہی آپ کو حق پر ثابت کر سکتے ہیں۔  میرا  ایمان ہے کہ آپ قیامت تک جواب نہیں دے سکتے۔میرے پاس آپ کی تحاریر سے بھی زیادہ تحاریر موجود ہیں۔ لیکن میں کاپی پیسٹ کے بجائے نکتہ بہ نکتہ بات کلیئر کرتا ہوں۔ آپ نے بھی یہی ارادہ ظاہر کیا تھا۔ بدقسمتی سے آپ دو ٹوک گفتگو نہیں کر سکے اور بار بار کاپی پیسٹ کرتے آ رہے ہیں۔ 

آپ نے شرائط پر بھی عمل نہیں کیا۔  وضاحت طلب نکات کے جواب  بھی نہیں دئے۔نکتہ کلیئر کرنے کے بجائے دوسرے حصے  ب پر گفتگو کی کوششیں الگ کی  ہیں۔ طے شدہ وقت سے پہلے یک طرفہ جوابات دیئے اور وہ بھی اصل نکتے سے ہٹ کر ایسے اعتراضات کے جوابات دئے ہیں  جو میں نے کئے ہی نہیں  !

 آپ کے پاس آج رات تک ٹائم ہے۔ میرے اہم سوالات کے علمی جواب دیں، بصورت دیگر گفتگو آج رات ختم کردی جائے گی۔  دو طرفہ گفتگو اس وقت ہوتی ہے جب دونوں طرف سے ایک دوسرے کی باتوں کا رد کیا جاتا ہے اور وضاحتوں کے علمی جواب دیئے جاتیں ہیں۔آپ نے میرے الزامی جوابات اور اپنی صحیح  شیعہ روایات کو بھی ذاتی تاویلات سے  اڑا دیا۔  میرے دلائل اور وضاحتوں کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔ اس طرح فضول وقت ضائع کرنے سے میں پرہیز کرتا ہوں۔ رات کو آپ کی طرف سے کوئی ڈھنگ کا جواب آیا  تو  یہ گفتگو جاری رہے گی ورنہ گفتگو اختتام کو پہنچ جائے گی۔ والسلام

شیعہ مناظر: واہ جی واہ۔ ممتاز صاحب۔ آپ کی چالاکی کو داد دیتا ہوں لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ، آپ نے میرے مطالب کا بغور یا مطالعہ نہیں کیا ہے یا مطالعہ کیا  تو پھر جہاں آپ کو  ڈٹ کر جواب دینا چاہیے تھا ادھر کا آپ نے رخ بھی نہیں فرمایا ہے۔جہاں جواب دینے کی کوشش کی ہے وہ تکراری باتیں ہیں جن کا جواب میری اسی پوسٹ میں موجود ہے اور ان میں سے اکثر اسکین اور جوابات میرے حق میں ہیں لہٰذا مرحبا  لنا صرنا۔

 میں نے اب یہی مناسب سمجھا ہے کہ آپ کیونکہ مجھے ہی قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب دکھانے کی کوشش میں ہے جبکہ میں اپنے  کئے ہوئے  وعدے کے مطابق  آگے بڑھ  رہا ہوں اور اس پر دوسرے اہلِ سنت کے دو  ایڈمن بھی گواہ ہیں۔ میں نے انتہائی فراخ دلی سے کام لے کر گروپ خود ہی بنایا لیکن سارے ایڈمن اہلِ سنت کے ہی رکھ دیے ہیں۔  اب میں  آپ کو سابقہ گفتگو میں جو طے ہوا تھا وہ ایک بار پھر یاد دلاتا اور دکھاتا ہوں۔  میرے مدعا کی روشنی میں ہماری بحث تین مرحلوں پر مشتمل ہوگی۔

 پہلا مرحلہ  جو شیعہ کہتے ہیں وہ صحیح سند آپ کی معتبر ترین کتابوں میں  (خاص کر صحیحین میں) موجود ہیں۔

دوسرا مرحلہ جناب زہرا نے واقعی معنوں میں  مطالبہ کیا اور آپ  ناراض ہوئیں اور مولی علی بھی ان کے ساتھ ہم عقیدہ تھا اور جناب فاطمہ اسی نظریے کے ساتھ دنیا سے گئیں  (یہ باتیں خاص کر آپ کی صحیحین میں ہیں)

تیسرا مرحلہ یہ ثابت کرنا ہے کہ حق جناب فاطمہ کے ساتھ تھا اور جناب خلیفہ نے آپ کا حق آپ کو نہیں دیا۔ مندرجہ بالا تین مراحل کے مطابق مرحلہ وار گفتگو  ہوگی۔

 محترم یہ پہلے مرحلے سے متعلق نہیں ہے بلکہ  تیسرے مرحلے کی بحث ہے۔جناب معاویہ سے  یہ بحث اسی لیے نہیں ہوسکی تھی کیونکہ انہوں نے بھی تقریبا  آپ  جیسی تجویز دی تھی۔میں یہ بحث ہی اسی لیے کر رہا ہوں تاکہ یہ سمجھا سکوں کہ اس بحث میں شیعوں پر جو الزامات لگائے جاتے ہیں وہ سب اہلِ سنت کی صحیحین میں موجود ہیں۔جیساکہ میں نے تفصیلی مدعا میں بتایا ہے  یہاں ایک اصل ہے ایک فرع ۔اصل یہ ہے کیا مطالبہ ہوا تھا  یا نہیں اور مطالبہ منظور نہ ہونے کی وجہ سے ناراضگی اور بائیکاٹ کی باتیں صحیحین میں صحیح سند ہیں یا نہیں؟

صفحہ 3 از 5