شیعہ مناظر کے نامکمل دلائل اور اہل سنت علماء امام عسقلانی،…

شیعہ مناظر کے نامکمل دلائل اور اہل سنت علماء امام عسقلانی، بدرالعینی کی عبارات سے من پسند مفہوم نکالنے کا حشر نشر، کیا سیدہ فاطمہ کی تدفین رات کو خاموشی میں کی گئی؟ امام زہری کے ادراج پر تحقیق،انبیائے کرام کے گمان جو درحقیقت درست نہیں تھے۔(قرآن کریم کی روشنی میں) صحیح بخاری کی مطالبہ فدک والی حدیث اور اس میں راوی ابن شہاب الزہری کے ظن یا گمان کا ثبوت۔(قسط 13)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 5
2۔سبحن الذی  سورہ الكهف : آیت 71
فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیۡنَۃِ خَرَقَہَا ؕ قَالَ اَخَرَقۡتَہَا لِتُغۡرِقَ اَہۡلَہَا ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا اِمۡرًا

ترجمہ:  پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے، خضر نے اس کے تختے توڑ دیئے، موسیٰ نے کہا کیا آپ اسے توڑ رہے ہیں کہ کشتی والوں کو ڈبو دیں، یہ تو آپ نے بڑی (خطرناک) بات کردی ۔

 غور کریں۔ کیا واقعی سیدنا خضر علیہ السلام کشتی والوں کو ڈبونا چاہتے تھے؟؟

یا یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا اپنا گمان تھا؟

3۔  سبحن الذی   سورہ الكهف : آیت 74
فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰی   اِذَا  لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَہٗ ۙ قَالَ  اَقَتَلۡتَ نَفۡسًا  زَکِیَّۃًۢ بِغَیۡرِ  نَفۡسٍ ؕ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا نُّکۡرًا 

ترجمہ : پھر دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک لڑکے کو پایا، خضر نے اسے مار ڈالا، موسیٰ نے کہا کہ کیا آپ نے ایک پاک جان کو بغیر کسی جان کے عوض مار ڈالا ؟ بیشک آپ نے تو بڑی ناپسندیدہ حرکت کی ۔

   غور کریں! سیدنا موسیٰ علیہ السلام اس آیت میں حضرت خضر علیہ السلام پر ناحق قتل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں!!

4۔  قالَ يَا ابْنَ أُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِي وَلَا بِرَأْسِي ۖ إِنِّي خَشِيتُ أَنْ تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِي ( سورت طهٰ 94)

 ترجمہ: کہنے لگے کہ بھائی میری داڑھی اور سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیئے۔ میں تو اس سے ڈرا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا اور میری بات کو ملحوظ نہ رکھا۔

  غور کریں! حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کی گمراہی کا ذمہ دار حضرت ھارون علیہ السلام کو سمجھ کر ان سے زبانی و جسمانی جھگڑا کردیا۔

ان تمام مثالوں سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ظن یا گمان درست اور غلط  ہوسکتا ہے اور یہ کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ ایک اندازہ ہے، جس پر کوئی پکڑ نہیں کیونکہ گمان کرنے والے کی نیت نیک ہوتی ہے۔

الحمدلللّٰہ ۔۔ قرآن کریم کی نصوصِ صریحہ کے ساتھ یہ ثابت ہوگیا کہ ایک نبی جو سُنی و شیعہ کے ہاں بالاتفاق معصوم عن الخطاء ہے اور وہ نبی اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ بھی رہا ہے  اس کے باوجود اس کا گمان خلافِ حقیقت ہوسکتا ہے تو  ایک ایسا بندہ جو نہ معصوم عن الخطاء ہے اور نہ ہی روایات بیان کرنے میں محتاط ہے بلکہ مدلس ہے اور وہ واقعہ کے وقت موجود  بھی نہیں ہے، بلکہ اس وقت تو  پیدا ہی نہیں ہوا تھا، اسکا وہ گمان جو دوسرے قرائن سے رد ہوتا ہے۔  اس کے علاوہ وہ روایت بھی منقطع ہو ، خبر اتحاد ہو اور کوئی بھی دوسرا  راوی ایسی بات روایت نہ کر رہا ہو تو ایسی روایت سنیوں کو زبردستی منوانا  اس بات کی دلیل ہے کہ سنیوں سے زیادہ روئے زمین پر کوئی مظلوم نہیں۔

ایک مختصر تحقیق

صحیح بخاری کی ایک حدیث پیش کرتے ہوئے استدلال پیش کیا گیا کہ    

سیدہ فاطمہؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے مطالبہ فدک کو تسلیم نہ کرنے پر سخت ناراض تھیں اور آخر وقت تک ترک کلام کیا اور اسی لئے سیدہ کا جنازہ رات کو پڑھ کر تدفین کی گئی، حضرت ابوبکرؓ کو اطلاع نہیں دی گئی۔

اس مکمل حدیث کو پڑھ کر اور سمجھ کر دوسری صحیح روایات کی روشنی میں  اصل حقائق جانتے ہیں۔

 ایک منصف مزاج انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ صرف ایک حدیث یا  ایک طرق سے کوئی نتیجہ نکال کر خود فیصلہ کرلے۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی واقعے کو جانچنے کے لئے اس کے متعلق تمام صحیح روایات کو یکجا کیا جائے  ، تا کہ ہر ایک راوی کا انداز بیان سمجھتے ہوئے اصل واقعے سے مکمل آگاہی حاصل ہوسکے۔

  سیدہ فاطمہؓ کی طرف سے حضرت ابوبکر صدیقؓ سے مطالبہ فدک کی احادیث اور تاریخی روایات با سند کتب سے تقریبآ 36 مقامات پر دریافت ہوئی ہیں۔ 

ان مقامات میں مذکورہ واقعہ بعض جگہ مفصل ہے اور بعض جگہ مختصر بیان ہوا ہے۔ غور و فکر سے واضح ہوا ہے کہ تمام 36 مقامات میں سے گیارہ عدد روایات وہ روایات ہیں جن کی سند میں ابنِ شہاب زہری نہیں ہے۔ دوسرے صحابہ کرامؓ مثلاً حضرت ابوھریرہؓ ، ابوالطفیل عامر بن واثلہ ام بانی وغیرہم سے یہ روایات مروی ہیں۔ یعنی سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے منقول نہیں ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہاں کسی ایک مقام پر رنجیدگی و کشیدگی کا نام و نشان نہیں۔  پچیس مقامات جن کی سند میں ابن شہاب الزہری موجود ہے ، دو طرح کی روایات ہیں۔

1۔ ایک صورت یہ ہے کہ سند میں زہری موجود ہونے کے باوجود مناقشہ نما الفاظ بالکل مفقود ہیں اور کشیدگی سیدہ فاطمہ کا کوئی تذکرہ نہیں، ایسے مقامات تقریبآ نو عدد ہیں۔

2۔  دوسری صورت یہ ہے کہ روایات میں وجدد و عدم تکلم وغیرہم منقول ہیں، ان مقامات کی ہر سند میں زہری موجود ہے۔ تقریبآ سولہ مقامات ہیں۔

   تحقیق کے مطابق تقریباً 16  مختلف مقامات پر اس اہم واقعے کو رنجیدگی سے بیان کیا گیا ہے۔

  جن روایات میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جواب سن لینے کے بعد سیدہ فاطمہؓ کا غضبناک ہو جانا، ناراض ہو جانا، حضرت ابوبکرؓ کو چھوڑ دینا، کلام نہ کرنا وغیرہ مذکور ہے ، ان تمام روایات میں "ابن شہاب الزہری"  ہی اس واقعے کو آگے بیان کر رہا ہے۔

  کافی تحقیق کے بعد بھی کوئی ایک روایت ایسی نہیں مل سکی جہاں سیدہ فاطمہ کی ناراضگی و ہجران کا ذکر موجود ہو اور وہ روایت "ابن شہاب الزہری"کے بغیر کسی دوسرے راوی سے مروی ہو۔

کس قانون کے تحت ہم یہ کہتے ہیں کہ “ناراضگی سیدہ فاطمہ” اصل روایت میں “ابن شہاب الزہری” کا ظن (گمان) ہے-

1۔ اگر واقعی سیدہ فاطمہؓ غضب ناک ہوئی ہوتیں تو اصل روایت میں بزبان خاتون جنت حضرت ابوبکر کے خلاف ایک دو جملے ضرور موجود ہوتے۔

 اگر شیعہ بضد ہیں کہ اس حدیث سے سیدہ فاطمہؓ کا  ناراض ہونا ثابت ہے تو سیدہ فاطمہ کی زبان مبارک سے ناراضگی کے وہ الفاظ دکھائیں۔  قیامت تک کوئی مائی کا لال نہیں دکھا سکتا!

غور فرمائیں ۔۔اس حدیث میں  غضبت علی ابی بکر صدیق   

یا اسی قسم کے الفاظ کہیں بھی مذکور نہیں ہیں۔

 اب میں صحیح بخاری کی مطالبہ فدک والی حدیث اور اس میں راوی ابن شہاب الزہری کے ظن یا گمان کو ثابت کرتا ہوں

بڑے بزرگ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس سے ان کے عادل ثقہ ہونے پر کوئی حرف نہیں آتا۔

صفحہ 2 از 5