فقیہ الامت، حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمۃاللہ کا…

فقیہ الامت، حضرت مولانا مفتی محمود الحسن گنگوہی رحمۃاللہ کا فتویٰ


شیعوں کے عقائد و افعال اور ان کے ذبیحہ کا شرعی حکم:

سوال: 1: اہلِ سنت والجماعت ہونے کے لیے کیا شرط ہے؟ کیا وہ آدمی بھی سنی ہو سکتا ہے جو یہ کہے کہ میری والدہ سنی تھیں اور میرے باپ شیعہ؟ اور شخصِ مذکور نے جس عورت سے نکاح کیا ہے وہ کٹر قسم کی شیعہ ہے۔ حتیٰ کہ ان صاحب نے اپنی لڑکی کا نکاح شیعہ مجتہد کے لڑکے سے کیا ہے۔ یہ صاحب شیعوں کے ماتمی جلوسوں میں باقاعدگی سے شریک ہوتے ہیں اور سنی کا دم بھی بھرتے ہیں۔ موجودہ امام صاحب سے پہلے امام مسجد کا فیصلہ تھا کہ یہ شخص شیعہ ہے۔ اور اگر یہ اپنے آپ کو سنی کہتا ہے تو اس کا نکاح شیعہ عورت کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ اور موجودہ امام صاحب کا بھی یہی فتویٰ ہے کہ یہ غالی قسم کا شیعہ ہے اور تقیہ باز ہے۔ اور اس کی بات ناقابلِ احتمال ہے کہ شیعہ سنی کا نکاح آپس میں ہو سکتا ہے؟

2: ایک شخص جو خود ساختہ سنی ہونے کا دعویدار ہے، حالانکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ شخص شیعہ ہے۔ اور امام صاحب شیعوں اور رافضیوں کو دائرہ اسلام سے خارج تصور کرتے ہیں۔ اور امام صاحب نے مسلمانوں کی کثیر جماعت کی موجودگی میں جمعۃ المبارک کے دن اعلان کیا کہ میں کسی شیعہ کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھاؤں گا اور نہ کسی سنی کو شیعہ یا رافضی کے جنازے میں کھڑا ہونے دوں گا۔ ورنہ وہ سنی اسلام سے خارج ہو جائے گا اور تجدیدِ اسلام اور تجدیدِ نکاح دوبارہ کرنا ہو گا۔ کیا سنی مسلمان، شیعہ رافضی کی نمازِ جنازہ پڑھ سکتا ہے کہ نہیں؟ اور ایسا کرنے والوں کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟

3: کوئی سنی ہونے کا دعویدار کسی ذاتی مخالفت کی بناء پر شیعہ سنی مسئلہ پر کسی امامِ مسجد کے بارے میں یہ کہے کہ میں نے فلاں مسلمان کے جنازے کی نماز امامِ مسجد کے پیچھے نہیں، شیعان کے اقتداء میں پڑھی ہے۔ تو ایک دوسرے مسلمان نے سوال کیا کہ سوچ سمجھ کر کہہ رہے ہو؟ تو اس نے کہا: ہاں، بلکہ فرضِ عین کی اقتداء بھی شیعان کے پیچھے کی ہے۔ میں نمازِ فرض اور دیگر نمازیں اس امام کی بجائے شیعان کی اقتداء میں پڑھتا ہوں۔ اس فعل سے تین توہین کے پہلو نکلے: (1) فرض نماز (2) نمازِ جنازہ (3) میت کی توہین۔

امامِ مسجد جس کے پیچھے خلقِ کثیر نماز پڑھتی ہے، ایسے شخص کے لیے شرعی حکم کیا ہے؟ مسلمانانِ ورکنگ نے تو اس کو اپنی جماعت سے خارج کر دیا ہے اور میل جول ختم کر دیا ہے۔ شرعی طور پر اس کا حل فرمایا جائے۔

4: کیا شیعہ کے پیچھے نمازِ جنازہ، شیعہ میت کی ہو سکتی ہے کہ نہیں؟ اگر سنی اہلِ سنت کے امام کے انکار کی وجہ سے دوستی ہونے کے سبب شیعہ کی نمازِ جنازہ میں شریک ہو جائیں تو ان کے لیے کیا شرعی حکم ہے؟

5: شیعہ کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے یا نہیں؟ اور ان سے لین دین کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جبکہ ایک سنی مسلمان کی دکان موجود ہو تو کون سی بہتر ہے؟

6: کیا یہ ثابت ہے کہ شیعہ سنی کو چائے اور پانی وغیرہ میں تھوک کر کے پینے کو دیتے ہیں؟

جواب: حضور اکرمﷺ نے جو عقائد، اعمال، اخلاق تعلیم فرمائے ان کو اختیار کرنے والے حضرات اہلِ سنت کہلاتے ہیں۔ اولاً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان کو اختیار کیا، پھر اس کے بعد دوسروں نے اس کی پیروی کی: هم ما أنا عليه وأصحابی۔

شیعہ مذہب کا بانی ابنِ سبا یہودی تھا۔ اس نے انتہائی تلبیس سے اس کا پرچار کیا۔ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے مسلمانوں میں گھسا اور اعتقادی و عملی بددینی پھیلائی۔ شیعوں کی کتاب اصول میں لکھا ہے کہ حضور اکرمﷺ کے تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسلام پر باقی رہے تھے اور باقی سب مرتد ہو گئے تھے۔ (نعوذ باللہ) 

نیز قرآنِ کریم کو یہ لوگ محرف مانتے ہیں۔ فصل الخطاب میں تصریح ہے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ جو قرآن اللہ جل شانہ نے نازل فرمایا تھا اس کو لے کر امامِ مہدی غارِ سرمن رائی میں روپوش ہو گئے۔ اس کے بعد جو قرآنِ کریم کے نام سے موجود ہے وہ بیاضِ عثمانی (حضرت عثمانؓ کی نوٹ بک) ہے۔ نیز حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگانا ان لوگوں میں عام طور پر واضح ہے۔ ان کے بنیادی مسلک میں ہے کہ جہاں تک ہو سکے اہلِ سنت والجماعت کو اذیت پہنچاؤ، نجاست میں ملوث کرو، نجاست کھلاؤ پلاؤ، ان کی نمازیں خراب کرو وغیرہ وغیرہ۔

ایک شیعہ مسلمانوں کی مسجد میں سنی بن کر نماز کے لیے آتا تھا۔ صفِ اول میں کھڑا ہوتا اور اقامت کی حالت میں اپنی داڑھی کو حرکت دیتا تھا، جو بھیگی ہوئی رہتی تھی۔ اس میں قطرات دائیں اور بائیں نمازیوں پر اور مسجد کی صف پر پڑتے تھے۔ وہ قطرات پانی کے نہیں تھے بلکہ داڑھی کو پیشاب میں بھگو کر لاتا تھا۔ تحقیق ہونے پر اس کی مرمت کی گئی۔

یہ شیعہ اسلام سے بالکل خارج ہیں۔ ان کا نکاح کسی بھی سنی مرد و عورت سے جائز نہیں۔ یہ مر جائیں تو ان کی نمازِ جنازہ بھی نہیں۔ ایسے شخص کو امام بنانا بھی اپنی نماز کو برباد کرنا ہے۔ 

ان کے مذہب میں تقیہ ایسی چیز ہے کہ جب چاہیں اپنے آپ کو کافر کہہ دیں، جب چاہیں مسلمان۔ اپنے آپ کو شیطان بھی کہہ سکتے ہیں۔ اور ایسے ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی شیطان سے تعبیر کرتے ہیں، جن کے ایمان پر حضرت نبی کریمﷺ نے پورا اطمینان ظاہر فرمایا۔ ایسے لوگوں کا ذبیحہ بھی درست نہیں۔  

امید ہے کہ آپ کے سوالات کا جواب آ گیا ہو گا۔  

(فتویٰ محمودیہ: جلد 2 صفحہ 22)