حضورﷺ نے کسی کو اپنا وصی نہیں بنایا
مولانا اقبال رنگونیمصعب کہتے ہیں کہ ان سے یہ بھی کہا گیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے سیدنا علیؓ کے لیے اور سیدنا علیؓ نے سیدنا حسنؓ کے لیے اور سیدنا حسنؓ نے سیدنا حسینؓ کے لیے (علی ھذا القیاس) امامت کی وصیت کی تھی (کہ ان کے بعد یہ اور ان کے بعد وہ امام ہوں گے) آپ نے جواب دیا کہ خدا کی قسم میرے والد کا اس حال میں انتقال ہوا کہ انہوں نے اس باب میں دو حرف کی بھی وصیت نہ کی تھی جو لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں وہ ہماری طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے اہل بیت کے نام پر اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔
وَاللَّهِ لَمَاتَ أَبِي وَمَا أَوْصَى بِحَرْفَيْنِ، قَاتَلَهُمُ اللَّهُ إِنْ كَانُوا إِلَّا يَأْكُلُونَ بِنَا۔
(تہذیب الکمال: جلد 21 صفحہ 467)
ایک مرتبہ کسی نے آپ سے سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے بارے میں پوچھا کہ آپ کی ان کے بارے میں کیا رائے ہے آپ نے حضورﷺ کے روضہ اطہر کی طرف اشارہ فرمایا اور کہا کہ ان کے مقام و مرتبہ کے لیے بس یہی کافی ہے کہ وہ سرورِ دو عالم حضرت محمد رسول اللہﷺ کے ساتھ آرام فرما ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء: صفحہ 2770، تہذیب: جلد 7 صفحہ 306)
