سیدنا حسینؓ کی خطابت اور آپؓ کی مجالسِ دروس - دفاعِ اہلِ…

سیدنا حسینؓ کی خطابت اور آپؓ کی مجالسِ دروس

  مولانا اقبال رنگونی

سیدنا حسینؓ اپنے وقت کے بڑے خطیب تھے اور آپؓ کو یہ فن اپنے والد محترم سے ملا تھا آپؓ کے بعض خطبات اس کے شاہد ہیں۔ مسجدِ نبوی میں آپؓ کی مجلس لگا کرتی تھی جس میں دور دور سے لوگ آتے اور آپؓ سے فیض لیتے تھے۔

ایک مرتبہ سیدنا معاویہؓ نے ایک آدمی کسی کام کے لیے مدینہ منورہ بھیجا تو اس سے کہا کہ جب تم مسجدِ نبوی جاؤ گے تو وہاں دیکھو گے کہ ایک علمی مجلس قائم ہے اور وہ مجلس اس قدر پروقار اور پُرسکون ہو گی جیسے پرندے ان سب کے سروں پر بیٹھے ہوں تو سمجھ لینا کہ یہ سیدنا حسینؓ کا حلقہ ہے۔

(تہذیب تاریخ ابن عساکر: صفحہ 322 لابن بدران)

نوٹ: بعض علماء نے اپنی کتابوں میں آپ سے کیے گئے سوالات کے جوابات نقل بھی کیے ہیں۔

ایک اور مرتبہ سیدنا معاویہؓ نے اپنے ایک خادم کے ہمراہ چند تحائف سیدنا حسینؓ کے پاس بھیجے، جب وہ خادم واپس آیا تو آپؓ نے اس سے پوچھا کہ سیدنا حسینؓ سے کہاں ملاقات ہوئی تھی؟ اس نے کہا مسجد میں، آپؓ نے پوچھا، وہ کیا کر رہے تھے خادم نے بتلایا کہ آپؓ قرآن اور حدیث کا درس اور مطلب سمجھا رہے تھے سیدنا معاویہؓ نے یہ سن کر فرمایا خدا کی قسم حسین کو قرآن و حدیث کا بے پناہ شوق ہے۔ 

(تذکرۃ الشہادہ)

سیدنا حسینؓ کا علم و فضل بڑا مشہور تھا آپؓ جہاں جاتے لوگ آپؓ کے پاس آجاتے اور اپنے علم کی پیاس بجھاتے تھے مدینہ منورہ میں آپؓ کی مجلس علم لگا کرتی تھی جب آپؓ مکہ تشریف لے آئے تو اہل مکہ کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی پورے ذوق و شوق کے ساتھ آپؓ کی مجلس میں آجاتے جو دوسرے علاقوں سے مکہ مکرمہ آیا کرتے تھے اور آپؓ کی صحبت سے بھرپور فائدہ اٹھایا کرتے تھے۔