سیدنا حسینؓ علم و فضل کے مقام پر - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسینؓ علم و فضل کے مقام پر

  مولانا اقبال رنگونی

ارباب سیر اس پر متفق ہیں کہ سیدنا حسینؓ علم و فضل میں بہت اونچا مقام رکھتے تھے بہت سے لوگ آپؓ سے مسئلہ پوچھتے اور آپؓ ان کے فقہی سوالات کے جوابات دیتے تھے حافظ ابن قیم حنبلیؒ (751ھ) نے سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کو ان لوگوں میں شمار کیا ہے جو فتویٰ دیتے تھے۔ تاہم ان کی تعداد کم روایت ہوئی ہے:

وَالبَاقُونَ مِنهُم مُقِلّونَ فِي الفُتيَا، لَا يُرَوَى عَنِ الوَاحِدِ مِنهُم إِلَّا المَسأَلَةُ وَالمَسأَلَتَانِ... وَهُم: أَبُو الدَّردَاءِ، وَأَبُو اليُسرِ، وَأَبُو سَلَمَةَ المَخزُومِيِّ، وَأَبُو عُبَيدَةَ بنُ الجَرَّاحِ، وَسَعِيدُ بنُ زَيدٍ، وَالحَسَنُ وَالحُسَينُ ابنَا عَلِيٍّ، وَالنُّعمَانُ بنُ بَشِيرٍ،... الخ (اعلام الموقعین: جلد 1 صفحہ 11)