علامہ سلمان حسینی کے گمراہ کن نظریات کا مختصر خلاصہ
جو ان کی کتب اور تقریروں سے ظاہر و باہر ہے، درج ذیل ہے
نظریہ 1: خلافت ہتھیانے کے چکر میں سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ نے آخری وقت میں حضورﷺ کی کھل کر مخالفت کی
ملخصاً (علماء اہل سنت سے چند سوالات: صفحہ 11)
نظریہ 2 :سقیفہ بنو ساعدہ کے وقت سیدنا ابو بکرؓ و سیدنا عمرؓ نے سیدنا علیؓ و سیدنا عباسؓ کو دھوکا دیا اور انہیں بتائے بغیر ہی خود جا کر خلافت کی بیعت کر لی۔
ملخصاً (علماء اہل سنت سے چند سوالات: صفحہ 12)
نظریہ 3: تمام صحابہؓ نے سیدنا علیؓ کے تعلق سے حضورﷺ کی وصیت (وصیتِ خلافت جو حضورﷺ نے غدیرِ خم کے موقع پر فرمائی تھی، کما زعم سلمان) کو ٹھکرا دیا۔ملخصاً (علماء اہل سنت سے چند سوالات: صفحہ 10)
نظریہ 4: حضورﷺ کے بعد خلافت کے حق دار سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ نہیں، سیدنا علیؓ تھے۔
ملخصاً (علماءِ اہل سنت سے چند سوالات: صفحہ 12،10)
نظریہ 5: حضورﷺ کے بعد سب سے افضل سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ نہیں، سیدنا علیؓ تھے۔
ملخصاً (تہذیب علوم الحدیث: صفحہ 282)
نظریہ 6: سیدنا علیؓ کے خلاف خروج کرنے والے تمام صحابہؓ فاسق اور مردود الروایہ و الشہادہ ہیں۔
ملخصاً (لفظِ صحابہؓ کے بارے میں غلط فہمیاں: صفحہ 18)
نظریہ 7: سیدنا علیؓ کے خلاف قتال کرنے والے تمام صحابیؓ باغی، طاغی، عاصی، مجرم، قاتل، ظالم اور فاسق ہیں۔ (متعدد تقریروں میں یہ بات ریکارڈ ہے)
نظریہ 8: چند سابقینِ اولین اور چند خواصِ صحابہؓ کے علاوہ باقی سارے صحابہ مشکوک منافق تھے۔
ملخصاً (اللہ کے بے لاگ قوانین اور فیصلے: صفحہ 31،50)
نظریہ 9: صحابہؓ کی بہت بڑی تعداد کافر و مرتد اور بڑے بڑے جرائم کی مرتکب تھی۔ ملخصاً (تہذیب علوم الحدیث: صفحہ 269)
نظریہ 10:ہر صحابیؓ کی عدالت اسی طرح چیک کی جائے گی جس طرح بعد کے لوگوں کی کی جاتی ہے۔
ملخصاً (لفظِ صحابہؓ کے بارے میں غلط فہمیاں: صفحہ 17،18)
نظریہ11:سیدنا خالد بن ولیدؓ اصطلاحی صحابیؓ ہیں، اصلی صحابیؓ نہیں ہیں۔
ملخصاً (لفظِ صحابہؓ کے بارے میں غلط فہمیاں: صفحہ 10)
نظریہ12:حدیث ”لا تسبوا أصحابی“ سے نادان اور کم علم لوگ یہ ثابت کرتے ہیں کہ جس نے بھی ایمان کی حالت میں حضورﷺ کا دیدار کر لیا اسے برا کہنا منع ہے، حالاں کہ اس ممانعت میں صحابہ کی کوئی خصوصیت نہیں، بلکہ یہ ایسا ہی ہے جیسے دوسری حدیث ”سباب المسلم فسوق“ میں کسی بھی عام مسلمان کو برا کہنے سے منع کیا گیا ہے اور آیتِ قرآنی وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ (سورۃ الانعام: آیت 108)
میں مشرکین کے دیوی دیوتاؤں کو برا کہنے سے منع کیا گیا ہے۔ملخصاً (لفظِ صحابہؓ کے بارے میں غلط فہمیاں: صفحہ 10)
(اللہ کے بے لاگ قوانین اور فیصلے: صفحہ 57)
نظریہ13:سیدنا عثمانؓ نے خاندانی لحاظ میں ایک ایسے آدمی کو کوفہ کا گورنر بنا دیا جو کھلے عام شراب پیتا تھا اور فجر کی نماز دو رکعت کے بجائے چار پڑھا دیتا تھا۔
ملخصاً (اللہ کے بے لاگ قوانین اور فیصلے: صفحہ 80)
نظریہ 14:اہل بیتؓ سے مراد صرف سیدنا علیؓ، سیدہ فاطمہؓ اور سیدنا حسن و حسینؓ ہیں۔ملخصاً (اللہ کے بے لاگ قوانین اور فیصلے: صفحہ 83)
نظریہ :15صرف ان صحابہؓ کی اقتدا کی جائے گی جو سنہ 33ھ سے پہلے وفات پا گئے، اس کے بعد وفات پانے والے صحابہؓ کی اقتدا نہیں کی جائے گی، کیوں کہ فتنوں میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کا کوئی اعتبار نہیں۔(خلاصہ بیان: 3 ربیع الاول 1441ھ)
نظریہ16:قرآن میں تیس پارے اور ایک سو چودہ (114) سورتوں والی بات کسی دلیل سے ثابت نہیں، بعد کے دور میں گھڑ لی گئی جو بالکل غلط ہے
ملخصاً (لفظِ صحابہؓ کے بارے میں غلط فہمیاں: صفحہ 14)
نظریہ17:عدالتِ صحابہؓ سے مراد فقط یہ ہے کہ جس طرح کتبِ صحاح میں بدعتی، شیعہ، مرجیہ اور خوارج راویوں کی روایتیں قبول کر لی گئی ہیں اسی طرح صحابہؓ کی روایتیں بھی قبول کر لی جائیں۔ملخصاً (تہذیب علوم الحدیث: صفحہ 276)
نظریہ18: جنگِ جمل اور صفین میں جتنے بھی صحابہؓ سیدنا علیؓ کے مقابل آئے سب کے ناصبی، ضلال، باطل، گمراہ اور ساقط العدالت تھے، سوائے سیدہ عائشہؓ، سیدنا طلحہؓ اور سیدنا زبیرؓ کے کہ ان تینوں نے توبہ کر لی تھی۔
ملخصاً (تہذیب علوم الحدیث: صفحہ 271)
نظریہ 19: صحابہؓ کی بہت بڑی تعداد کو قیامت کے دن فرشتے حوضِ کوثر سے دھکے مار کر ہٹا دیں گے۔
ملخصاً (اللہ کے بے لاگ قوانین اور فیصلے: صفحہ 67)
(تہذیب علوم الحدیث: صفحہ 269)
علاوہ ازیں مولانا سلمان ندوی کی تحریروں و تقریروں میں درج ذیل متنازع امور بھی ملتے ہیں
بعض جلیل القدر صحابہ کرامؓ کی شان میں برملا رکیک اور جارحانہ تبصرے کیے، ان کو عاصی، باغی، خاطی، مجرم، حکومت کا حریص اور ظالم تک کہہ دیا۔ سیدنا ابو ہریرہؓ پر الزام لگایا کہ انہوں نے (نعوذ باللہ) حدیثوں کا ایک ذخیرہ گول کر دیا تھا اور اس پر نہایت سخت لہجے میں تبصرہ کیا۔
سیدنا ابوبکرؓ کی خلافت پر سوالیہ نشان کھڑے کیے۔
صحابی کی تعریف و مصداق میں جمہور کی رائے کو چھوڑ کر ایک الگ راہ اختیار کر لی اور صحابی کی معروف تعریف کو اہل سنت کا غلو اور دین میں تحریف قرار دیا۔
یہ بھی کہتے ہیں کہ منافق بھی صحابہؓ تھے، صحابہؓ میں ہر قسم کے اچھے برے لوگ تھے۔
امت کی اجتماعى موقف ”الصحابة كلهم عدول“ سے شدید اختلاف کرتے ہیں اور صحابہؓ کو جرح و تعدیل سے ماوراء قرار نہیں دیتے۔