سیرت رسولﷺ جاننے کا شوق - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیرت رسولﷺ جاننے کا شوق

  مولانا اقبال رنگونی

سیدنا حسینؓ نے گو کہ حضور اکرمﷺ کو اپنی آنکھوں سے نہ صرف یہ کہ دیکھا تھا بلکہ آپؓ حضورﷺ کی گودوں اور باہوں میں کھیلے اور سوئے بھی ہیں تاہم آپؓ چاہتے تھے کہ کوئی انہیں بار بار حضور اکرمﷺ کا حلیہ مبارک اور سیرت مبارکہ بتلائے اور وہ آپﷺ کی یادوں میں گم ہوجائیں یہ بات آپؓ کے بڑے بھائی سیدنا حسنؓ کو بخوبی معلوم تھی اور سیدنا حسنؓ نے خود ہی اس کی شہادت بھی دی ہے آپؓ کہتے ہیں:

سَأَلْتُ خَالِی ھِنْدَیْنِ أَبِی ھَالَۃَ، وَکَانَ وَضَافًا عَنْ حِلْیَۃِ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا أَشْتَھِی أَنْ یَصِفَ لِی مِنْھَا شَیًٔا، فَقَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّم فَخْمًا مُفَخَّمًا، یَتَلَأْلَأُ وَجْھُهُ تَلَأْلُؤَ الْقَمَرِ لَیْلَۃَ الْبَدْرِ فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ بِطُولِهِ قَالَ الْحَسَنُ: فَکَتَمْتُھَا الْحُسَیْنَ زَمَانًا، ثُمَّ حَدَّثْتُهُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِی اِلَیْهِ. فَسَأَلَهُ عَمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ وَوَجَدْتُهُ قَدْ سَأَلَ أَبَاھَا عَنْ مَدْخَلِهِ وَمَخْرَجِهِ وَشَکْلِهِ فَلَمْ یَدَعْ مِنْهُ شَیْئًا۔ (شمائل ترمذی: صفحہ 24)

میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ سے حضور اکرمﷺ کا حلیہ مبارک پوچھا اور وہ حضورﷺ کے حلیہ مبارک کو بہت کثرت اور بہت اچھی طرح بیان کرتے تھے اور مجھے یہ خواہش ہوئی کہ وہ مجھے بھی اس کا بیان کریں سیدنا حسنؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک عرصہ تک سیدنا حسینؓ سے اس کا ذکر نہیں کیا جب ایک عرصہ کے بعد ان کو یہ بات بتلائی تو معلوم ہوا کہ وہ مجھ سے پہلے اس بات کو سن چکے تھے اور یہی نہیں کہ انہوں نے اپنے ماموں سے سنا بلکہ سیدنا علیؓ سے حضور اکرمﷺ کے گھر جانے اور واپس آنے اور اس کا طرز و طریقہ بھی تفصیل سے معلوم کر کے تھے۔