سوال11: کیا آن لائن نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ جس کی صورت یہ ہے کہ مسجد کے پاس پڑوس کے لوگ آن لائن (موبائل پر انٹرنیٹ کی موجودگی کے ساتھ بذریعہ ایپلیکیشن) کسی امام کی اقتداء میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو ایسا کہنے اور اس کی دعوت دینے والے شخص کے بارے میں کیا حکم لگے گا۔ کیا اس کا یہ عمل تجد وفی الدین شمار کیا جائے گا۔ مذکورہ بالا سوالات کا شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں تشفی بخش جواب دے کر شاکر و ممنون فرمائیں۔
جواب: واضح ہو کہ دینی عبادات کی صحت کے لیے شرعاً کچھ شرائط لازمی ہوتی ہیں، جن کا عبادات میں لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے، نماز باجماعت کے بھی کچھ شرائط مقرر ہیں، ان میں سے چند شرائط درج ذیل ہیں
1: مقتدی کی جگہ امام کی جگہ سے مختلف نہ ہو بلکہ دونوں کا مکان متحد ہو۔
2: مقتدی اور امام ایک ہی وقت کی نماز پڑھ رہے ہوں۔
3: امام کے کھڑے ہونے کی جگہ مقتدی کے کھڑے ہونے کی جگہ سے آگے ہو۔
4: بعض ائمہ کے نزدیک مقتدی کی نماز کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ امام نے مقتدی کی نماز کی نیت بھی کی ہو۔
5: نماز باجماعت کا طریقہ تواتر کے ساتھ یہ چلا آ رہا ہے کہ نمازیوں کی صفیں متصل اور ملی ہوئی ہوں، الگ الگ اور منتشر نہ ہوں۔
مشہور شامی فقیہ علامہ ابن عابدینؒ نے اقتداء کے صحیح ہونے کی دس شرطیں بیان کی ہیں:
1: مقتدی امام کی نیت کرے کہ اس امام کے پیچھے یہ نماز پڑھ رہا ہوں۔
2: دونوں کی نماز ایک ہو۔
3: مکان متحد ہو۔
4: امام کی نماز صحیح ہو۔
5: عورت، مرد کے محاذات میں نہ ہو۔
6: مقتدی امام سے آگے نہ ہو۔
7: مقتدی کو امام کی حرکات و سکنات کا علم ہو۔
8: مقتدی کو امام کے مسافر یا مقیم ہونے کا علم ہو۔
9: مقتدی امام کے ارکان میں شریک ہو۔
10: مقتدی امام کے برابر ہو یا اس سے کم تر ہو، لہٰذا اگر تندرست آدمی معذور کی اقتداء کرے یا رکوع و سجدہ کرنے والا اگر اشارہ سے نماز پڑھنے والے کی اقتداء کرے تو نماز درست نہ ہو گی۔
ان شرائط میں ایک شرط اتحادِ مکان کی بھی ہے اور مسلکِ احناف کے مطابق اتحادِ مکان کی تفصیل میں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بات ملتی ہے کہ امام اور مقتدی کے مکان کا مختلف ہونا مفسد نماز ہے۔
اس بنیاد پر اگر امام اور مقتدی کے درمیان میں کوئی ایسا راستہ ہو جس میں لوگ گزرتے ہوں یا نہر ہو جس میں کشتی چلتی ہو یا بہت بڑی مسجد ہو اس میں دو صف کا انقطاع ہو تو ان تمام صورتوں میں اقتداء درست نہ ہو گی
اور مسجد میں اقتداء کرتے ہوئے اگر دیوار وغیرہ حائل ہو اور امام کے انتقالات کا علم ہو رہا ہو تو اقتداء درست ہے اس لیے کہ مسجد مکان واحد کے حکم میں ہے، لیکن اگر امام کی حالت مشتبہ ہو جائے تو پھر اقتداء درست نہ ہو گی اس طرح اگر کوئی شخص اپنے گھر سے امام کی اقتداء کرنے اور اس کے گھر اور مسجد کے درمیان راستہ وغیرہ کا فاصلہ ہو تو بھی اقتداء درست نہ ہو گی کیوں کہ یہاں مکان متحد نہیں ہے بلکہ مختلف ہے۔
مذکورہ تفصیل سے یہ بات باآسانی سمجھی جا سکتی ہے کہ مذکورہ آن لائن نماز پڑھانے کی صورت شرعی طور پر قطعاً غلط ہے کیوں کہ اقتداء کی اہم اور بنیادی شرط اتحادِ مکان نہیں پائی جا رہی ہے۔
مسجد اور گھر کے درمیان اگر دو صفوں کا فاصلہ ہو یا کوئی عام راستہ ہو تو اس صورت میں بھی اقتداء درست نہیں ہو گی دیکھا گیا ہے کہ گھر اور مسجد میں عموماً اتنا فاصلہ ہوتا ہی ہے اس لیے آن لائن لائیو یا مائک کی آواز کے ذریعہ گھروں میں رہ کر مسجد کے امام کی اقتداء کرنا درست نہیں ہو گا۔
ویسے بھی اس بات کا قوی خطرہ ہے کہ لائٹ وغیرہ چلے جانے سے مسجد کا مائک کام کرنا بند کر دے یا اسی طرح کی کوئی اور خرابی پیش آ جائے یا انٹرنیٹ کنکشن آگے پیچھے ہو جائے تو ان صورتوں میں امام اور مقتدیوں کے درمیان رابطہ منقطع ہو جائے گا۔ المختصر یہ کہ یہ شخص مجدد فی الدین اور ماڈرن قسم کا غیر مقلد ہے۔
(والحائل لا يمنع) الاقتداء (ان لم يشتبه حال امامه) بسماع اوروية ولو من باب مشبك يمنع الوصول فى الأصح (ولم يختلف المكان) حقيقة كمسجد و بيت فى الأصح قنية، ولا حكماً عند اتصال الصفوف، ولو اقتدى من سطح داره المتصلة بالمسجد لم يجز لاختلاف المكان درر و بحر و غيرهما، وأقره المصنف لكن تعقبه فى الشر نبلالية ونقل عن البرهان وغيره ان الصحيح اعتبار الاشتباه فقط قلت وفى الاشتباه و زواهر الجواهر و مفتاح السعادة أنه الأصح وفى النهر عن الزاد أنه اختيار جماعة من المتأخرين
(قوله، ولم يختلف المكان) أى مكان المقتدى و الامام وحاصله أنه اشترط عدم الاشتباه و عدم اختلاف المكان، ومفهومه أنه لو وجد كل من الاشتباه و الاختلاف أو أحدهما فقط منع الاقتداء، لكن المنع باختلاف المكان فقط فيه كلام يأتى۔
(قوله، كمسجد وبيت) فإن المسجد مكان واحد، ولذا لم يعتبر فيه الفصل بالخلاء الا اذا كان المسجد كبيراً جداً و كذا البيت حكمه حكم المسجد فى ذلك لا حكم الصحراء كما قدمناه عن القهستاني. وفي التاتارخانية عن المحيط: ذكر السرخسي إذا لم يكن على الحائط العريض باب ولا ثقب؛ ففي رواية يمنع لاشتباه حال الإمام، وفي رواية لا يمنع وعليه عمل الناس بمكة، فإن الإمام يقف في مقام إبراهيم، وبعض الناس وراء الكعبة من الجانب الآخر وبينهم وبين الإمام الكعبة ولم يمنعهم أحد من ذلك
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
وينبغی للقوم إذا قاموا إلى الصلاة أن يتراصوا ويسدوا الخلل ويسووا بين مناكبهم في الصفوف، ولا بأس أن يأمرهم الإمام بذلك، وينبغي أن يكملوا ما يلي الإمام من الصفوف، ثم ما يلي ما يليه، وهلم جرا، وإذا استوى جانبا الإمام فإنه يقوم الجائي عن يمينه، وإن ترجح اليمين فإنه يقوم عن يساره، وإن وجد في الصف فرجة سدها، وإلا فينتظر حتى يجيء آخر كما قدمناه، وفي فتح القدير: وروى أبو داود والإمام أحمد عن ابن عمر أنه قال: أقيموا الصفوف وحاذوا بين المناكب وسدوا الخلل ولينوا بأيديكم (بأيدي) إخوانكم لا تذروا فرجات للشيطان، من وصل صفا وصله الله، ومن قطع صفا قطعه الله. وروى البزار بإسناد حسن عنه من سد فرجة في الصف غفر له. وفي أبي داود عنه: قال: خياركم ألينكم مناكب في الصلاة"(جلد 1 صفحہ 375)
وفيه أيضا: وذكر الإسبيجابي أنه لو كان معه رجلان فإمامهم بالخيار إن شاء تقدم، وإن شاء أقام فيما بينهما، ولو كانوا جماعة فينبغي للإمام أن يتقدم، ولو لم يتقدم إلا أنه أقام على ميمنة الصف أو على ميسرته أو قام في وسط الصف فإنه يجوز ويكره(جلد 1 صفحہ 374)
فقط واللہ تعالىٰ اعلم