سیدنا حسینؓ کی کرامت کا ایک واقعہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

سیدنا حسینؓ کی کرامت کا ایک واقعہ

  مولانا اقبال رنگونی

آپؓ بڑے صاحب کرامت صحابی تھے ابو عون کہتے ہیں کہ جب سیدنا حسینؓ مکہ کے ارادے سے مدینہ روانہ ہوئے تو راستے میں ان کا گزر عبداللہ ابن مطیع کے پاس ہوا اس وقت وہ اپنا کنواں کھود رہے تھے ابن مطیع نے سیدنا حسینؓ سے عرض کی کہ میں نے اپنے اس کنویں کو اس لیے ٹھیک کیا تاکہ اس میں دوبارہ پانی آ جائے لیکن ابھی تک پانی نہیں آیا ہے ڈول خالی ہی نکلا ہے آپ ہمارے لیے اس کنوئیں کی برکت کے لیے دعا کر دیں۔

فلَو دَعَوْتَ اللّٰه لَنَا فِیھَا بِالْبَرْکَةِ قالَ:ھَاتَ منْ مائِھَا فَأتِی مِنْ مائِھَا فِی الدَّلوِ فشَرِبَ مِنْهٗ ثُمَّ مضْمَضَ ثمَّ ردَّہٗ فِی الْبِئْرِ فَاعْذَبَ وَ امْھٰی۔

(طبقات ابن سعد: جلد 5 صفحہ 110)

ترجمہ: سیدنا حسینؓ نے فرمایا: کنوئیں کا تھوڑا سا پانی لاؤ چنانچہ عبداللہ ابن مطیع اس میں سے تھوڑا سا پانی لے کر آپؓ کے پاس آئے سیدنا حسینؓ نے اس سے تھوڑا سا پانی پیا اور پھر کلی فرمائی پھر وہ پانی اسی کنوئیں میں ڈال دیا تو اس کنوئیں کا پانی میٹھا بھی ہو گیا اور زیادہ بھی ہو گیا۔