شیعہ کا عقیدہ رجعت قرآن کریم بمقابلہ شیعہ معتبر کتب - سنی…

شیعہ کا عقیدہ رجعت قرآن کریم بمقابلہ شیعہ معتبر کتب

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

اس سلسلے کی بیس روایات رجعت کے بارے میں پیش کی گئی ہیں جن میں اہل تشیع محدثین نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ تمام انبیاء اور رسول امامت علی اور آئمہ کے تابع ہیں (معاذاللہ)۔

  تضادات روایات اورعجیب و غریب کردار           

١۔۔۔آدم ؑ سے لیکر سارے انسانو ں کی رجعت 

٢۔۔۔آدم ؑسے لے کر سارے نبیوں کی رجعت 

٢۔۔۔ہر اچھے برے کی رجعت 

۴۔۔۔چند نبیوں ؑ کی رجعت 

۵۔۔۔محمدؐ  کی ر جعت 

٦۔۔۔حضرت علی ؓ کی رجعت 

٧۔۔۔حضرت حسین ؓ کی رجعت 

٩۔۔۔۔تمام اہل بیت کی رجعت 

١٠۔۔۔تمام آئمہ کی رجعت 

یہ تمام تضادات روایات میں موجود ہے۔

یاللعجب 

شیعہ مذہب میں دوسرے جنم کے بارے اتنی کثیر روایات ؟؟؟؟؟؟؟

اور اکثر روایات میں انبیاء کی شان میں گستاخی 

۔۔۔۔۔۔۔

رجعت کی اسناد متواتر ہیں۔ شیعہ علماء

رجعت کے بارے میں احادیث و اسناد اس قدر زیادہ ہیں کہ ہر قسم کے شک و شبہے کی نفی ہوجاتی ہے۔ علامہ مجلسی اپنی کتاب بحار الانوار میں 1600 رجعت کے  سلسلے میں نازل اور وارد ہونے والی آیات و روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:

"ان لوگوں کے لئے ـ جو ائمہ(ع) کے کلام پر یقین رکھتے ہیں ـ شک و شبہے کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ مسئلۂ رجعت حق ہے، اور اس باب میں ائمہ(ع) سے وارد روایات متواتر ہیں اور تقریبا 2000 روایات وارد ہوئی ہیں جو اس امر پر تصریح کرتی ہیں اور ان روایات کو 40 سے زائد اکابرین علماء اور محدثّین نے 50 سے زائد معتبر کتب میں ثبت و ضبط کیا ہے۔

:جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:

شیخ صدوق،

کلینی رازی،

شیخ طوسی،

سید مرتضی علم الہدی،

احمد بن علی نجاشی،

محمد بن عمر کشی،

محمد بن مسعود سمرقندی عیاشی،

علی بن ابراہیم قمی،

شیخ مفید،

ابوالفتح کراجکی،

محمد بن ابراہیم نعمانی،

محمد بن حسن صفار قمی،

ابن قولویہ،

سید ابن طاؤس،

فضل بن حسن طبرسی،

ابن شہر آشوب اور

سعید بن ہبۃ اللہ راوندی۔

مجلسی بعدازاں ان کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو مسئلۂ رجعت پر تالیف ہوئی ہیں۔

مجلسی، بحارالانوار، ج53، ص96 و 122

علاوہ ازیں بہت سی زیارات اور دعاؤں میں بھی رجعت کے عقیدے پر تاکید ہوئی ہے جیسے زیارت جامعہ، زیارت وارث، زیارت اربعین، زیارت آل یاسین، زیارت رجبیہ و دعائے وداع اور دعائے عہد قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، زیارت جامعه کبیره، آل یس و دعای عهد

نکتہ: شیعہ رجعت پر یقین و اعتقاد راسخ رکھنے کے باوجود رجعت کے منکرین کو کافر نہیں سمجھتے؛ کیونکہ رجعت مذہب شیعہ کی ضروریات و مسلمات میں سے ہے ۔۔۔  اور جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے رجعت پر ایمان، ایمان کامل اور حقیقی اسلام کی شروط میں سے ہے۔

 مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج15، ص593

رجعت کی نفی قرآن کریم سے

حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَحَدَہُمُ الۡمَوۡتُ قَالَ رَبِّ ارۡجِعُوۡنِ  ۙ

لفظ بہ لفظ

[حَتّيٰٓ : یہاں تک کہ ] [اِذَا : جب] [ جَاۗءَ : آیا ہو] [ اَحَدَهُمُ : کسی ایک کے پاس ان میں سے] [ الْمَوْتُ : موت ] [ قَالَ : فرمایا] [ رَبِّ : میرے رب] [ارْجِعُوْنِ : مجھے واپس لوٹا دے ]

ترجمہ:

(یہ لوگ اسی طرح غفلت میں رہیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آجائے گی تو کہے گا کہ اے پروردگار! مجھے پھر (دنیا میں) واپس بھیج دے

سورت المؤمنون 99

 لَعَلِّیۡۤ اَعۡمَلُ صَالِحًا فِیۡمَا تَرَکۡتُ کَلَّا ؕ اِنَّہَا کَلِمَۃٌ ہُوَ قَآئِلُہَا ؕ وَ مِنۡ وَّرَآئِہِمۡ بَرۡزَخٌ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ 

لفظ بہ لفظ

[لَعَلِّيْٓ : تاکہ میں ] [اَعْمَلُ : میں عمل کروں گا ] [ صَالِحًا : نیک] [ فِيْمَا : جس میں ] [ تَرَكْتُ : میں چھوڑ آیا ہوں ] [ كَلَّا : ہرگز نہیں ] [ اِنَّهَا : بیشک وہ] [ كَلِمَةٌ : ایک بات ] [ هُوَ : وہ ] [ قَاۗىِٕلُهَا : کہنے والا ہے اسے ] [ وَ مِّنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ : اور ان کے پیچھے سے] [ بَرْزَخٌ : ایک پردہ ] [ اِلٰى يَوْمِ : دن تک] [يُبْعَثُوْنَ : وہ سب اٹھائے جائیں گے ]

ترجمہ:

تاکہ میں اس میں جسے چھوڑ آیا ہوں نیک کام کیا کروں۔ ہرگز نہیں۔ یہ ایک ایسی بات ہے کہ وہ اسے زبان سے کہہ رہا ہوگا (اور اس کے ساتھ عمل نہیں ہوگا) اور اس کے پیچھے برزخ ہے (جہاں وہ) اس دن تک کہ (دوبارہ) اٹھائے جائیں گے، (رہیں گے)

سورت المؤمنون 100

قرآن پاک نے واضح الفاظ میں رجعت کے عقیدے کی نفی فرمائی ہے۔

ان الفاظ پر غور کریں۔

قال رب: فرمایا اے میرے رب!

ارجعون: مجھے واپس (دنیا) میں لوٹا دے۔

کلا: ہرگز نہیں۔ (کبھی بھی نہیں ہوسکتا)

قائلھا: کہنے والا (بکواس)

برزخ: ایک پردہ، قبر کا عالم

الی یوم: دن تک

یبعثون: قیامت، وہ سب اٹھائے جائیں گے۔

یعنی رجعت کا عقیدہ ایک باطل عقیدہ ہے ۔ انسان کے مرنے کے بعد قبر اور برزخ کا پردہ قیامت تک یعنی دوبارہ زندہ ہونے تک قائم رہے گا۔ 

اس آیت سے رجعت کا عقیدہ کلی طور پر رد ہوتا ہے۔

نکتہ: شیعہ رجعت پر یقین و اعتقاد راسخ رکھنے کے باوجود رجعت کے منکرین کو کافر نہیں سمجھتے؛ کیونکہ رجعت مذہب شیعہ کی ضروریات و مسلمات میں سے ہے ۔۔۔  اور جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے رجعت پر ایمان، ایمان کامل اور حقیقی اسلام کی شروط میں سے ہے۔

 مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ج15، ص593

رسول اللہ ﷺ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ بارہویں کی بیعت کرینگے؟

ملا باقر مجلسی حق الیقین کی جلد دوم صفحہ 18 پر لکھتا ہے۔

اب نبی ﷺ کی توہین کیسے ہوتی ہے؟ اور کسے کہتے ہیں توہین؟

پھر الزام اہل سنت پر لگتا ہے۔ ارے اہل سنت اگر شیعہ کو کافر کہتے ہیں تو اس کافر کہنے کی وجوہات شیعت کے عقاٸد میں جاکر تلاش کرو۔

اس امامت کے عقیدہ کو انہوں نے اپنے مذہب کے نمایاں عقاٸد میں درج کیا ہے۔ اور یہی وہ عقیدہ ہے جس کی رو سے شیعہ قرآن کا انبیإ کرام کا صحابہ کرام کا یہاں تک کہ اسلام کا بھی منکر بن جاتا ہے۔۔۔۔۔

غور کرنے والوں کیلئے بہت سی نشانیاں چھپی ہیں۔ ذرا غور تو کرے!


صفحہ 2 از 2