سوال 9: کیا قرآن پاک کی موجودہ ترتیب درست نہیں جیسا کہ اس شخص کا کہنا ہے کیا قرآن کے موجودہ پاروں کی ترتیب کسی مکتب کے ملا نے دی تھی۔
جواب: ترتیب قرآن کا اعتراض بھی دیگر اعتراضات کی طرح اتنا لچر، لغو اور جہالت و حماقت پر مبنی ہے کہ اس پر کوئی پڑھا لکھا اور سمجھ دار شخص ہرگز اعتراض نہیں کر سکتا۔
قرآن کریم کی موجودہ ترتیب بھی حضرات خلفائے راشدین ہی کی دی ہوئی ہے۔ جس کو ان حضرات نے نبی کریمﷺ کی منشاء مبارک کے مطابق ہی ترتیب دیا ہے۔
علامہ سیوطیؒ نے اپنی کتاب الاتقان فی علوم القرآن میں اس پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے اور ثابت فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی موجودہ ترتیب حضرات خلفائے راشدینؓ کے حکم و مرضی کے عین مطابق ہوئی ہے۔
چنانچہ علامہ سیوطی رحمۃاللہ لکھتے ہیں:
الدیر عاقولی اپنی کتاب الفوائد میں کہتا ہے: "حدثنا ابراہیم بن بشار، حدثنا سفیان بن عیینہ عن الزہری عن عبيد اور عبيد زيد بن ثابتؓ سے روایت کرتا ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے اور اس وقت تک قرآن کسی چیز میں جمع نہیں کیا گیا تھا۔ الخطابی کا قول ہے "رسول اللہﷺ نے قرآن کو مصحف میں اس واسطے جمع نہیں فرمایا کہ آپ کو اس کے بعض احکام یا تلاوت کے نسخ کرنے والے حکم کے نزول کا انتظار باقی تھا۔ مگر جب سرکار دوعالمﷺ کی وفات کے باعث قرآن کا نزول ختم ہو گیا تو خدا نے اپنے اس سچے وعدہ کو وفا کرنے کے لیے جو ان سے اس امت کی حفاظت کے متعلق فرمایا تھا خلفائے راشدینؓ کے دل میں یہ بات (قرآن کو جمع کرنے کی خواہش) ڈالی پھر اس عظیم الشان کام کا آغاز سیدنا عمرؓ کے مشورے کے مطابق سیدنا ابوبکرؓ کے ہاتھوں سے ہوا" مگر وہ روایت جو مسلم نے ابی سعیدؓ کی حدیث سے کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "لا تکتبوا عنی شیئا غیر القرآن" میری باتوں میں سے قرآن کے سوا اور کسی چیز کو نہ لکھو۔
وہ اس بات کی منافی نہیں ہوتی کہ سیدنا ابوبکرؓ نے پہلے قرآن کو جمع کی تھا کیونکہ یہاں مخصوص کتابت کی نسبت کلام کیا جاتا ہے جو ایک خاص طور سے لکھی گئی ورنہ یوں تو قرآن رسول اللہﷺ کے زمانہ میں لکھ لیا گیا تھا مگر وہ سب ایک ہی جگہ جمع اور سورتوں کی ترتیب کے ساتھ ہرگز نہ تھا اور حاکم مستدرک میں بیان کرتا ہے کہ قرآن تین مرتبہ جمع کیا گیا بار اول رسول اللہﷺ ہی کے زمانہ میں جمع ہوا تھا پھر اس نے ایک سند پر جو شیخین کی شرط سے مستند مانی گئی ہے زید بن ثابتؓ سے روایت کی ہے کہ سیدنا زیدؓ نے کہا ہم رسول اللہﷺ کے پاس قرآن کو مختلف پرچوں سے مرتب کیا کرتے تھے (کنا عند رسول اللہﷺ نؤلف القرآن من الرقاع)
بیہقی کا قول ہے "اس حدیث سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ متفرق نازل ہونے والی آیتوں کو رسول اللہﷺ کے ایماء سے ترتیب وار ان کی سورتوں میں جمع کرنا مراد ہو۔ دوسری مرتبہ قرآن کے جمع اور مرتب کرنے کا اہم کام سیدنا ابوبکرؓ کے زمانہ میں اور ان کے روبرو ہوا۔" بخاری نے اپنی صحیح میں سیدنا زید بن ثابتؓ سے روایت کی ہے کہ "سیدنا ابوبکرؓ" کو جنگ یمامہ میں صحابہؓ کے شہید ہونے کی خبر ملی تو اسی وقت سیدنا عمرؓ بھی آپؓ کے پاس آئے۔ سیدنا ابوبکرؓ کہتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ نے میرے پاس آ کر کہا کہ معرکہ یمامہ میں بہت سے قاریانِ قرآن کریم مقتول ہو گئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ آئندہ معرکوں میں بھی وہ مقتول ہوتے جائیں گے اور اس طرح بہت سا قرآن ہاتھوں سے جاتا رہے گا۔ میری رائے ہے کہ تم قرآن کے جمع کیے جانے کا حکم دو۔ میں نے سیدنا عمرؓ کو جواب دیا: جس کام کو رسول اللہﷺ نے نہیں کیا میں اسے کس طرح کروں؟ سیدنا عمرؓ نے کہا: "واللہ یہ بات بہتر ہے۔" غرض کہ وہ مجھ سے بار بار کہتے رہے یہاں تک کہ خداوند کریم نے میرا دل کھول دیا اور میں نے بھی اس بارے میں وہی رائے قائم کر لی جو سیدنا عمرؓ نے قائم کی تھی۔ زیدؓ کہتے ہیں: سیدنا ابوبکرؓ نے مجھ سے کہا تو ایک سمجھ دار نوجوان ہے اور ہم تجھ کو متہم نہیں کرتے اور تو رسول اللہﷺ کا کاتبِ وحی بھی تھا اس لیے اب قرآن کی تفتیش اور تحقیق کر کے اسے جمع کر لے۔ سیدنا زیدؓ کہتے ہیں: واللہ مجھ کو ایک پہاڑ اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھ دینے کا حکم دیتے تو یہ بات مجھ پر گراں نہ ہوتی جس طرح قرآن کے جمع کرنے کا حکم مجھ پر شاق گزرا اور میں نے سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ سے کہا تم دونوں صاحب وہ کام کس طرح کرتے ہو جسے رسول اللہﷺ نے نہیں کیا؟ سیدنا ابوبکرؓ نے جواب دیا واللہ یہ بات بہتر ہے اور پھر وہ برابر مجھ سے اس بارے میں بار بار کہتے رہے تا آں کہ خدا نے میرا دل بھی اسی بات کے لیے کھول دیا جس بات کے واسطے سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ کا دل کھولا تھا۔ پھر تو میں نے قرآن کی تلاش اور جستجو کا آغاز کر دیا۔ اور اسے کھجور کی شاخوں اور سفید پتھروں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنا شروع کر دیا اور میں نے سورۃ التوبہ کی خاتمہ کی آیتیں لَـقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ والی آیات صرف ابی خزیمہ انصاریؓ کے پاس پائیں اور ان کے سوا کسی سے یہ آیتیں نہ مل سکیں۔
وہ منقول صحیفے سیدنا ابوبکرؓ کے پاس رہے یہاں تک کہ انہوں نے وفات پائی تو اب سیدنا عمرؓ نے ان کی محافظت کی اور سیدنا عمرؓ کا انتقال ہونے کے بعد وہ صحافت بجنسہ سیدہ حفصہ بنت عمرؓ کے پاس محفوظ رہے۔
اور ابن ابی داؤدؒنے کتاب المصاحف میں عبد خیر سے سند حسن کے ساتھ روایت کی ہے کہ اس نے کہا میں نے سیدنا علیؓ کو یہ کہتے سنا ہے کہ مصاحف کے بارہ میں سب سے زائد اجر سیدنا ابوبکرؓ کو حاصل ہو گا ا للہ سیدنا ابوبکرؓ پر رحمت کرے وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے کتاب اللہ کو جمع کیا، لیکن ابن ابی داؤدؒ ہی نے ابن سیرین کے طریق سے یہ بھی روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا سیدنا علیؓ فرماتے تھے کہ جس وقت رسول اللہﷺ نے وفات پائی تو میں نے اپنے دل میں اس بات کا عزم کر لیا کہ جب تک قرآن کو جمع نہ کر لوں اس وقت تک بجز نمازِ جمعہ کے اور کسی کام کے لیے اپنی رداء (چادر) نہ اوڑھوں گا چنانچہ میں نے قرآن کو جمع کر لیا۔
ابن حجرؒ کا قول ہے یہ اثر مقطوع ہونے کی وجہ سے کمزور ہے اور اگر اس کو صحیح بھی مانا جائے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علیؓ کی مراد قرآن کو جمع کرنے سے یہ تھی کہ وہ اسے اپنے سینہ میں محفوظ بناتے تھے یعنی حفظ کر رہے تھے۔ اور عبد خیر کی روایت سیدنا علیؓ سے جو پہلے گزر چکی ہے وہ زیادہ صحیح ہونے کے لحاظ سے قابل اعتماد ہے میں کہتا ہوں ایک دوسرے طریق سے جس کو ابن الضریس نے اپنی کتاب فضائل میں روایت کیا ہے یوں وارد ہوا ہے حدثنا بشر بن موسیٰ حدثنا ہودۃ بن خلیفہ حدثنا عون عن محمد بن سیرین عن عکرمہ عکرمہ نے کہا سیدنا ابوبکرؓ سے بیعت ہو جانے کے بعد سیدنا علیؓ اپنے گھر میں بیٹھ رہے سیدنا ابوبکرؓ سے کہا گیا کی سیدنا علی بن ابی طالبؓ نے تمہاری بیعت کو ناپسند کیا ہے. سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا علیؓ کو بلوا بھیجا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا تم کو میری بیعت ناگوار گزری ہے؟ سیدنا علیؓ نے جواب دیا نہیں واللہ ایسی بات ہرگز نہیں سیدنا ابوبکرؓ نے دریافت کیا "پھر تم میرے پاس آنے سے کیوں بیٹھ رہے؟" سیدنا علیؓ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ کتاب اللہ میں زیادتی کی جا رہی ہے اس لیے اپنے دل میں کہا کہ جب تک اسے جمع نہ کر لوں اس وقت تک بجز نمازِ جمعہ کے اور کسی کام کے لیے اپنی چادر نہ اوڑھوں۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکرؓ بولے یہ بہت اچھی بات تمہارے خیال میں آئی ہے۔ محمد بن سیرینؒ کا قول ہے پھر میں نے عکرمہ سے کہا کیا صحابہؓ نے قرآن کی ترتیب اس کے نزول کے مطابق یوں ہی کی ہے کہ جو پہلے نازل ہوا اسے پہلے اور اس کے بعد نازل ہونے والے کو اس کے بعد رکھا؟ عکرمہ نے جواب دیا اگر تمام انسان اور جنات ایک جا اور فراہم ہو کر اسے اس طرح مرتب کرنا چاہیں تو بھی نہ کر سکیں گے۔ اور اسی روایت کو ابن اشتہ نے کتاب المصاحف میں دوسری وجہ پر ابن سیرین ہی سے بیان کیا ہے اور اس میں یہ ذکر آیا ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے مصحف میں ناسخ و منسوخ کو درج کیا تھا اور ابن سیرین نے کہا کہ میں نے اس کتاب کو طلب کرنے کے لیے مدینہ کے لوگوں سے خط و کتابت کی لیکن وہ دستیاب نہ ہو سکی۔ اور ابن ابی داؤد نے حسن کے طریق سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمرؓ نے کتاب اللہ کی کسی آیت کو دریافت کیا تو ان سے کہا گیا کہ وہ آیت فلاں شخص کو یاد تھی جو کہ معرکہ یمامہ میں مقتول ہو گیا، یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے کہا انا للہ اور انہوں نے قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیا، پس وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قرآن کو مصحف میں جمع کیا۔ اس حدیث کے اسناد منقطع ہیں اور اس کے راوی نے اپنے قول وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قرآن کو جمع کیا سے یہ مراد لی ہے کہ انہوں نے قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیا، میں کہتا ہوں قرآن کو سب سے پہلے جمع کرنے والے شخص کے بارہ میں جو ایک عجیب و غریب روایت آئی ہے اسے ابن اشتہ نے کتاب المصاحف میں کہمس کے طریق پر ابن بریدہ سے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا سب سے پہلا شخص جس نے قرآن کو مصحف میں فراہم کیا وہ سالم ابی حذیفہ کا مولیٰ (غلام آزاد کردہ) تھا اور اس نے قسم کھائی تھی کہ جب تک قرآن کو جمع نہ کر لے گا اس وقت تک چادر نہ اوڑھے گا (یعنی گھر سے باہر نہ نکلے گا کیونکہ چادر اسی حالت میں اوڑھی جاتی ہے) چنانچہ اس نے قرآن کو جمع کر لیا پھر لوگوں نے اس امر میں رائے زنی شروع کی کہ اس کا نام کیا رکھیں کسی نے کہا سفر نام رکھو مگر کہا گیا کہ یہ یہودیوں کی کتاب کا نام ہے اس لیے یہ ناپسند ہوا اور پھر کسی نے کہا میں نے اسی کی مانند کتاب کو حبشہ میں مصحف کہتے سنا ہے چنانچہ اس بات پر سب کا اتفاق رائے ہو گیا اور مجموعہ قرآن کا نام مصحف رکھ دیا گیا، اس روایت کے اسناد بھی منقطع ہیں اور یہ اس بات پر محمول ہے کہ سالم بھی سیدنا ابوبکرؓ کے حکم سے قرآن کو جمع کرنے والوں میں ایک کارکن تھے اور ابن ابی داؤدؒنے یحییٰ بن عبد الرحمٰن بن طالب کے طریق سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا سیدنا عمرؓ نے (مسجد میں) آ کر کہا جس شخص نے رسول اللہﷺ سے کچھ بھی قرآن کی تعلیم حاصل کی ہو وہ آ کر اپنے یاد کردہ قرآن کو سنائے اور لکھنے والے اشخاص اس کو تختیوں اور کھجور کی شاخوں کے ڈنٹھلوں پر لکھتے جاتے تھے اور سیدنا عمرؓ کسی شخص سے قرآن کا کوئی حصہ اس وقت تک تسلیم نہیں کرتے تھے جب تک وہ آدمی اپنے دو گواہ نہ لائے اور اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا زید بن ثابتؓ قرآن کو محض لکھا ہوا پانے ہی پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی شہادت ان لوگوں سے بھی بہم پہنچا لیتے جنہوں نے اسے سن کر یاد کیا تھا اور اس کے علاوہ خود سیدنا زیدؓ حافظ قرآن تھے، غرض کہ قرآن مکتوب کے موجود پانے اور خود حافظ ہونے کے باوجود ان کا دو شہادتوں کو بھی بہم پہنچا کر اسے مصحف میں تحریر کرنا حد درجہ کی احتیاط تھی، نیز ابن ابی داؤد ہی ہشام بن عروہ کے طریق پر اس کے باپ عروہ سے راوی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا عمرؓ اور سیدنا زیدؓ سے کہا تم دونوں مسجد کے دروازہ پر بیٹھ جاؤ پھر اس کے بعد جو شخص تمہارے پاس کتاب اللہ کا کوئی حصہ مع دو گواہوں کے لائے اسے لکھ لو۔ اس حدیث کے تمام راوی معتبر ہیں اگرچہ یہ روایت منقطع ہے ابن حجرؒ کا قول ہے دو گواہوں سے مراد حفظ اور کتابت تھی، (یعنی قرآن اس کو یاد بھی ہو اور اس کے پاس لکھا ہوا بھی ہو) اور سخاوی اپنی کتاب جمال القراء میں کہتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ دو گواه اس بات کی گواہی دیں کہ وہ لکھا ہوا قرآن خاص رسول اللہﷺ کے روبرو لکھا گیا ہے یا یہ مقصود ہے کہ اس قرأت کی نسبت شہادت دیں کہ یہ انہی وجوہ میں سے ہے جن پر قرآن کا نزول ہوا ہے۔ ابو شامہ کا قول ہے"اور ان کی (صحابہؓ کی) غرض یہ تھی کہ قرآن نہ لکھا جائے مگر اسی اصل سے جو رسول اللہﷺ کے روبرو تحریر میں آیا ہے نہ کہ محض یادداشت پر اعتماد کر کے لکھ لیا جائے اسی وجہ سے سیدنا زیدؓ نے سورۃ التوبہ کے آخری حصہ کی نسبت کہا ہے کہ" میں نے اسے ابو خزیمہ انصاریؓ کے سوا کسی اور کے پاس نہیں پایا، یعنی اس کو لکھا ہوا صرف انہی کے پاس پایا کیونکہ سیدنا زیدؓ محض یادداشت پر اکتفاء نہیں کرتے تھے بلکہ کتابت کو بھی دیکھنا چاہتے تھے" مگر میں کہتا ہوں کہ شہادت لینے سے مراد یہ ہے کہ سیدنا عمرؓ اور سیدنا زیدؓ دونوں اس بات کی شہادت بہم پہنچاتے تھے کہ جو قرآن کسی نے انہیں سنایا ہے آیا وہ نبیﷺ پر ان کے سالِ وفات میں پیش ہو چکا ہے یا نہیں؟ اور ابن اشتہ نے کتاب المصاحف میں لیث بن سعد سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا سب سے پہلے قرآن کو سیدنا ابوبکرؓ نے جمع کیا اور سیدنا زید بن ثابتؓ نے اسے لکھا۔ لوگ سیدنا زیدؓ کے پاس قرآن کو لاتے تھے اور وہ بغیر دو معتبر گواہ لیے ہوئے اسے لکھتے نہ تھے اور سورۃ براءۃ کا خاتمہ محض ابو خزیمہ بن ثابتؓ کے پاس ملا تو سیدنا ابوبکرؓ نے کہا اس کو لکھ لو کیوں کہ رسول اللہﷺ نے ابوخزیمہؓ کی شہادت دو گواہوں کے برابر بنائی ہے چنانچہ سیدنا زیدؓ نے اسے لکھ لیا مگر سیدنا عمرؓ نے آیت رجم پیش کی تو اسے نہیں لکھا کیونکہ اس بارے میں تنہا سیدنا عمرؓ کے سوا اور کوئی شہادت بہم نہیں پہنچی۔ حارث محاسبی اپنی کتاب فہم السنن میں بیان کرتے ہیں کہ قرآن کی کتابت کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ خود رسول اللہﷺ اس کے لکھنے کا حکم دیتے تھے لیکن وہ قرآن جو رسول اللہﷺ کے زمانہ میں لکھا گیا تھا متفرق پرچوں، اونٹ کے شانہ کی ہڈیوں اور کھجور کی شاخ کے ڈنٹھلوں پر لکھا ہوا تھا اور سیدنا ابوبکرؓ نے صرف اس کے نقل کرنے اور اکٹھا کر لینے کا حکم دیا اور یہ کارروائی بمنزلہ اس بات کے تھی کہ کچھ اوراق رسول اللہﷺ کے گھر میں پائے گئے جن میں قرآن منتشر تھا پھر ان کو کسی جمع کرنے والے نے اکٹھا کر کے ایک ڈورے سے باندھ دیا تا کہ ان میں سے کوئی ٹکڑا ضائع نہ ہو جائے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ پرچوں کے رکھنے والوں اور لوگوں کے سینوں (حافظہ) پر کس طرح اعتماد کر لیا گیا؟ تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ وہ لوگ ایسی معجز تالیف اور معروف نظم کا اظہار کرتے تھے جس کی تلاوت کرتے ہوئے بیس سال تک نبیﷺ کو دیکھتے آئے تھے اور اس لحاظ سے یہ خوف بالکل نہ تھا کہ اس میں کوئی خارجی کلام ملا دیا جائے گا ہاں ڈر اس بات کا تھا کہ مبادا اس کے صفحوں میں سے کوئی صفحہ ضائع ہو جائے اور سیدنا زید بن ثابتؓ کی حدیث میں پہلے یہ بات مذکور ہو چکی ہے کہ انہوں نے قرآن کو کھجور کی شاخ کے ڈنٹھلوں اور پتھر کے ٹکڑوں سے جمع کیا اور ایک روایت میں چمڑے کے ٹکڑوں سے دوسری میں شانہ کی ہڈیوں سے تیسری میں پسلی کی ہڈیوں سے اور چوتھی روایت میں اونٹ کی کاٹھیوں کی لکڑیوں سے قرآن کا نقل کیا جانا بھی آیا ہے روایت کے الفاظ میں ”لخاف“ کا لفظ ”لخفہ“ کی جمع ہے جو باریک پتھر کے ٹکڑے کو کہتے ہیں اور خطابی کا قول ہے کہ ”لخفہ“ پتھر کی پتلی پیٹوں کو کہا جاتا ہے، اور ”رقاع“ کا لفظ ”رقعہ“ کی جمع ہے جو کھال، پتلی جھلی، پتے یا کاغذ کے ٹکڑے ہوتے تھے اور اکتاف ”کتف“ کی جمع ہے یہ اونٹ یا بکری کے شانہ کی چوڑی ہڈی ہوتی تھی جس پر خشک ہونے کے بعد لکھا کرتے تھے اور اقتاب لفظ قتب کے جمع ہے جو اونٹ کی کاٹھی کو کہتے ہیں اور ابن وہبؒ کی کتاب موطا میں مالک ؒسے بواسطہ ابن شہاب سالم بن عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ نے قرآن کو ”قراطیس“ میں جمع کیا اور انہوں نے اس بارہ میں سیدنا زید بن ثابتؓ سے دریافت کیا تھا تو زیدؓ نے ان کو مدد دینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ سیدنا ابو بکرؓ نے سیدنا عمرؓ کی مدد سے یہ کام انجام دیا اور موسیٰ ابن عقبہؒ کی کتاب المغازی میں ابن شہاب سے روایت کی گئی ہے کہ اس نے کہا جس وقت جنگِ یمامہ میں مسلمانوں کا بہت کچھ نقصان جان ہوا تو سیدنا ابوبکرؓ نہایت پریشان ہوئے اور وہ ڈرے کہ کہیں صحابہؓ کی شہادت سے قرآن کا کوئی حصہ تلف نہ ہو جائے پھر سب لوگ جو کچھ قرآن ان کے پاس تھا یا انہیں یاد تھا لے کر آنے لگے یہاں تک کہ سیدنا ابوبکرؓ کے زمانہ میں وہ اوراق میں جمع کر لیا گیا اس لحاظ سے سیدنا ابوبکرؓ پہلے شخص تھے جنہوں نے قرآن کو مصحف میں جمع کیا، ابن حجرؒ کا قول ہے اور عمارہ بن غزیہ ؒکی روایت میں آیا ہے کہ سیدنا زید بن ثابتؓ نے کہا پھر مجھ کو سیدنا ابوبکرؓ نے حکم دیا اور میں نے قرآن کو کھال کے ٹکڑوں اور کھجور کی شاخ کے ڈنٹھلوں میں لکھا، پھر جس وقت سیدنا ابوبکرؓ وفات پا گئے اور سیدنا عمرؓ کا زمانہ آیا تو پھر میں نے قرآن کو ایک ہی صحیفہ (ورق) میں لکھا اور یہ (قرآنِ مکتوب)
سیدنا عمرؓ کے پاس موجود رہا۔ ابن حجرؒ کہتا ہے اور زیادہ صحیح پہلی ہی بات ہے اس لیے کہ کھال کے ٹکڑوں اور شاخِ خرما کے ڈنٹھلوں پر تو اس سے پہلے ہی قرآن لکھا ہوا تھا جب کہ وہ سیدنا ابوبکرؓ کے زمانہ میں جمع کیا گیا تھا پھر ان کے عہد میں ہی قرآن کو اوراق میں جمع کیا گیا جس پر مترادف صحیح حدیثیں دلالت کر رہی ہیں۔
حاکم کا بیان ہے اور تیسری مرتبہ قرآن کا جمع کیا جانا یہ تھا کہ سیدنا عثمانؓ کے عہد میں سورتوں کی ترتیب ہوئی، بخاری نے سیدنا انسؓ سے روایت کی ہے کہ سیدنا حذیفہ بن الیمانؓ سیدنا عثمانؓ کے پاس آئے اور آرمینیہ اور آذربائیجان کے فتوحات میں اہل شام عراق والوں کے ساتھ مل کر معرکہ آرائی میں شریک تھے سیدنا حذیفہؓ کو ان دونوں ممالک کے مسلمانوں کا قرأت میں اختلاف رکھنا سخت پریشان بنا چکا تھا اس لیے انہوں نے سیدنا عثمانؓ سے کہا تم امت کی اس بات سے پہلے ہی خبر لے لو جب کہ وہ یہود و نصاریٰ کی طرح باہم اختلاف رکھنے والی بن جائے۔ سیدنا عثمانؓ نے یہ بات سن کر سیدہ حفصہؓ کے پاس کہلا بھیجا کہ جو صحیفے آپ کے پاس امانتاً رکھے ہیں انہیں بھیج دیجیے تا کہ میں ان کو مصحفوں میں نقل کرانے کے بعد پھر آپ کے پاس واپس ارسال کر دوں۔ سیدہ حفصہؓ نے وہ صحائف سیدنا عثمانؓ کو بھجوا دیے اور سیدنا عثمانؓ نے سیدنا زید بن ثابتؓ، سیدنا عبد اللہ بن زبیرؓ، سیدنا سعید بن العاصؓ اور عبد الرحمٰن بن الحارث بن هشام کو ان کے نقل کرنے پر مامور کیا اور تینوں قرشی صاحبوں سے کہا کہ جہاں کہیں قرآن کے تلفظ میں تمہارے اور سیدنا زید بن ثابتؓ کے مابین اختلاف آ پڑے وہاں اس لفظ کو خاص قریش ہی کی زبان میں لکھنا کیونکہ قرآن انہیں کی زبان میں نازل ہوا ہے۔ چنانچہ ان چاروں صاحبوں نے مل کر سیدنا عثمانؓ کے حکم کی تعمیل کر دی اور جب وہ ان صحیفوں کو مصاحف میں نقل کر کے لکھ چکے تو سیدنا عثمانؓ نے وہ صحائف بدستور سیدہ حفصہؓ کے پاس واپس بھیج دیے اور اپنے لکھوائے ہوئے مصحفوں میں سے ایک ایک مصحف ممالکِ اسلامیہ کے ہر ایک گوشہ میں ارسال کر دیا اور حکم دیا کہ اس مصحف کے سوا اور جس قدر صحیفے یا مصحف پہلے کے موجود ہوں ان کو سوخت کر دیا جائے، سیدنا زیدؓ کہتے ہیں جس وقت ہم نے مصحف کو لکھا تو سورۃ الاحزاب کی ایک آیت ہمیں نہیں ملی جس کو میں رسول اللہﷺ کو پڑھتے سنا کرتا تھا، پھر ہم نے اس آیت کو خزیمہ بن ثابت الانصاریؓ کے پاس پایا
مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيۡهِ
چنانچہ ہم نے اس آیت کو اس کی سورۃ کے اندر اپنے مصحف میں شامل کر دیا۔ ابن حجرؒ کا قول ہے یہ کارروائی 25ھ میں ہوئی تھی اور بعض ایسے لوگ جن کو ہم نے پایا ہے انہوں نے بھول کر یہ بات کہی کہ اس بات کا وقوع 03ھ کے حدود میں ہوا تھا مگر انہوں نے اپنے اس قول کا کوئی اسناد بیان نہیں کیا، ابن اشتہ نے ایوب کے طریق پر ابی قلابہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا مجھ سے انس بن مالک نامی بنی عامر کے ایک شخص نے بیان کیا کہ سیدنا عثمانؓ کے عہد میں قرآن کے اندر اس قدر اختلاف پڑ گیا جس کی وجہ سے پڑھنے والے بچوں اور معلم لوگوں کے مابین تلوار چل گئی سیدنا عثمانؓ کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے فرمایا، لوگ میرے سامنے ہی قرآن کو جھٹلانے اور اس میں غلطی کرنے لگیں گے تو غالباً جو مجھ سے دور ہوں گے وہ ان کی نسبت سے کہیں بڑھ کر جھٹلاتے اور غلطیاں کرتے ہوں گے، اے اصحابِ محمدﷺ تم مجتمع ہو جاؤ اور لوگوں کے لیے ایک امام (قرآن) لکھو، چنانچہ تمام صحابہؓ نے متفق ہو کر قرآن لکھنا شروع کیا، جس وقت کسی آیت کے بارے میں ان کے باہم اختلاف اور جھگڑا ہو پڑتا تو وہ کہتے یہ آیت رسول اللہﷺ نے فلاں شخص کو پڑھائی تھی، پھر اس کو بلوایا جاتا حالانکہ وہ شخص مدینہ سے تین دن کی مسافت پر ہوتا تھا اور جب وہ آ جاتا تو اس سے دریافت کرتے کہ فلاں آیت کی قرأت رسول اللہﷺ نے تمہیں کس طرح پر سنائی تھی وہ شخص کہتا ”یوں“ اس وقت اس آیت کو لکھ لیتے اور پہلے سے اس کی جگہ خالی رہنے دیتے تھے۔
اور ابن ابی داؤدؒ نے محمد بن سیرینؒ کے طریق پر کثیر بن افلح سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا جس وقت سیدنا عثمانؓ نے مصحفوں کے لکھوانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اس غرض سے بارہ مشہور آدمی قریش اور انصار دونوں قبائل کے جمع کیے پھر قرآن کے صحیفوں کا وہ صندوق منگوایا جو سیدنا عمرؓ کے گھر میں تھا، صندوقِ مذکور آ گیا تو سیدنا عثمانؓ نے ان لکھنے والوں کی نگرانی اپنے ذمہ لی اور نقل کرنے والوں کا انداز یہ تھا کہ جب وہ کسی بات میں باہم جھگڑ پڑتے تو اسے پیچھے ڈال دیتے (یعنی اس وقت لکھتے ہی نہ تھے) محمد بن سیرینؒ کا قول ہے ”وہ لوگ اس کی کتابت میں اس لیے تاخیر کر دیتے تھے کہ کسی ایسے شخص کا انتظار دیکھیں جو ان میں سب کی نسبت کلام اللہ کے آخری دور سے قریب تر زمانہ رکھتا ہے اور پھر اس کے بیان کے مطابق جو کچھ لکھنا رہ گیا ہے اسے لکھیں۔ ابن ابی داؤدؒ ہی صحیح سند کے ساتھ سوید بن غفلہ سے روایت کرتا ہے کہ اس نے کہا سیدنا علیؓ نے فرمایا سیدنا عثمانؓ کے بارے میں بجز کلمہ خیر کے اور کچھ مت کہو کیوں کہ واللہ انہوں نے مصاحف میں جو کچھ بھی تغیر کیا ہے وہ ہماری ایک جماعتِ کثیر کی عام رائے سے کیا ہے، انہوں نے ہم سے کہا تم لوگ قرآن کی قرأت کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ مجھے خبر ملی ہے کہ بعض اشخاص دوسروں سے کہتے ہیں۔ میری قرأت تمہاری قرأت سے بہتر ہے اور یہ بات قریب قریب کفر کے ہے۔
ہم لوگوں نے کہا پھر تمہاری کیا رائے ہے؟ سیدنا عثمانؓ نے جواب دیا مجھ کو تو یہ بات مناسب معلوم ہوتی ہے کہ تمام مسلمانوں کو ایک ہی مصحف پر جمع کر دیا جائے تا کہ پھر افتراق اور اختلاف پیدا نہ ہو سکے اور ہم لوگوں نے کہا، تمہاری رائے بہت اچھی ہے۔
ابن التین اور چند دیگر علماء کا قول ہے ”سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عثمانؓ کی قرآن کو جمع کرنے میں یہ فرق ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ کا جمع کرانا اس خوف سے تھا کہ مبادا حاملانِ قرآن کی موت کے ساتھ قرآن کا بھی کوئی حصہ جاتا رہے کیوں کہ اس وقت تمام قرآن ایک ہی جگہ اکٹھا نہیں تھا چنانچہ سیدنا ابوبکرؓ نے قرآن کو صحیفوں میں اس ترتیب سے جمع کیا کہ ہر ایک سورۃ کی آیتیں حسبِ بیان رسول اللہﷺ کے یکے بعد دیگرے درج کر دیں اور سیدنا عثمانؓ کے قرآن کو جمع کرنے کی یہ شکل ہوئی کہ جس وقت وجودِ قرأت میں بکثرت اختلاف پھیل گیا اور یہاں تک نوبت آ گئی کہ لوگوں نے قرآن کو اپنی اپنی زبانوں میں پڑھنا شروع کیا اور یہ ظاہر ہے کہ عرب کی زبانیں بہت وسیع ہیں، تو اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں میں سے ہر ایک زبان کے لوگ دوسری زبان والوں کو برسرِ راہ غلط بتانے لگے اور اس بارے میں سخت مشکلات پیش آنے اور بات بڑھ جانے کا خوف پیدا ہو گیا، اس لیے سیدنا عثمانؓ نے قرآن کے صحف کو ایک ہی مصحف میں سورتوں کی ترتیب کے ساتھ جمع کر دیا اور تمام عرب کی زبانوں کو چھوڑ کر محض قبیلہ قریش کی زبان پر اکتفا کر لی، اس بات کے لیے سیدنا عثمانؓ دلیل یہ لائے کہ قرآن کا نزول دراصل قریش ہی کی زبان میں ہوا ہے، اگرچہ ابتداء میں وقت اور مشقت دور کرنے کے لیے اس کی قرأت غیر زبانوں میں بھی کر لینے کی گنجائش دے دی گئی تھی لیکن اب سیدنا عثمانؓ کی رائے میں وہ ضرورت مٹ چکی تھی لہٰذا انہوں نے قرآن کی قرأت کا انحصار محض ایک ہی زبان میں کر دیا۔
قاضی ابوبکر اپنی کتاب الانتصار میں کہتے ہیں ”سیدنا عثمانؓ نے سیدنا ابوبکرؓ کی طرح قرآن کو ”مابین اللوحین“ ہی جمع کر دینے کا قصد نہیں کیا بلکہ انہوں نے تمام مسلمانوں کو ان معروف اور ثابت قرأتوں پر جمع کر دینے کا ارادہ کیا جو نبیﷺ سے منقول چلی آ رہی تھیں اور جس قدر قرأتیں ان کے سوا پیدا ہو گئی تھیں ان کو مٹا دینا چاہا، نیز انہوں نے مسلمانوں کو ایک ایسا مصحف دیا جس میں کوئی تقديم، تاخیر اور تاویل نہیں وہ تنزیل کے ساتھ ثبت کیا گیا ہے۔ اس کی تلاوت منسوخ نہیں ہوئی ہے وہ مصحف اپنے رسم کی مثبت دلیل کے ساتھ لکھا گیا ہے اور اس کی قرأت اور حفظ کے مقروض کا لحاظ کیا گیا ہے تا کہ بعد میں آنے والی نسلیں فساد اور شبہ میں نہ پڑ سکیں اور یہ خوف بالکل مٹ جائے“
اور حارث المحاسبی کا قول ہے۔ ”لوگوں میں یہ بات مشہور ہو رہی ہے کہ قرآن کو سیدنا عثمانؓ نے جمع کیا مگر دراصل یہ بات ٹھیک نہیں سیدنا عثمانؓ نے تو صرف یہ کیا کہ اپنے اور اپنے پاس موجود ہونے والے مہاجرین و انصار کے باہمی اتفاق رائے سے عام لوگوں کو ایک ہی وجہ سے قرأت کرنے پر آمادہ بنایا، کیونکہ ان کو اہل عراق اور اہل شام کے قرأتوں کے حروف میں باہم اختلاف رکھنے کے باعث فتنہ کا خوف پیدا ہو گیا تھا، ورنہ سیدنا عثمانؓ کے اس عمل سے پہلے جس قدر مصاحف تھے وہ تمام ایسی قرأت کی صورتوں سے مطابق تھے جن پر حروف سبعہ کا اطلاق ہوتا تھا اور ان پر قرآن کا نزول ہوا تھا اور یہ بات کہ قرآن جملہ سب سے پہلے کس نے جمع کیا؟ وہ سیدنا ابو بکر الصدیقؓ تھے اور سیدنا علیؓ کا قول ہے کہ اگر میں حکمران ہوتا تو مصاحف کے ساتھ وہی عمل کرتا جو سيدنا عثمانؓ نے کیا ہے۔
سیدنا عثمانؓ نے دنیائے اسلام کے ہر گوشہ میں جتنے مصاحف ارسال کیے تھے ان کی تعداد میں اختلاف کیا گیا ہے مشہور قول تو یہ ہے کہ وہ سب پانچ مصحف تھے اور ابن ابی داؤدؓ نے حمزه الزیات کے طریق سے یہ روایت کی ہے کہ سیدنا عثمانؓ نے دیگر ممالک اسلام میں چار مصحف بھیجے تھے، ابن ابی داؤدؒ کا بیان ہے میں نے ابی حاتم سجستانی سے سنا وہ کہتا تھا کہ جملہ سات مصاحف لکھے گئے تھے جن میں سے ایک ایک مصحف مکہ، شام، یمن، بحرین، بصرہ اور کوفہ کو ارسال کیا گیا اور باقی ماندہ ایک مصحف مدینہ میں محفوظ رکھا گیا۔(الاتقان فی علوم القرآن: صفحہ 162)
قرآن کریم کی موجودہ ترتیب پر اس سے پہلے بعض مستشرقین نے بھی اعتراض کیا ہے اور یہ ان کا ایک قدیم اعتراض ہے، بہت سے حضرات علماء کرام نے اس کے جوابات تحریر فرمائے ہیں۔
شيخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم تحریر فرماتے ہیں کہ موجودہ ترتیب کو معترضین کے وحی کےخلاف سمجھنے کی وجہ اسے ابتدائی زمانہ میں کتابی شکل میں لکھنے کے بجائے متفرق چیزوں پر لکھا جانا ہے، چنانچہ راڈویل نے اپنے ترجمہ قرآن کے مقدمہ میں لکھا ہے کہ موجودہ ترتیب کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا زید بن ثابتؓ نے جب متفرق تحریریں جمع کیں تو وہ انہیں جس ترتیب سے ملتی گئیں اسی ترتیب سے وہ لکھتے چلے گئے، لہٰذا اس میں کسی تاریخی یا معنوی ترتیب کا لحاظ نہیں رہ سکا۔
حالانکہ یہ تصور محض خیالی ناواقفیت پر مبنی اور واضح دلائل کے بالکل خلاف ہے اس لیے کہ آیات قرآنی کی ترتیب باتفاق وحی سے ثابت ہے، سیدنا عثمانؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ پر جب کوئی آیت نازل ہوتی تو آپ ﷺ کاتبین وحی کو ساتھ ہی یہ بھی بتا دیتے تھے کہ یہ آیت فلاں سورت میں فلاں آیت کے بعد لکھی جائے گی اور حضرات صحابہ کرامؓ نے قرآن کریم کو اسی ترتیب سے یاد کیا تھا، جو حضور ﷺ نے بتائی تھی۔
یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ سیدنا زیدؓ کو جس ترتیب سے آیتیں ملتی گئیں اسی ترتیب سے وہ لکھتے گئے، کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو موجودہ قرآن میں سب سے آخری آیت مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا الخ" ہونی چاہیے تھی، کیوں کہ سیدنا زیدؓ کو یہ آیت سب سے آخر میں ملی حالاں کہ یہ آیت سورۃ الاحزاب میں درج ہے، اس سے صاف طور پر واضح ہے کہ سیدنا زیدؓ اور ان کے رفقاء کے سامنے جب کوئی آیت لائی جاتی تھی تو وہ اس کو اس مقام پر لکھتے تھے جس مقام پر حضور ﷺ نے بتلایا تھا۔ البتہ سورتوں کی ترتیب کے بارے میں اہل علم کی دو رائیں ہیں، بعض حضرات کہتے ہیں کہ جو بھی بذریعہ وحی بتائی گئی ہے اور بعض حضرات کا خیال ہے کہ اسے حضرات صحابہ کرامؓ نے اپنے اجتہاد سے متعین کیا ہے۔
زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ بعض سورتوں کی ترتیب تو بذریعہ وحی ہی بتا دی گئی تھی البتہ بعض سورتوں مثلاً سورہ توبہ کے بارے میں کوئی صریح ہدایت موجود نہ تھی، اس لیے صحابہؓ نے اسے اپنے اجتہاد سے سورۂ انفال کے بعد رکھا۔ (علوم القرآن: صفحہ 75)