کیا قرآن پاک کی موجودہ ترتیب درست نہیں - ردِ رافضیت | دفاع…

کیا قرآن پاک کی موجودہ ترتیب درست نہیں

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 2 از 5

ابن حجرؒ کا قول ہے یہ اثر مقطوع ہونے کی وجہ سے کمزور ہے اور اگر اس کو صحیح بھی مانا جائے تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا علیؓ کی مراد قرآن کو جمع کرنے سے یہ تھی کہ وہ اسے اپنے سینہ میں محفوظ بناتے تھے یعنی حفظ کر رہے تھے۔ اور عبد خیر کی روایت سیدنا علیؓ سے جو پہلے گزر چکی ہے وہ زیادہ صحیح ہونے کے لحاظ سے قابل اعتماد ہے میں کہتا ہوں ایک دوسرے طریق سے جس کو ابن الضریس نے اپنی کتاب فضائل میں روایت کیا ہے یوں وارد ہوا ہے حدثنا بشر بن موسیٰ حدثنا ہودۃ بن خلیفہ حدثنا عون عن محمد بن سیرین عن عکرمہ عکرمہ نے کہا سیدنا ابوبکرؓ سے بیعت ہو جانے کے بعد سیدنا علیؓ اپنے گھر میں بیٹھ رہے سیدنا ابوبکرؓ سے کہا گیا کی سیدنا علی بن ابی طالبؓ نے تمہاری بیعت کو ناپسند کیا ہے. سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا علیؓ کو بلوا بھیجا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا تم کو میری بیعت ناگوار گزری ہے؟ سیدنا علیؓ نے جواب دیا نہیں واللہ ایسی بات ہرگز نہیں سیدنا ابوبکرؓ نے دریافت کیا "پھر تم میرے پاس آنے سے کیوں بیٹھ رہے؟" سیدنا علیؓ نے فرمایا میں نے دیکھا کہ کتاب اللہ میں زیادتی کی جا رہی ہے اس لیے اپنے دل میں کہا کہ جب تک اسے جمع نہ کر لوں اس وقت تک بجز نمازِ جمعہ کے اور کسی کام کے لیے اپنی چادر نہ اوڑھوں۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکرؓ بولے یہ بہت اچھی بات تمہارے خیال میں آئی ہے۔ محمد بن سیرینؒ کا قول ہے پھر میں نے عکرمہ سے کہا کیا صحابہؓ نے قرآن کی ترتیب اس کے نزول کے مطابق یوں ہی کی ہے کہ جو پہلے نازل ہوا اسے پہلے اور اس کے بعد نازل ہونے والے کو اس کے بعد رکھا؟ عکرمہ نے جواب دیا اگر تمام انسان اور جنات ایک جا اور فراہم ہو کر اسے اس طرح مرتب کرنا چاہیں تو بھی نہ کر سکیں گے۔ اور اسی روایت کو ابن اشتہ نے کتاب المصاحف میں دوسری وجہ پر ابن سیرین ہی سے بیان کیا ہے اور اس میں یہ ذکر آیا ہے کہ سیدنا علیؓ نے اپنے مصحف میں ناسخ و منسوخ کو درج کیا تھا اور ابن سیرین نے کہا کہ میں نے اس کتاب کو طلب کرنے کے لیے مدینہ کے لوگوں سے خط و کتابت کی لیکن وہ دستیاب نہ ہو سکی۔ اور ابن ابی داؤد نے حسن کے طریق سے روایت کی ہے کہ سیدنا عمرؓ نے کتاب اللہ کی کسی آیت کو دریافت کیا تو ان سے کہا گیا کہ وہ آیت فلاں شخص کو یاد تھی جو کہ معرکہ یمامہ میں مقتول ہو گیا، یہ سن کر سیدنا عمرؓ نے کہا انا للہ اور انہوں نے قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیا، پس وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قرآن کو مصحف میں جمع کیا۔ اس حدیث کے اسناد منقطع ہیں اور اس کے راوی نے اپنے قول وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قرآن کو جمع کیا سے یہ مراد لی ہے کہ انہوں نے قرآن کو جمع کرنے کا حکم دیا، میں کہتا ہوں قرآن کو سب سے پہلے جمع کرنے والے شخص کے بارہ میں جو ایک عجیب و غریب روایت آئی ہے اسے ابن اشتہ نے کتاب المصاحف میں کہمس کے طریق پر ابن بریدہ سے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا سب سے پہلا شخص جس نے قرآن کو مصحف میں فراہم کیا وہ سالم ابی حذیفہ کا مولیٰ (غلام آزاد کردہ) تھا اور اس نے قسم کھائی تھی کہ جب تک قرآن کو جمع نہ کر لے گا اس وقت تک چادر نہ اوڑھے گا (یعنی گھر سے باہر نہ نکلے گا کیونکہ چادر اسی حالت میں اوڑھی جاتی ہے) چنانچہ اس نے قرآن کو جمع کر لیا پھر لوگوں نے اس امر میں رائے زنی شروع کی کہ اس کا نام کیا رکھیں کسی نے کہا سفر نام رکھو مگر کہا گیا کہ یہ یہودیوں کی کتاب کا نام ہے اس لیے یہ ناپسند ہوا اور پھر کسی نے کہا میں نے اسی کی مانند کتاب کو حبشہ میں مصحف کہتے سنا ہے چنانچہ اس بات پر سب کا اتفاق رائے ہو گیا اور مجموعہ قرآن کا نام مصحف رکھ دیا گیا، اس روایت کے اسناد بھی منقطع ہیں اور یہ اس بات پر محمول ہے کہ سالم بھی سیدنا ابوبکرؓ کے حکم سے قرآن کو جمع کرنے والوں میں ایک کارکن تھے اور ابن ابی داؤدؒنے یحییٰ بن عبد الرحمٰن بن طالب کے طریق سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا سیدنا عمرؓ نے (مسجد میں) آ کر کہا جس شخص نے رسول اللہﷺ سے کچھ بھی قرآن کی تعلیم حاصل کی ہو وہ آ کر اپنے یاد کردہ قرآن کو سنائے اور لکھنے والے اشخاص اس کو تختیوں اور کھجور کی شاخوں کے ڈنٹھلوں پر لکھتے جاتے تھے اور سیدنا عمرؓ کسی شخص سے قرآن کا کوئی حصہ اس وقت تک تسلیم نہیں کرتے تھے جب تک وہ آدمی اپنے دو گواہ نہ لائے اور اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا زید بن ثابتؓ قرآن کو محض لکھا ہوا پانے ہی پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی شہادت ان لوگوں سے بھی بہم پہنچا لیتے جنہوں نے اسے سن کر یاد کیا تھا اور اس کے علاوہ خود سیدنا زیدؓ حافظ قرآن تھے، غرض کہ قرآن مکتوب کے موجود پانے اور خود حافظ ہونے کے باوجود ان کا دو شہادتوں کو بھی بہم پہنچا کر اسے مصحف میں تحریر کرنا حد درجہ کی احتیاط تھی، نیز ابن ابی داؤد ہی ہشام بن عروہ کے طریق پر اس کے باپ عروہ سے راوی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا عمرؓ اور سیدنا زیدؓ سے کہا تم دونوں مسجد کے دروازہ پر بیٹھ جاؤ پھر اس کے بعد جو شخص تمہارے پاس کتاب اللہ کا کوئی حصہ مع دو گواہوں کے لائے اسے لکھ لو۔ اس حدیث کے تمام راوی معتبر ہیں اگرچہ یہ روایت منقطع ہے ابن حجرؒ کا قول ہے دو گواہوں سے مراد حفظ اور کتابت تھی، (یعنی قرآن اس کو یاد بھی ہو اور اس کے پاس لکھا ہوا بھی ہو) اور سخاوی اپنی کتاب جمال القراء میں کہتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ دو گواه اس بات کی گواہی دیں کہ وہ لکھا ہوا قرآن خاص رسول اللہﷺ کے روبرو لکھا گیا ہے یا یہ مقصود ہے کہ اس قرأت کی نسبت شہادت دیں کہ یہ انہی وجوہ میں سے ہے جن پر قرآن کا نزول ہوا ہے۔ ابو شامہ کا قول ہے"اور ان کی (صحابہؓ کی) غرض یہ تھی کہ قرآن نہ لکھا جائے مگر اسی اصل سے جو رسول اللہﷺ کے روبرو تحریر میں آیا ہے نہ کہ محض یادداشت پر اعتماد کر کے لکھ لیا جائے اسی وجہ سے سیدنا زیدؓ نے سورۃ التوبہ کے آخری حصہ کی نسبت کہا ہے کہ" میں نے اسے ابو خزیمہ انصاریؓ کے سوا کسی اور کے پاس نہیں پایا، یعنی اس کو لکھا ہوا صرف انہی کے پاس پایا کیونکہ سیدنا زیدؓ محض یادداشت پر اکتفاء نہیں کرتے تھے بلکہ کتابت کو بھی دیکھنا چاہتے تھے" مگر میں کہتا ہوں کہ شہادت لینے سے مراد یہ ہے کہ سیدنا عمرؓ اور سیدنا زیدؓ دونوں اس بات کی شہادت بہم پہنچاتے تھے کہ جو قرآن کسی نے انہیں سنایا ہے آیا وہ نبیﷺ‎ پر ان کے سالِ وفات میں پیش ہو چکا ہے یا نہیں؟ اور ابن اشتہ نے کتاب المصاحف میں لیث بن سعد سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا سب سے پہلے قرآن کو سیدنا ابوبکرؓ نے جمع کیا اور سیدنا زید بن ثابتؓ نے اسے لکھا۔ لوگ سیدنا زیدؓ کے پاس قرآن کو لاتے تھے اور وہ بغیر دو معتبر گواہ لیے ہوئے اسے لکھتے نہ تھے اور سورۃ براءۃ کا خاتمہ محض ابو خزیمہ بن ثابتؓ کے پاس ملا تو سیدنا ابوبکرؓ نے کہا اس کو لکھ لو کیوں کہ رسول اللہﷺ نے ابوخزیمہؓ کی شہادت دو گواہوں کے برابر بنائی ہے چنانچہ سیدنا زیدؓ نے اسے لکھ لیا مگر سیدنا عمرؓ نے آیت رجم پیش کی تو اسے نہیں لکھا کیونکہ اس بارے میں تنہا سیدنا عمرؓ کے سوا اور کوئی شہادت بہم نہیں پہنچی۔ حارث محاسبی اپنی کتاب فہم السنن میں بیان کرتے ہیں کہ قرآن کی کتابت کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ خود رسول اللہﷺ اس کے لکھنے کا حکم دیتے تھے لیکن وہ قرآن جو رسول اللہﷺ کے زمانہ میں لکھا گیا تھا متفرق پرچوں، اونٹ کے شانہ کی ہڈیوں اور کھجور کی شاخ کے ڈنٹھلوں پر لکھا ہوا تھا اور سیدنا ابوبکرؓ نے صرف اس کے نقل کرنے اور اکٹھا کر لینے کا حکم دیا اور یہ کارروائی بمنزلہ اس بات کے تھی کہ کچھ اوراق رسول اللہﷺ کے گھر میں پائے گئے جن میں قرآن منتشر تھا پھر ان کو کسی جمع کرنے والے نے اکٹھا کر کے ایک ڈورے سے باندھ دیا تا کہ ان میں سے کوئی ٹکڑا ضائع نہ ہو جائے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ پرچوں کے رکھنے والوں اور لوگوں کے سینوں (حافظہ) پر کس طرح اعتماد کر لیا گیا؟ تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ وہ لوگ ایسی معجز تالیف اور معروف نظم کا اظہار کرتے تھے جس کی تلاوت کرتے ہوئے بیس سال تک نبیﷺ کو دیکھتے آئے تھے اور اس لحاظ سے یہ خوف بالکل نہ تھا کہ اس میں کوئی خارجی کلام ملا دیا جائے گا ہاں ڈر اس بات کا تھا کہ مبادا اس کے صفحوں میں سے کوئی صفحہ ضائع ہو جائے اور سیدنا زید بن ثابتؓ کی حدیث میں پہلے یہ بات مذکور ہو چکی ہے کہ انہوں نے قرآن کو کھجور کی شاخ کے ڈنٹھلوں اور پتھر کے ٹکڑوں سے جمع کیا اور ایک روایت میں چمڑے کے ٹکڑوں سے دوسری میں شانہ کی ہڈیوں سے تیسری میں پسلی کی ہڈیوں سے اور چوتھی روایت میں اونٹ کی کاٹھیوں کی لکڑیوں سے قرآن کا نقل کیا جانا بھی آیا ہے روایت کے الفاظ میں ”لخاف“ کا لفظ ”لخفہ“ کی جمع ہے جو باریک پتھر کے ٹکڑے کو کہتے ہیں اور خطابی کا قول ہے کہ ”لخفہ“ پتھر کی پتلی پیٹوں کو کہا جاتا ہے، اور ”رقاع“ کا لفظ ”رقعہ“ کی جمع ہے جو کھال، پتلی جھلی، پتے یا کاغذ کے ٹکڑے ہوتے تھے اور اکتاف ”کتف“ کی جمع ہے یہ اونٹ یا بکری کے شانہ کی چوڑی ہڈی ہوتی تھی جس پر خشک ہونے کے بعد لکھا کرتے تھے اور اقتاب لفظ قتب کے جمع ہے جو اونٹ کی کاٹھی کو کہتے ہیں اور ابن وہبؒ کی کتاب موطا میں مالک ؒسے بواسطہ ابن شہاب سالم بن عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوبکرؓ نے قرآن کو ”قراطیس“ میں جمع کیا اور انہوں نے اس بارہ میں سیدنا زید بن ثابتؓ سے دریافت کیا تھا تو زیدؓ نے ان کو مدد دینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ سیدنا ابو بکرؓ نے سیدنا عمرؓ کی مدد سے یہ کام انجام دیا اور موسیٰ ابن عقبہؒ کی کتاب المغازی میں ابن شہاب سے روایت کی گئی ہے کہ اس نے کہا جس وقت جنگِ یمامہ میں مسلمانوں کا بہت کچھ نقصان جان ہوا تو سیدنا ابوبکرؓ نہایت پریشان ہوئے اور وہ ڈرے کہ کہیں صحابہؓ کی شہادت سے قرآن کا کوئی حصہ تلف نہ ہو جائے پھر سب لوگ جو کچھ قرآن ان کے پاس تھا یا انہیں یاد تھا لے کر آنے لگے یہاں تک کہ سیدنا ابوبکرؓ کے زمانہ میں وہ اوراق میں جمع کر لیا گیا اس لحاظ سے سیدنا ابوبکرؓ پہلے شخص تھے جنہوں نے قرآن کو مصحف میں جمع کیا، ابن حجرؒ کا قول ہے اور عمارہ بن غزیہ ؒکی روایت میں آیا ہے کہ سیدنا زید بن ثابتؓ نے کہا پھر مجھ کو سیدنا ابوبکرؓ نے حکم دیا اور میں نے قرآن کو کھال کے ٹکڑوں اور کھجور کی شاخ کے ڈنٹھلوں میں لکھا، پھر جس وقت سیدنا ابوبکرؓ وفات پا گئے اور سیدنا عمرؓ کا زمانہ آیا تو پھر میں نے قرآن کو ایک ہی صحیفہ (ورق) میں لکھا اور یہ (قرآنِ مکتوب)

صفحہ 2 از 5