کیا قرآن پاک کی موجودہ ترتیب درست نہیں - ردِ رافضیت | دفاع…

کیا قرآن پاک کی موجودہ ترتیب درست نہیں

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 1 از 5

سوال 9:  کیا قرآن پاک کی موجودہ ترتیب درست نہیں جیسا کہ اس شخص کا کہنا ہے کیا قرآن کے موجودہ پاروں کی ترتیب کسی مکتب کے ملا نے دی تھی۔

جواب: ترتیب قرآن کا اعتراض بھی دیگر اعتراضات کی طرح اتنا لچر، لغو اور جہالت و حماقت پر مبنی ہے کہ اس پر کوئی پڑھا لکھا اور سمجھ دار شخص ہرگز اعتراض نہیں کر سکتا۔

قرآن کریم کی موجودہ ترتیب بھی حضرات خلفائے راشدین ہی کی دی ہوئی ہے۔ جس کو ان حضرات نے نبی کریمﷺ کی منشاء مبارک کے مطابق ہی ترتیب دیا ہے۔

علامہ سیوطیؒ نے اپنی کتاب الاتقان فی علوم القرآن میں اس پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے اور ثابت فرمایا ہے کہ قرآن کریم کی موجودہ ترتیب حضرات خلفائے راشدینؓ کے حکم و مرضی کے عین مطابق ہوئی ہے۔

چنانچہ علامہ سیوطی رحمۃاللہ لکھتے ہیں:

الدیر عاقولی اپنی کتاب الفوائد میں کہتا ہے: "حدثنا ابراہیم بن بشار، حدثنا سفیان بن عیینہ عن الزہری عن عبيد اور عبيد زيد بن ثابتؓ سے روایت کرتا ہے کہ انہوں نے کہا: نبیﷺ اس دارِ فانی سے رحلت فرما گئے اور اس وقت تک قرآن کسی چیز میں جمع نہیں کیا گیا تھا۔ الخطابی کا قول ہے "رسول اللہﷺ نے قرآن کو مصحف میں اس واسطے جمع نہیں فرمایا کہ آپ کو اس کے بعض احکام یا تلاوت کے نسخ کرنے والے حکم کے نزول کا انتظار باقی تھا۔ مگر جب سرکار دوعالمﷺ‎ کی وفات کے باعث قرآن کا نزول ختم ہو گیا تو خدا نے اپنے اس سچے وعدہ کو وفا کرنے کے لیے جو ان سے اس امت کی حفاظت کے متعلق فرمایا تھا خلفائے راشدینؓ کے دل میں یہ بات (قرآن کو جمع کرنے کی خواہش) ڈالی پھر اس عظیم الشان کام کا آغاز سیدنا عمرؓ کے مشورے کے مطابق سیدنا ابوبکرؓ کے ہاتھوں سے ہوا" مگر وہ روایت جو مسلم نے ابی سعیدؓ کی حدیث سے کی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: "لا تکتبوا عنی شیئا غیر القرآن" میری باتوں میں سے قرآن کے سوا اور کسی چیز کو نہ لکھو۔ 

وہ اس بات کی منافی نہیں ہوتی کہ سیدنا ابوبکرؓ نے پہلے قرآن کو جمع کی تھا کیونکہ یہاں مخصوص کتابت کی نسبت کلام کیا جاتا ہے جو ایک خاص طور سے لکھی گئی ورنہ یوں تو قرآن رسول اللہﷺ کے زمانہ میں لکھ لیا گیا تھا مگر وہ سب ایک ہی جگہ جمع اور سورتوں کی ترتیب کے ساتھ ہرگز نہ تھا اور حاکم مستدرک میں بیان کرتا ہے کہ قرآن تین مرتبہ جمع کیا گیا بار اول رسول اللہﷺ ہی کے زمانہ میں جمع ہوا تھا پھر اس نے ایک سند پر جو شیخین کی شرط سے مستند مانی گئی ہے زید بن ثابتؓ سے روایت کی ہے کہ سیدنا زیدؓ نے کہا ہم رسول اللہﷺ کے پاس قرآن کو مختلف پرچوں سے مرتب کیا کرتے تھے (کنا عند رسول اللہﷺ‎ نؤلف القرآن من الرقاع)

بیہقی کا قول ہے "اس حدیث سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ متفرق نازل ہونے والی آیتوں کو رسول اللہﷺ کے ایماء سے ترتیب وار ان کی سورتوں میں جمع کرنا مراد ہو۔ دوسری مرتبہ قرآن کے جمع اور مرتب کرنے کا اہم کام سیدنا ابوبکرؓ کے زمانہ میں اور ان کے روبرو ہوا۔" بخاری نے اپنی صحیح میں سیدنا زید بن ثابتؓ سے روایت کی ہے کہ "سیدنا ابوبکرؓ" کو جنگ یمامہ میں صحابہؓ کے شہید ہونے کی خبر ملی تو اسی وقت سیدنا عمرؓ بھی آپؓ کے پاس آئے۔ سیدنا ابوبکرؓ کہتے ہیں کہ سیدنا عمرؓ نے میرے پاس آ کر کہا کہ معرکہ یمامہ میں بہت سے قاریانِ قرآن کریم مقتول ہو گئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ آئندہ معرکوں میں بھی وہ مقتول ہوتے جائیں گے اور اس طرح بہت سا قرآن ہاتھوں سے جاتا رہے گا۔ میری رائے ہے کہ تم قرآن کے جمع کیے جانے کا حکم دو۔ میں نے سیدنا عمرؓ کو جواب دیا: جس کام کو رسول اللہﷺ نے نہیں کیا میں اسے کس طرح کروں؟ سیدنا عمرؓ نے کہا: "واللہ یہ بات بہتر ہے۔" غرض کہ وہ مجھ سے بار بار کہتے رہے یہاں تک کہ خداوند کریم نے میرا دل کھول دیا اور میں نے بھی اس بارے میں وہی رائے قائم کر لی جو سیدنا عمرؓ نے قائم کی تھی۔ زیدؓ کہتے ہیں: سیدنا ابوبکرؓ نے مجھ سے کہا تو ایک سمجھ دار نوجوان ہے اور ہم تجھ کو متہم نہیں کرتے اور تو رسول اللہﷺ کا کاتبِ وحی بھی تھا اس لیے اب قرآن کی تفتیش اور تحقیق کر کے اسے جمع کر لے۔ سیدنا زیدؓ کہتے ہیں: واللہ مجھ کو ایک پہاڑ اس کی جگہ سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھ دینے کا حکم دیتے تو یہ بات مجھ پر گراں نہ ہوتی جس طرح قرآن کے جمع کرنے کا حکم مجھ پر شاق گزرا اور میں نے سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ سے کہا تم دونوں صاحب وہ کام کس طرح کرتے ہو جسے رسول اللہﷺ‎ نے نہیں کیا؟ سیدنا ابوبکرؓ نے جواب دیا واللہ یہ بات بہتر ہے اور پھر وہ برابر مجھ سے اس بارے میں بار بار کہتے رہے تا آں کہ خدا نے میرا دل بھی اسی بات کے لیے کھول دیا جس بات کے واسطے سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ کا دل کھولا تھا۔ پھر تو میں نے قرآن کی تلاش اور جستجو کا آغاز کر دیا۔ اور اسے کھجور کی شاخوں اور سفید پتھروں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے جمع کرنا شروع کر دیا اور میں نے سورۃ التوبہ کی خاتمہ کی آیتیں لَـقَدۡ جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌ والی آیات صرف ابی خزیمہ انصاریؓ کے پاس پائیں اور ان کے سوا کسی سے یہ آیتیں نہ مل سکیں۔

وہ منقول صحیفے سیدنا ابوبکرؓ کے پاس رہے یہاں تک کہ انہوں نے وفات پائی تو اب سیدنا عمرؓ نے ان کی محافظت کی اور سیدنا عمرؓ کا انتقال ہونے کے بعد وہ صحافت بجنسہ سیدہ حفصہ بنت عمرؓ کے پاس محفوظ رہے۔

اور ابن ابی داؤدؒنے کتاب المصاحف میں عبد خیر سے سند حسن کے ساتھ روایت کی ہے کہ اس نے کہا میں نے سیدنا علیؓ کو یہ کہتے سنا ہے کہ مصاحف کے بارہ میں سب سے زائد اجر سیدنا ابوبکرؓ کو حاصل ہو گا ا للہ سیدنا ابوبکرؓ پر رحمت کرے وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے کتاب اللہ کو جمع کیا، لیکن ابن ابی داؤدؒ ہی نے ابن سیرین کے طریق سے یہ بھی روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا سیدنا علیؓ فرماتے تھے کہ جس وقت رسول اللہﷺ نے وفات پائی تو میں نے اپنے دل میں اس بات کا عزم کر لیا کہ جب تک قرآن کو جمع نہ کر لوں اس وقت تک بجز نمازِ جمعہ کے اور کسی کام کے لیے اپنی رداء (چادر) نہ اوڑھوں گا چنانچہ میں نے قرآن کو جمع کر لیا۔

صفحہ 1 از 5