سیدنا حسینؓ کی تواضع
مولانا اقبال رنگونیسیدنا حسینؓ میں تواضع کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ایک مرتبہ آپؓ گھوڑے پر جا رہے تھے غرباء کی ایک جماعت کو دیکھا جو زمین پر بیٹھے روٹی کھا رہے تھے آپؓ نے انہیں سلام کیا انہوں نے آپؓ کو پہچان لیا اور کہا کہ: اے رسول اللہﷺ کے بیٹے تشریف لائیے آپؓ گھوڑے سے اتر پڑے اور ان کے ساتھ وہیں زمین پر بیٹھ کر کھانے لگے آپؓ نے اس وقت یہ بھی فرمایا اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ہے۔
(الجوہرہ: جلد 2 صفحہ 213)
حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ فرماتے ہیں:
سیدنا حسینؓ کی حکایت ہے کہ آپؓ کے ہاں چند مہمان تھے کھانے کا وقت آیا غلام کھانا لایا اتفاق سے شوربے کا پیالہ لیے ہوئے تھا کہ فرش پر پاؤں پھسلا، پیالے میں سے گرم شوربا آپؓ کے چہرہ مبارک پر گر پڑا آپؓ سمجھ سکتے ہیں کہ کیسا منظر تھا اس وقت کے اہل جاہ اپنے دل میں ٹٹولیں کہ ایسے موقع پر وہ کیا کرتے ہیں، آپؓ نے کچھ نہیں کیا مگر مصلحت تعلیم، نظر تادیب سے اس کی طرف دیکھا اس کی زبان پر فوراً یہ جاری ہو گیا۔ وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ اللہ کے خاص بندے غصے کو پینے والے ہیں آپؓ نے فرمایا کظمت غیظی کہ میں نے اپنا غصہ پی لیا پھر غلام نے کہا: وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِ اور وہ لوگوں کو معاف کردیتے ہیں آپؓ نے فرمایا: عفوت عنك میں نے تجھے معاف کیا پھر اس نے کہا: ”وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَ“ اور اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے آپؓ نے فرمایا: قد اعتقك لوجہ اللہ کہ میں نے تجھے اللہ کے واسطے آزاد کیا۔
(وعظ الہویٰ والہدیٰ: صفحہ 23)
اور جو کچھ میں تجھ کو دیتا ہوں اس سے دگنا مقرر کردیا۔ (جلد 2 صفحہ 112)
ایک مرتبہ عصام بن مصطلق نامی شخص نے سیدنا حسینؓ اور آپؓ کے والد گرامی سیدنا علیؓ کے متعلق انتہائی گستاخانہ باتیں کہیں آپؓ نے بجائے اس کی کسی بات کا جواب دینے کے اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھنے کے بعد قرآن کریم کی یہ آیتیں تلاوت فرمائیں:
خُذِ الۡعَفۡوَ وَاۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَاَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰهِلِيۡنَ
وَاِمَّا يَنۡزَغَـنَّكَ مِنَ الشَّيۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰهِ اِنَّهٗ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ اِنَّ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّهُمۡ طٰۤئِفٌ مِّنَ الشَّيۡطٰنِ تَذَكَّرُوۡا فَاِذَا هُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ (سورۃالاعراف: 199، 201)
ترجمہ: (اے پیغمبرﷺ) درگزر کا رویہ اپناؤ، اور لوگوں کو نیکی کا حکم دو، اور جاہلوں کی طرف دھیان نہ دو اور کبھی شیطان کی طرف سے تمہیں کچوکا لگ جائے تو اللہ کی پناہ مانگ لو یقینا وہ ہر بات سننے والا ہے ہر چیز کا جاننے والا ہے، جن لوگوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے انہیں جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال آکر چھوتا بھی ہے تو وہ (اللہ کو) یاد کر لیتے ہیں، چنانچہ اچانک ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
پھر فرمایا کہ اپنے آپ کو ہلکا کر لے غصہ میں نہیں آ، میں اپنے اور تمہارے لیے اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں۔
(البحر المحیط: جلد 5 صفحہ 259)
نوٹ: حضرت امام قرطبیؒ نے یہ واقعہ سیدنا حسن بن علیؓ کے متعلق لکھا ہے اور اس کی تفصیل میں لکھا ہے کہ پھر آپ نے فرمایا:
بلاشبہ اگر تو ہم سے مدد طلب کرے تو ہم تیری مدد کریں گیں اور اگر تو ہم سے کوئی عطیہ مانگے تو ہم تجھے وہ بھی دیں گیں اگر تو ہم سے کوئی رہنمائی مانگے تو ہم تیری رہنمائی بھی کریں گے، اس نے کہا کہ مجھ سے زیادتی ہوئی آپ مجھے معاف کردیں آپ نے فرمایا: کہ آج تم پر کوئی گرفت نہیں ہے اللہ تعالیٰ تمہارے قصور کو معاف کر دے اور وہ سب مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے۔
(تفسیر قرطبی: جلد 7 صفحہ 351)
