شیعوں کے قربانی و ذبیحہ کے استعمال کا حکم - فتاویٰ جات |…

شیعوں کے قربانی و ذبیحہ کے استعمال کا حکم


سوال:  کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارے ملک پاکستان میں جو شیعہ لوگ رہتے ہیں، ہم سنی مسلمانوں کے لیے ان کے جنازہ، ختم، قل وغیرہ میں شرکت کرنا کیسا ہے؟ اس کے بارے میں عوام الناس کے لیے کیا حکم ہے اور خصوصاً ہمارے اہلِ سنت والجماعت کے علمائے کرام کے لیے کیا حکم ہے کہ ان کی نمازِ جنازہ پڑھا سکتے ہیں یا نہیں؟ اگر وہ کسی ختم وغیرہ کے لیے ہمارے ائمہ مساجد کو بلاتے ہیں تو ان کو جانا چاہیے یا نہیں؟ اگر ان کے گھر سے کھانے کی کوئی چیز پیش کی جائے یا بھیجی جائے تو لینی چاہیے یا نہیں؟

جواب: صورتِ مسئولہ میں شیعہ اپنے عقائد کی بناء پر قطعاً کافر اور زندیق ہیں۔ لہٰذا ان سے مراسمِ اسلامیہ مثلاً مناکحت، قربانی، ذبیحہ کا استعمال، جنازہ پڑھنا، ان کو اپنے جنازہ میں شریک کرنا اور ان کو اپنے نکاحوں میں گواہ بنانا وغیرہ کا ترک کرنا واجب ہے اور لین دین سے پرہیز کرے۔  

مأخوذ من الفتح حیث قال: وأما المعتزلة الخ، أقول: یدخل فی هذا الرافضة بأنواعها ولا معتزلة، فلا یجوز تزویج المسلمة السنیة من الرافضی لأنها مسلمة وهو کافر، فدخل تحت قولهم: لا یصح. وقال الاستغنی: لا تصح المناکحة بین أهل السنة والجماعة والاعتزال، فالرافضة مثلهم 

(تقریرات الرافعی علی رد المختار: جلد  2 صفحہ 183) 

(ارشاد المفتین: جلد1 صفحہ  532)