سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ کیا اسماعیلی (آغاخانی) فرقے کے کسی فرد کا مذبوحہ گوشت حلال ہے یا حرام؟ جبکہ ہمارے علاقے کے اسماعیلیوں کے عقائد درجِ ذیل ہیں:
1: کلمہ طیبہ بظاہر پڑھتے ہیں، لیکن قرآنِ پاک کو آسمانی کتاب اور اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں مانتے۔ اس کی بجائے امامِ زمان (شاہ کریم آغاخان) کے فرامین کو قرآن تصور کرتے ہیں اور اسے بولتا قرآن کہتے ہیں اور مانتے ہیں۔
2: نمازِ پنجگانہ اور نمازِ جمعہ کے صریح منکر ہیں۔ البتہ مخصوص عبادت گاہ جماعت خانہ میں جا کر صبح و شام بعض قرآنی آیات کو ملا کر دعا پڑھتے ہیں، جس میں ہر سجدے سے پہلے یا شاہ کریم اللہم لک سجودی و طاعتی کے الفاظ بولتے ہیں اور آخر میں امامِ زمان کو حاضر و ناظر جان کر اس سے براہِ راست مدد طلب کرتے ہیں۔
3: بظاہر کہتے ہیں کہ ہم روزہ رکھتے ہیں، لیکن فی الحقیقت روزہ اور رمضان کے بھی منکر ہیں، روزہ بالکل نہیں رکھتے۔
4: زکوٰۃ امامِ زمان (آغاخان) کے نام پر دیتے ہیں اور اسے بیت المال میں جمع کرتے ہیں، کسی مستحق کو نہیں دیتے، چاہے وہ مستحق اسماعیلی ہی کیوں نہ ہو۔
5: حجِ بیت اللہ کے صریح منکر ہیں۔ امامِ زمان (آغاخان) کو دیکھنا یا اس سے ملنا حج تصور کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک حجِ بیت اللہ، خانہ کعبہ جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
6: عیدین کی نمازیں اہلِ تشیع کی طرح پڑھتے ہیں۔ دیگر رسوم شادی بیاہ وغیرہ تمام مسلمانوں کی طرح ہیں۔
7: بظاہر کہتے ہیں کہ ذبح کرتے وقت ہم اللہ اکبر ہی پڑھتے ہیں، لیکن ان کے عقائد کے مطابق ہر عبادت، ہر کام کے دوران ایمانِ امامِ زمان (آغاخان) کا تصور دل میں ہونا ضروری ہے۔
گزارش ہے کہ مذکورہ بالا عقائد کے حامل افراد کا مذبوحہ کیسا ہے؟ مفصل فتویٰ جاری فرما کر مشکور فرمائیں۔ یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ کیا انہیں اہلِ کتاب (عیسائی و یہودی) جیسا قیاس کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
جواب: سوال میں مذکورہ عقائد کا حامل شخص صرف کافر ہی نہیں بلکہ زندیق ہے۔ اس کا ذبیحہ حرام ہے۔
قال العلامة التفتازانی: وإن کان مع اعترافه بنبوة النبی صلى الله علیه وسلم و إظهاره شعائر الإسلام یبطن عقائد ھی کفر بالاتفاق، خص بالاسم الزنديق
(شرح المقاصد: جلد، 2 صفحہ، 269)
قلت: الزنديق من یحرف فی معانی الألفاظ مع إبقاء الإسلام، کهذا اللعین فی القادیان یدعی أنه یؤمن بختم النبوة ثم یخترع له معنى من عنده یصلح له بعد الختم و دلیلاً على فتح باب النبوة، فهذا هو الزنديق حقاً، أی التغییر فی المصادیق و تبدیل المعانی على خلاف ما عرفت عند أهل الشرع و صرفها إلى أهوائه مع إبقاء اللفظ على ظاهره، والعیاذ باللہ
(فیض الباری: جلد 4 صفحہ 472)
والشرط کون الذابح مسلماً أو کتابیاً ذمیاً أو حربیاً
(تنویر الأبصار: جلد 2 صفحہ 228)
جو شخص اسلام کا نام لے کر کفریہ عقائد رکھے وہ اہلِ کتاب نہیں بلکہ زندیق ہوتا ہے۔
إن المخالف للدین الحق إن لم یعترف به و لم یدعن له لا ظاہراً ولا باطناً فهو کافر، و إن اعترف بلسانه و قلبه على الکفر فهو المنافق، وإن اعترف به ظاہراً لکنه یفسر بعض ما ثبت من الدین ضرورة بخلاف ما فسره الصحابة والتابعون واجتمعت علیه الأمة فهو الزنديق
(المسوی: جلد 3 صفحہ 130)
(ارشاد المفتین: جلد 1 صفحہ 507)