سوال 6: کیا شیعہ واقعتاً تحریفِ قرآن کے قائل نہیں جیسا کہ شخص مذکور کا دعویٰ ہے۔
جواب : تحریفِ قرآن کا مسئلہ شیعوں کے یہاں متعہ، تقیہ اور مسئلہ بداء کی طرح ان کے اہم اور بنیادی معتقدات میں سے ہے۔ جس طرح کوئی شیعہ بغیر سبِ صحابہؓ کے متصور و موجود نہیں ہو سکتا اسی طرح ان کی کتابوں کی تصریحات کی روشنی میں تحریفِ قرآن کا مسئلہ بھی ان کے یہاں مسلم اور ناقابل انکار حقیقت ہے۔ چنانچہ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب لدھیانویؒ نے رسالہ حقیقت شیعہ کے اندر بڑی تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی ہے۔
اسی طرح حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ نے بھی اپنی معرکۃ الآراء کتاب ایرانی انقلاب، امام خمینی اور شیعیت میں ان کی حقیقت کو خوب آشکارا فرمایا ہے۔ ان کتابوں کو پڑھنے والا کوئی ذی شعور کبھی ان کے دھوکے میں نہیں آ سکتا۔
چنانچہ تحریفِ قرآن کا مسئلہ ان کے یہاں مسلمات اور متواترات میں سے ہے، ان ہی کی کتابوں کی تصریحات کے چند نمونے ذیل میں ملاحظہ ہوں۔ جو شخص تفصیل دیکھنا چاہے وہ مذکورہ بالا کتابوں میں دیکھ سکتا ہے۔
1: اہلِ بیت کے واسطہ سے پہنچی ہوئی روایات سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ جو قرآن ہمارے پاس ہے وہ پورے کا پورا اس طرح نہیں ہے جس طرح محمدﷺ پر نازل ہوا تھا، بلکہ اس میں کچھ حصہ ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے قرآن کے خلاف ہے اور کچھ حصے میں تغیر اور تحریف واقع ہوئی ہے اور اس میں سے بہت سی چیزیں نکال دی گئی ہیں۔
ان میں سے مثلاً سیدنا علیؓ کا نام ہے جو قرآن میں کئی مقامات سے نکال دیا گیا ہے، ان کے علاوہ بھی کئی ایسے مواضع ہیں۔
المستفاد من مجموع هذا الاخبار وغيره من الروايات من طريق اهل البيت علیھم السلام ان القرآن الذين بين اظهرنا ليس بتمامه كما انزل على محمدﷺ بل منه ماهو خلاف ما انزل الله ومنه ما هو مغير و محرف و انه قد حذف منه اشياء كثيرة منها اسم على فى كثير من المواضع ومنها غير ذلك (دیباچہ تفسیر صافی)
2: قرآن میں سے جو کچھ نکالا گیا ہے یا اس میں تحریف اور رد و بدل وغیرہ کیا گیا ہے اگر میں ان سب کو بیان کروں تو بات بہت لمبی ہو جائے اور وہ چیز ظاہر ہو جائے جس کے اظہار کی تقیہ اجازت نہیں دیتا۔
لو شرحت لك كل ما اسقط و حرف و بدل مما، يجری هذا المجرى لطال و ظهر ما تحظر التقية اظهاره(احتجاج طبرسی صفحہ: 128 طبع ایران)
3: محدث جزائری کہتے ہیں کہ صراحتاً تحریفِ قرآن پر دلالت کرنے والی متواتر روایتوں کی صحت پر (ہمارے) سبِ اصحابؓ کا اتفاق ہے۔
قال السيد المحدث الجزائری ما معناه ان الاصحاب قد اطبقوا على صحة الاخبار المستفيضة المتواترة الدالة بصريحها على وقوع التحريف فى القرآن (فصل الخطاب علامہ نوری صفحہ: 30)
4: تحریفِ قرآن پر دلالت کرنے والی روایات دو ہزار سے زیادہ ہیں، ایک جماعت نے ان کے متواتر ہونے کا دعویٰ کیا ہے جیسے مفید، محقق داماد، اور علامہ مجلسی وغیرہ۔
ان الاخبار الدالة على ذلك تزيد على الفى حديث وادعى استفاضتها جماعة كالمفيد والمحقق الداماد والعلامة المجلسى(فصل الخطاب علامہ نورى صفحہ: 30)
5: علی بن سوید کہتے ہیں ابو الحسن اول نے مجھے جیل سے لکھا، ”اے علی! یہ جو تم نے لکھا ہے کہ دین کی بنیادی باتیں کس سے سیکھوں؟ اپنے دین کی باتیں سوائے ہمارے شیعہ کے اور کسی سے حاصل نہ کرو اس لیے کہ اگر تم ان کے علاوہ دوسرے کے پاس گئے تو گویا تم نے ایسے خیانت کرنے والوں سے علم حاصل کیا جنہوں نے اللہ و رسولﷺ سے خیانت کی اور جو امانت ان کے پاس رکھی گئی تھی اس میں خیانت کی ان کے پاس کتاب اللہ امانت تھی انہوں نے اس میں تحریف کر ڈالی اور اس میں تبدیلیاں کیں، ان پر اللہ، ملائکہ، میرے نیک آباء و اجداد، میری اور میرے تمام شیعہ کی قیامت تک پھٹکار ہو"
عن علی بن سوید السائى قال كتب الى ابو الحسن الاول وهو فى السجن واما ما ذكرت يا على ممن تاخذ معالم دينك لاتأخذن معالم دينك عن غير شيعتنا فانك ان تعديتهم اخذت دينك عن الخائنين الذین خانوا اللّٰہ ورسولہ و خانو اماناتھم انھم اوتمنوا علی کتاب اللّٰہ جل و علی فحرفوہ و بدلوہ فعلیہم لعنة اللّٰہ و لعنة ملائکتہ و لعنة آبائی الکرام البررة ولعنتی ولعنة شیعتی الی یوم القیمة
(رجال کشی طبع بمبئی: جلد 1317ھ تالیف ابو عمرو محمد بن عمر عبد العزیز الکشی صفحہ 3 سطر 3)
7: قرآن سے مراد وہ قرآن ہے جو ائمہ کے پاس محفوظ ہے جس کی سترہ ہزار آیتیں ہیں۔ مراد بقرآن قرآن محفوظ نزد آئمہ علیہ السلام ست کہ ہفدہ ہزار آیت ست۔
(صافی شرح کافی: جلد 2 کتاب فضل القرآن: جلد ششم صفحہ 65 طبع نولکشور)
موجود قرآن میں 6236 آیتیں ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ دو تہائی قرآن غائب ہے اور ایک تہائی موجود ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ موجود قرآن سے تین گناہ زیادہ قرآن پورے کا پورا غائب ہے جس میں موجودہ قرآن کا ایک حرف بھی نہیں، چنانچہ آئندہ روایت میں اس کی صراحت آ رہی ہے، اس سے ثابت ہوا کہ شیعہ مذہب کے مطابق قرآن میں ایک حرف بھی صحیح نہیں، اس روایت میں اگر حرف بمعنیٰ لفظ کی تاویل بھی کر لی جائے تو بھی ثابت ہوا کہ شیعہ کے قرآن میں ایمان، کفر، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، حشر و نشر، حساب و کتاب، جنت و دوزخ حتیٰ کہ اللہ، رسولﷺ اور ملائکہ میں سے کوئی ایک لفظ بھی نہیں۔
7: ابو عبد اللہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس سیدہ فاطمہؓ کا مصحف ہے، ان کو کیا معلوم کہ وہ کیسا مصحف ہے۔ مصحفِ فاطمہؓ تمہارے قرآن سے تین گناہ زیادہ ہے اور خدا کی قسم تمہارے قرآن کا ایک حرف بھی اس میں نہیں ہے۔
عن ابی عبد الله عليه السلام و ان عندنا مصحف فاطمة و ما يدريہم ما مصحف فاطمة قال مصحف فيه مثل قرآنکم ثلاث مرات و الله ما فيه من قرآنکم حرف واحد
(اصول کافی: 146طبع نول کشور، صافی کتاب الحجہ: جلد 3 صفحہ 180)
8: ابو عبد اللہ سے روایت ہے کہ جو قرآن جبرائیلؑ محمدﷺ کے پاس لائے تھے اس کی سترہ ہزار آیتیں تھیں۔
عن ابی عبد الله عليه السلام قال ان القرآن جاء به جبرئیل علیه السلام الی محمد صلى الله عليه وسلم سبعة عشر الف آية(اصول کافی: صفحہ 671)
9: ابو محمد کہتے ہیں کہ میرے استاذ نے مجھ سے کہا، اے محمد! بیشک ہمارے پاس الجامعہ ہے ان کو کیا معلوم کہ جامعہ کیا ہے؟ میں نے کہا، میں آپ پر فدا ہوں جامعہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صحیفہ ہے جس کی لمبائی حضورﷺ کے گز سے ستر گز ہے۔
قال يا ابا محمد و ان عندنا الجامعة و ما يدريہم ما الجامعة قال قلت جعلت فداك و ما الجامعة قال صحيفة طولها سبعون ذراعا بذراع رسول اللهﷺ
(صافی: جلد 3 کتاب الحجۃ: صفحہ 178،
(اصول کافی: 146)
10: راوی کہتے ہیں کہ میرے استاذ نے کہا بیشک ہمارے پاس "جفر" ہے ان کو کیا معلوم کہ "جفر" کیا ہے؟ میں نے کہا "جفر" کیا ہے؟ تو فرمایا وہ ایک چمڑے کا تھیلا ہے جس میں نبیوں، وصیوں اور علماء بنی اسرائیل کے علوم ہیں۔
قال ان عندنا الجفر وما يدريھم ما الجفر قال قلت وما الجفر قال وعاء من آدم فيه وعلم النبيين والوصيين وعلم العلماء الذين مضوا من بنی اسرائیل(اصول کافی: 146)
11: ابو بصیر ابو عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: هٰذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ یہ ہماری کتاب (اعمال نامہ) تمہارے خلاف ٹھیک ٹھیک بولے گا۔ ابو عبد اللہ نے کہا کہ کتاب نہ کبھی بولی ہے اور نہ بولے گی، البتہ رسول اللہﷺ کتاب کو بولتے (پڑھتے) ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو "ھذا رسولنا ینطق بالحق" فرمایا ہے، میں نے کہا میں تم پر فدا ہوں، ہم تو اس طرح نہیں پڑھتے تو فرمایا، خدا کی قسم جبرائیلؑ نے محمدﷺ پر اسی طرح (ھذا رسولنا الخ) نازل کی تھی لیکن اللہ کی کتاب میں تحریف کر کے یہ بدل دیا گیا ہے۔
عن ابی عبد الله عليه السلام قال قلت له قول الله عزوجل هٰذَا كِتٰبُنَا يَنۡطِقُ عَلَيۡكُمۡ بِالۡحَقِّ قال فقال ان الكتاب لم ينطق ولن ينطق ولكن رسول الله هو الناطق بالكتاب قال عزوجل ذكره هذا رسولنا ينطق علیکم بالحق، قال فقلت جعلت فذک انا لا نقرؤها هكذا فقال هكذا والله نزل جبرئیل علی محمد ولكنه حذف من کتابه عزوجل(روضہ کلینی: 25)
12: موسیٰ کاظم نے علی بن سوید کو حکم دیا کہ جو تمہارے شیعوں میں سے نہیں ہیں ان سے دین حاصل مت کرو اور ان کے دین کو دوست نہ رکھو کیوں کہ یہ وہی خیانت کرنے والے ہیں جنہوں نے اللہ ورسولﷺ کے ساتھ خیانت کی اور اپنی امانتوں میں خیانت کی تمہیں معلوم ہے وہ کیا امانتیں ہیں؟ ان کو کتاب اللہ پر امین بنا دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس میں تحریف کر ڈالی۔ اور اسے بدل دیا۔
امر موسیٰ کاظم لعلی بن سويد ولا تلتمس دينا من ليس من شيعتك ولا تحبن دينهم فانهم الخائنون الذين خانوا الله ورسوله وخانوا اماناتهم على كتاب الله فحرفوه وبدلوه۔(روضہ کلینی: صفحہ 61)
13: ابو جعفر کہتے ہیں کہ قرآن کے چار حصے نازل ہوئے تھے، ایک ربع ہمارے بارے میں ہے، ایک ربع ہمارے دشمنوں کے بارے میں ہے، ایک ربع میں سنن و امثال ہیں اور ایک ربع میں فرائض و احکام شرع ہیں۔
عن ابی جعفر قال نزل القرآن اربعة ارباع ربع فينا وربع في عدونا وربع سنن وامثال وربع فرائض واحکام شرع۔
(اصول کافی: صفحہ 669)
(14) ابو بصیر، ابو عبد اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آیت وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ فَقَدۡ فَازَ فَوۡزًا عَظِيۡمًا اس طرح نازل ہوئی تھی "ومن يطع الله ورسوله فی ولاية علی والائمة من بعده فقد فاز فوزا عظيما"۔
عن ابی بصیر عن ابی عبد الله عليه السلام فی قول الله عزوجل ومن يطع الله ورسوله فی ولاية علی والائمة من بعده فقد فاز فوزا عظيما، هكذا نزلت۔
(اصول کافی: صفحہ 263)
15: ابو عبد اللہ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ آیت وَلَـقَدۡ عَهِدۡنَاۤ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِىَ اس طرح نازل ہوئی تھی
ولقد عهدنا الی آدم من قبل کلمات فی محمد وعلی وفاطمة والحسن والحسین والائمة من ذریتهم فنسى۔
عن ابی عبدالله علیہ السلام فی قوله ولقد عهدنا الی آدم من قبل کلمات فی محمد وعلی وفاطمة والحسن والحسین والائمة من ذریتهم فنسى هكذا والله نزلت علی محمد۔
(اصول کافی: صفحہ 263)
16: جبرائیلؑ نے آیت بِئۡسَمَا اشۡتَرَوۡا بِهٖۤ اَنۡفُسَهُمۡ اَنۡ يَّڪۡفُرُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ بَغۡيًا محمدﷺ پر اس طرح نازل کی تھی بئس ما اشتروا به انفسهم ان يكفروا بما انزل الله فی علی بغيا۔
نزل جبرئیل بهذه الآية على محمدﷺ بئس ما اشتروا به انفسهم ان يكفروا بما انزل الله فی علی بغيا۔
(حوالہ بالا)
17: جبرائیلؑ آیت فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلاً غَيۡرَ الَّذِىۡ قِيۡلَ لَهُمۡ فَاَنۡزَلۡنَا عَلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ کو محمدﷺ پر اس طرح لائے تھے فبدل الذين ظلموا آل محمد حقهم قولا غير الذي قيل لهم فانزلنا على الذين ظلموا آل محمد حقهم رجزا من السماء بما كانوا يفسقون۔
نزل جبرئیل بهذه الآية على محمد صلى الله عليه وسلم هكذا فبدل الذين ظلموا آل محمد حقهم قولا غير الذي قيل لهم فانزلنا على الذين ظلموا آل محمد حقهم رجزا من السماء بما كانوا يفسقون۔
(اصول کافی: صفحہ 267)
18: آیت وَلَوۡ اَنَّهُمۡ فَعَلُوۡا مَا يُوۡعَظُوۡنَ بِهٖ لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ۔ یوں نازل ہوئی تھی: ولو انهم فعلوا ما يوعظون به فى على لكان خيرا لهم۔
هكذا نزلت هذه الآية ولو انهم فعلوا ما يوعظون به فى على لكان خيرا لهم۔
(اصول کافی: صفحہ 268)
19: حضرت جبرائیلؑ نے آیت فَاَبٰٓى اَكۡثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوۡرًا اس طرح نازل کی تھی: فابى اكثر الناس بولاية على الا كفورا۔
نزل جبرئیل بهذه الآية هكذا فابى اكثر الناس بولاية على الا كفورا۔
(اصول کافی: صفحہ 268)
20: جبرائیلؑ نے آیت وَقُلِ الۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ (الی قوله) اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلظّٰلِمِيۡنَ نَارًا یوں نازل کی تھی: وقل الحق من ربكم فى ولاية على (الى قوله) انا اعتدنا للظالمين آل محمد ناراً۔
ونزل جبرئیل بهذه الآية وقل الحق من ربكم فى ولاية على (الى قوله) انا اعتدنا للظالمين آل محمد ناراً
(اصول کافی: صفحہ 268)
21: جبرائیلؑ آیت اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَظَلَمُوۡا لَمۡ يَكُنِ اللّٰهُ لِيَـغۡفِرَ لَهُمۡ وَلَا لِيَـهۡدِيَهُمۡ طَرِيۡقًا (الی قوله) يٰۤـاَيُّهَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمُ الرَّسُوۡلُ بِالۡحَـقِّ مِنۡ رَّبِّكُمۡ فَاٰمِنُوۡا خَيۡرًا لَّـكُمۡ وَاِنۡ تَكۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ کو یوں لائے تھے۔
ان الذين ظلموا آل محمد حقهم لم يكن الله ليغفر لهم ولا لیهدیم طریقا (الی قوله) ياايها الناس قد جاءكم الرسول بالحق من ربكم فى ولاية على فامنوا خيرا لكم وان تكفروا بولايته فان لله مافى السموت وما فى الارض۔
نزل جبرئیل هذه الآية هكذا ان الذين ظلموا آل محمد حقهم لم كن الله ليغفر لهم ولا ليهديهم طريقا (الی قوله) ياايها الناس قد جاءكم الرسول بالحق من ربكم فى ولاية على فامنوا خيرا لكم وان تكفروا بولايته فان لله ما فى السموت وما فى الارض۔
(اصول کافی: صفحہ 267)
22: آیت سَتَعۡلَمُوۡنَ مَنۡ هُوَ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ یوں نازل ہوئی تھی: "ستعلمون يا معشر المكذبين حيث انبأتكم رسالة ربى فى ولاية على عليه السلام والائمة من بعده من هو فى ضلال مبين"۔
ستعلمون يا معشر المكذبين حيث انبأتكم رسالة ربى فى ولاية على عليه السلام والائمة من بعده من هو فى ضلال مبين كذا نزلت۔
(اصول کافی: صفحہ 266)
23: جبرائیلؑ نے آیت وَاِنۡ کُنۡتُمۡ فِىۡ رَيۡبٍ مِّمَّا نَزَّلۡنَا عَلٰى عَبۡدِنَا فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَةٍ مِّنۡ مِّثۡلِهٖ یوں نازل کی تھی: ان كنتم فى ريب مما نزلنا على عبدنا فى على فأتوا بسورة من مثله۔
نزل جبرئیل بهذه الآية على محمدﷺ وآله هكذا ان كنتم فى ريب مما نزلنا على عبدنا فى على فأتوا بسورة من مثله۔
(اصول کافی: صفحہ 264)
24: جبرائیلؑ نے یہ آیت يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ اٰمِنُوۡا بِمَا نَزَّلۡنَا اس طرح نازل کی تھی: "يا ايها الذين اوتوا الكتاب آمنو بما نزلنا فى على نوراً مبیناً"۔
نزل جبرئیل علی محمدﷺ بهذه الآية ياايها الذين اوتوا الكتاب آمنو بما نزلنا فى على نوراً مبیناً۔
(اصول کافی: صفحہ 264)
25: سیدنا علیؓ جب قرآن لکھنے سے فارغ ہوئے تو اس کو لوگوں کے پاس لائے اور ان سے فرمایا، یہ اللہ کی کتاب ہے جس طرح محمدﷺ پر نازل فرمائی تھی، میں نے اس کو دو لوحوں سے جمع کیا ہے، لوگوں نے کہا، اللہ کی کتاب تو یہ ہمارے پاس موجود ہے۔ ہمیں (آپ کے لائے ہوئے قرآن کی) حاجت نہیں (اس پر سیدنا علیؓ نے غصہ میں آکر کہا، اب خدا کی قسم آج کے بعد تم اس کو کبھی نہیں دیکھو گے۔ میرے ذمہ تو صرف یہ تھا کہ جب میں نے اسے جمع کیا تو میں اس کو بتا دوں تا کہ اسے پڑھو)۔
اخرج المصحف الذی کتبه علی علیه السلام الی الناس حين فرغ منه وكتبه فقال لهم هذا كتاب الله عز وجل كما انزل الله على محمد صلى الله عليه وسلم قد جمعته من اللوحين فقالوا هو ذا عندنا مصحف جامع فيه القرآن لاحاجة لنا فيه فقال اما والله ماتروونه بعد يومكم هذا ابد انما كان علی ان اخبرکم حين جمعته لتقرؤه۔
(اصول کافی: صفحہ 671)