کیا شیعہ واقعتاً تحریف قرآن کے قائل نہیں - ردِ رافضیت |…

کیا شیعہ واقعتاً تحریف قرآن کے قائل نہیں

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 1 از 3

سوال 6:  کیا شیعہ واقعتاً تحریفِ قرآن کے قائل نہیں جیسا کہ شخص مذکور کا دعویٰ ہے۔

جواب : تحریفِ قرآن کا مسئلہ شیعوں کے یہاں متعہ، تقیہ اور مسئلہ بداء کی طرح ان کے اہم اور بنیادی معتقدات میں سے ہے۔ جس طرح کوئی شیعہ بغیر سبِ صحابہؓ کے متصور و موجود نہیں ہو سکتا اسی طرح ان کی کتابوں کی تصریحات کی روشنی میں تحریفِ قرآن کا مسئلہ بھی ان کے یہاں مسلم اور ناقابل انکار حقیقت ہے۔ چنانچہ فقیہ العصر حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب لدھیانویؒ نے رسالہ حقیقت شیعہ کے اندر بڑی تفصیل سے اس پر روشنی ڈالی ہے۔

اسی طرح حضرت مولانا محمد منظور نعمانیؒ نے بھی اپنی معرکۃ الآراء کتاب ایرانی انقلاب، امام خمینی اور شیعیت میں ان کی حقیقت کو خوب آشکارا فرمایا ہے۔ ان کتابوں کو پڑھنے والا کوئی ذی شعور کبھی ان کے دھوکے میں نہیں آ سکتا۔

چنانچہ تحریفِ قرآن کا مسئلہ ان کے یہاں مسلمات اور متواترات میں سے ہے، ان ہی کی کتابوں کی تصریحات کے چند نمونے ذیل میں ملاحظہ ہوں۔ جو شخص تفصیل دیکھنا چاہے وہ مذکورہ بالا کتابوں میں دیکھ سکتا ہے۔

1: اہلِ بیت کے واسطہ سے پہنچی ہوئی روایات سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ جو قرآن ہمارے پاس ہے وہ پورے کا پورا اس طرح نہیں ہے جس طرح محمدﷺ‎ پر نازل ہوا تھا، بلکہ اس میں کچھ حصہ ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کے نازل کیے ہوئے قرآن کے خلاف ہے اور کچھ حصے میں تغیر اور تحریف واقع ہوئی ہے اور اس میں سے بہت سی چیزیں نکال دی گئی ہیں۔

ان میں سے مثلاً سیدنا علیؓ کا نام ہے جو قرآن میں کئی مقامات سے نکال دیا گیا ہے، ان کے علاوہ بھی کئی ایسے مواضع ہیں۔

المستفاد من مجموع هذا الاخبار وغيره من الروايات من طريق اهل البيت علیھم السلام ان القرآن الذين بين اظهرنا ليس بتمامه كما انزل على محمدﷺ‎ بل منه ماهو خلاف ما انزل الله ومنه ما هو مغير و محرف و انه قد حذف منه اشياء كثيرة منها اسم على فى كثير من المواضع ومنها غير ذلك (دیباچہ تفسیر صافی)

2: قرآن میں سے جو کچھ نکالا گیا ہے یا اس میں تحریف اور رد و بدل وغیرہ کیا گیا ہے اگر میں ان سب کو بیان کروں تو بات بہت لمبی ہو جائے اور وہ چیز ظاہر ہو جائے جس کے اظہار کی تقیہ اجازت نہیں دیتا۔

لو شرحت لك كل ما اسقط و حرف و بدل مما، يجری هذا المجرى لطال و ظهر ما تحظر التقية اظهاره(احتجاج طبرسی صفحہ: 128 طبع ایران)

3: محدث جزائری کہتے ہیں کہ صراحتاً تحریفِ قرآن پر دلالت کرنے والی متواتر روایتوں کی صحت پر (ہمارے) سبِ اصحابؓ کا اتفاق ہے۔

قال السيد المحدث الجزائری ما معناه ان الاصحاب قد اطبقوا على صحة الاخبار المستفيضة المتواترة الدالة بصريحها على وقوع التحريف فى القرآن (فصل الخطاب علامہ نوری صفحہ: 30)

4: تحریفِ قرآن پر دلالت کرنے والی روایات دو ہزار سے زیادہ ہیں، ایک جماعت نے ان کے متواتر ہونے کا دعویٰ کیا ہے جیسے مفید، محقق داماد، اور علامہ مجلسی وغیرہ۔

ان الاخبار الدالة على ذلك تزيد على الفى حديث وادعى استفاضتها جماعة كالمفيد والمحقق الداماد والعلامة المجلسى(فصل الخطاب علامہ نورى صفحہ: 30)

5: علی بن سوید کہتے ہیں ابو الحسن اول نے مجھے جیل سے لکھا، ”اے علی! یہ جو تم نے لکھا ہے کہ دین کی بنیادی باتیں کس سے سیکھوں؟ اپنے دین کی باتیں سوائے ہمارے شیعہ کے اور کسی سے حاصل نہ کرو اس لیے کہ اگر تم ان کے علاوہ دوسرے کے پاس گئے تو گویا تم نے ایسے خیانت کرنے والوں سے علم حاصل کیا جنہوں نے اللہ و رسولﷺ‎ سے خیانت کی اور جو امانت ان کے پاس رکھی گئی تھی اس میں خیانت کی ان کے پاس کتاب اللہ امانت تھی انہوں نے اس میں تحریف کر ڈالی اور اس میں تبدیلیاں کیں، ان پر اللہ، ملائکہ، میرے نیک آباء و اجداد، میری اور میرے تمام شیعہ کی قیامت تک پھٹکار ہو"

عن علی بن سوید السائى قال كتب الى ابو الحسن الاول وهو فى السجن واما ما ذكرت يا على ممن تاخذ معالم دينك لاتأخذن معالم دينك عن غير شيعتنا فانك ان تعديتهم اخذت دينك عن الخائنين الذین خانوا اللّٰہ ورسولہ و خانو اماناتھم انھم اوتمنوا علی کتاب اللّٰہ جل و علی فحرفوہ و بدلوہ فعلیہم لعنة اللّٰہ و لعنة ملائکتہ و لعنة آبائی الکرام البررة ولعنتی ولعنة شیعتی الی یوم القیمة

(رجال کشی طبع بمبئی: جلد 1317ھ تالیف ابو عمرو محمد بن عمر عبد العزیز الکشی صفحہ 3 سطر 3)

7: قرآن سے مراد وہ قرآن ہے جو ائمہ کے پاس محفوظ ہے جس کی سترہ ہزار آیتیں ہیں۔ مراد بقرآن قرآن محفوظ نزد آئمہ علیہ السلام ست کہ ہفدہ ہزار آیت ست۔

(صافی شرح کافی: جلد 2 کتاب فضل القرآن: جلد ششم صفحہ 65 طبع نولکشور)

موجود قرآن میں 6236 آیتیں ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ دو تہائی قرآن غائب ہے اور ایک تہائی موجود ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ موجود قرآن سے تین گناہ زیادہ قرآن پورے کا پورا غائب ہے جس میں موجودہ قرآن کا ایک حرف بھی نہیں، چنانچہ آئندہ روایت میں اس کی صراحت آ رہی ہے، اس سے ثابت ہوا کہ شیعہ مذہب کے مطابق قرآن میں ایک حرف بھی صحیح نہیں، اس روایت میں اگر حرف بمعنیٰ لفظ کی تاویل بھی کر لی جائے تو بھی ثابت ہوا کہ شیعہ کے قرآن میں ایمان، کفر، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، حشر و نشر، حساب و کتاب، جنت و دوزخ حتیٰ کہ اللہ، رسولﷺ‎ اور ملائکہ میں سے کوئی ایک لفظ بھی نہیں۔

7: ابو عبد اللہ سے روایت ہے کہ ہمارے پاس سیدہ فاطمہؓ کا مصحف ہے، ان کو کیا معلوم کہ وہ کیسا مصحف ہے۔ مصحفِ فاطمہؓ تمہارے قرآن سے تین گناہ زیادہ ہے اور خدا کی قسم تمہارے قرآن کا ایک حرف بھی اس میں نہیں ہے۔

عن ابی عبد الله عليه السلام و ان عندنا مصحف فاطمة و ما يدريہم ما مصحف فاطمة قال مصحف فيه مثل قرآنکم ثلاث مرات و الله ما فيه من قرآنکم حرف واحد

(اصول کافی: 146طبع نول کشور، صافی کتاب الحجہ: جلد 3 صفحہ 180)

8: ابو عبد اللہ سے روایت ہے کہ جو قرآن جبرائیلؑ محمدﷺ کے پاس لائے تھے اس کی سترہ ہزار آیتیں تھیں۔

عن ابی عبد الله عليه السلام قال ان القرآن جاء به جبرئیل علیه السلام الی محمد صلى الله عليه وسلم سبعة عشر الف آية(اصول کافی: صفحہ 671)

صفحہ 1 از 3