کیا حدیث اللہ اللہ فی اصحابی موضوع ہے - ردِ رافضیت | دفاع…

کیا حدیث اللہ اللہ فی اصحابی موضوع ہے

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

سوال 5:  کیا حديث الله الله فی اصحابی الخ موضوع ہے جیسا کہ شخص مذکور کا دعویٰ ہے اس حدیث کا درجہ متعین فرماتے ہوئے اس کو کہنے والے شخص کا شرعی حکم بھی بتلائیں۔

جواب: یہ حدیث اللّٰہ اللّٰہ فی اصحابی سند کے اعتبار سے اگرچہ زیادہ قوی نہیں ہے، البتہ باب سے متعلق دیگر احادیث کے تناظر میں اس کو فی الجملہ حسن کہا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ جامع ترمذی کے بعض نسخوں میں اس پر حسن ہی کا حکم لگا ہوا ہے۔ اگر کوئی شخص اسنادی ضعف کی بنا پر اس کی صحت کو تسلیم نہ کرے یا سرے سے اس کے ثبوت کا انکار کرے، تو یہ اس کی علمی و تحقیقی خطا و کمزوری ہے۔

حضرات صحابہ کرامؓ کی عدالت، ثقاہت کا عقیدہ اور محبت و عظمت وغیرہ کا معاملہ بہرحال اپنی جگہ قائم اور مسلم ہے، اس لیے ان امور کا مدار محض اس ایک روایت پر نہیں ہے بلکہ کتاب و سنت اور اجماع کے مختلف قطعی دلائل پر ہے۔

لہٰذا سند کی اصولی حیثیت سے قطع نظر اس حدیث کا مضمون اپنی جگہ بالکل درست اور برحق ہے۔ چنانچہ حضرات صحابہ کرامؓ کی جماعت کے کسی بھی فرد کو اپنے طعن و تشنیع کا ہدف بنانا پرلے درجے کی گمراہی اور سخت محرومی کی بات ہے۔ ایسا کرنے والا شخص بلاشبہ فاسق، بدعتی اور گمراہ ہے۔

حوالہ جات:

(سنن الترمذی 3862،

مسند احمد ابن حنبلؒ: جلد 5 صفحہ 54، 57،

کنز العمال: 32483، 32530،

حليۃ الاولياء: جلد 8 صفحہ 287،

اتحاف السادة المتقين: جلد 2 صفحہ 42، 223،

الضعفاء للعقيلی: جلد 2 صفحہ 272،

شرح السنۃ للبغوی: جلد 14 صفحہ 70،

الكامل فی الضعفاء لابن عدی: جلد 4صفحہ 1485،

جمع الجوامع للسيوطی: 9657، 9658،

تاریخ بغداد: جلد 9 صفحہ 123،

موارد الظمآن: 2284،

المغنی عن حمل الاسفار: جلد 1 صفحہ 93،

الشفاء: جلد 2 صفحہ 60، 118، 651،

مشکوٰة: 6005،

میزان الاعتدال: 4412،

لسان الميزان: 1269)