سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیانِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارے علاقہ تحصیل احمد پور سیال، ضلع جھنگ میں اکثر قصاب اہلِ تشیع (شیعہ) ہیں اور وہ خود ہی ذبح کرتے ہیں اور بہت سارے سنی حضرات دانستہ یا غیر دانستہ ان سے گوشت خرید کر استعمال کرتے ہیں۔
لہٰذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان کے ذبح شدہ جانور کا گوشت سنی اور دیگر اہلِ مسلک کے لیے کھانا درست ہے یا نہیں؟ اور جو لوگ ان سے لے کر کھا رہے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟
جواب: بشرطِ صحتِ سوال، صورتِ مسئولہ میں شیعہ بارہ امامیہ، فقہ جعفریہ والے نے جس جانور کو خود ذبح کیا یا کسی اور شیعہ سے ذبح کروایا تو وہ ذبیحہ مردار ہے، اور اس جانور کا گوشت کھانا حرام ہے۔ اگر کھا لیا تو توبہ و استغفار کریں۔
شیعہ کے کفر کے متعلق فقہائے کرام کی عبارت نقل کرنے سے پہلے ان کی اپنی کتب سے کفریہ عبارات نقل کی جاتی ہیں:
طائفۃ سلیم عربیہ گویند و ایشان گویند خدا جبرئیل را بعلی فرستاد و بغلط بمحمد رفت، از آنکہ بمحمد بعلی غراب کہ بغراب ماند چهار مرد را شریفیه گویند خدا در نبی و علی و فاطمہ و حسن و حسین فرود آمد و علی اله هست و طائفۃ
(تذکرة الائمہ المعصومین، تالیف ملا باقر مجلسی ملعون)(بحوالہ تاریخی دستاویز: صفحہ، 266)
مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ تفسیر قمی میں سیدنا جعفر صادقؒ سے منقول ہے کہ: بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ سے مراد ہے تلوار لے کر لڑائی کے لیے نکلنا۔ قولِ مترجم: جنگِ جمل میں افواجِ بصرہ کی جزل کمانڈ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس آیت کی رو سے بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ کی مرتکب ہیں۔ (معاذاللہ)
(بحوالہ تاریخی دستاویز: صفحہ 366)