دین کی عزت پر جان جائے تو یہی ابدی عزت ہے - دفاعِ اہلِ سنت…

دین کی عزت پر جان جائے تو یہی ابدی عزت ہے

  مولانا اقبال رنگونی

سیدنا حسینؓ، یزید اور اس کے کارندوں کے کردار کی کسی صورت حمایت کرنے کے لیے تیار نا تھے آپؓ کے نزدیک اس کی حمایت ایک بڑا دینی جرم تھا اور آپؓ کو معلوم بھی ہو چلا تھا کہ اس راہ میں جان بھی جا سکتی ہے تاہم آپؓ اپنے مؤقف سے پیچھے نا ہٹے کیونکہ آپؓ کو اپنے مؤقف کی سچائی اور اس کے حق ہونے کا پورا پورا یقین تھا حق پر پوری طرح ڈٹ جانا اور اس راہ میں پیش آنے والے مصائب پر صبر کا دامن تھامنا اور یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ جان بھی جاسکتی ہے پیچھے نا ہٹنا یہ وہ صفت ہے جو اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ اور اہلِ بیت نبوت کو عطا فرمائی تھی اور جب وقت آیا تو ان حضرات نے اللہ سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کر دکھایا تھا۔

حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ اسی سلسلے میں فرماتے ہیں:

اس سے یہ سبق حاصل ہوا کہ دین کے کام میں اگر ایک شخص اپنے نزدیک اگر حق پر ہو تو اسے کسی کی مخالفت کا خوف نہ کرنا چاہیے چاہے سارے مسلمان اس کا ساتھ چھوڑ دیں اور کچھ لوگ جان و آبرو کے بھی در پہ ہو جائیں دین کے مقابلے میں اس کی پروا بھی نا کرنی چاہیے آخر موت تو ایک دن آئے گی ہی پھر دین پر جم کر آ جائے اس سے کیا بہتر ہے۔

(وعظ حقیقت الصبر: صفحہ 41)