سوال 2:اس شخص نے متعدد بار صحابیِ رسول و کاتبِ وحی، خال المسلمین سیدنا معاویہؓ کی شان میں گستاخانہ و نازیبا کلمات کہے نیز وہ سیدنا معاویہؓ کو خاطی، طاغی اور باغی قرار دیتا ہے (نعوذ باللہ) ہمیشہ معاویہ سے خطاب کرتا ہے (بغیر ترضی کے) تو وہ شخص شریعت کی نگاہ میں کیسا ہے؟
ثبوت کے طور پر یہ ہے کہ اُس شخص نے اپنے ایک ویڈیو میں کہا کہ ”آلِ حسن شرمندہ ہوں گے اگر وہ یزید یا اس شخص کی طرف ادنیٰ جھکاؤ رکھیں گے، جس کے نطفے سے یزید پیدا ہوا ہے۔“
(ایسی زبان استعمال کرنے والے شخص کو شریعت کیسا شخص قرار دیتی ہے)۔
اسی طرح ایک ویڈیو میں وہ شخص کہتا ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ خلافتِ راشدہ کے بعد جبر و سرکشی اور ظلم والی دہشت گردانہ حکومت ہو گی یزید کی حکومت جبر و عتو کی تھی، معاویہؓ کی جو حکومت تھی وہ بنص حدیثِ نبوی ملک عضوض تھی (ایسا کہنے والے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا فیصلہ ہے؟)
جواب 2:سیدنا معاویہؓ جیسے جلیل القدر اور عظیم الشان صحابی کی شان میں جس عالم نما شخص نے یہ یاوہ سرائی کی ہے اس نے جسارت بیجا کی ہے، اندازہ ہوتا ہے کہ رفض اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر چکا ہے اس لیے کہ کسی صحیح العقیدہ سنی کے ایسے گندے خیالات ہرگز نہیں ہو سکتے۔ سیدنا معاویہؓ نے خدمتِ نبویﷺ میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کی، حَبر امت سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ آپؓ کو فقہائے اُمت میں شمار کرتے تھے، جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ ایک موقع پر سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ نے سیدنا معاویہؓ کے متعلق فرمایا: انه فقيه، انہوں نے درست فرمایا وہ تو فقیہ ہیں۔ (مشکوٰۃ شریف: صفحہ 112)
ایک اور روایت میں ہے کہ آپﷺ نے فرمایا: "فانه قد صحب النبیﷺ" (البخاری) ان کو (یعنی سیدنا معاویہؓ کو ان کی حالت پر) چھوڑ دو اس لیے کہ وہ حضورِ اکرمﷺ کی صحبت میں رہے ہیں۔ (مشکوٰۃ شریف: صفحہ 113)
یعنی حضورﷺ سے خصوصی طور پر فیض حاصل کیا ہے، صحبتِ نبویﷺ میں رہ کر آپؓ نے ارشاداتِ رسولﷺ کا کافی ذخیرہ محفوظ کیا کتبِ احادیث میں ایک سو تریسٹھ (163) احادیث آپؓ سے مروی ہیں۔
اسلام لانے کے بعد غزوہ حنین میں حضورِ اکرمﷺ کے ساتھ شریک رہے، کتابتِ وحی کی خدمات انجام دیں۔ سیدنا ابو سفیانؓ نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر درخواست کی: معاوية تجعله كاتبا بين يديك قال (رسول اللهﷺ) نعم
"معاویہ کو آپ اپنا کاتب بنا لیجیے چنانچہ آپﷺ نے اس کو منظور فرما لیا"
(مسلم شریف: جلد 2 صفحہ 304)
کتابتِ وحی کے ساتھ سیدنا معاویہؓ نبی کریمﷺ کی خصوصی خدمت بھی انجام دیتے تھے حج کے بعد عمرہ جعرانہ کے موقع پر سیدنا معاویہؓ نے آپﷺ کے بال مبارک بھی کاٹے۔ قال ابن عباس قال لی معاوية اعلمت انی قصرت من راس النبیﷺ عند المروة بمشقص
سیدنا ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہؓ نے مجھ سے فرمایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے قینچی سے مروہ پہاڑی کے پاس نبی اکرمﷺ کے سر کے بال مبارک کاٹے تھے۔
(مسلم شریف: جلد 1 صفحہ 408)
سیدنا معاویہؓ کی ایک بڑی منقبت یہ بھی ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے آپؓ کے لیے خصوصی دعا فرمائی کہ اے اللہ معاویہ کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعہ (لوگوں کو) ہدایت دے۔
(ترمذی شریف: جلد 2 صفحہ 225)
حضرت ابو ادریس خولانیؒ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمرؓ نے سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو حمص سے معزول کر کے سیدنا معاویہؓ کو گورنر بنا دیا تو لوگ کہنے لگے کہ عمر نے عمیر کو معزول کر دیا اس وقت سیدنا عمیرؓ نے فرمایا تم معاویہؓ کا ذکر خیر کے سوا نہ کرو کیونکہ میں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے اللهم اهد به اے اللہ معاویہؓ کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت فرمایا۔ ”لما عزل عمر بن الخطاب عمير بن سعد عن حمص ولى معاوية فقال عمير لا تذكروا معاوية الا بخير فانی سمعت رسول اللهﷺ يقول اللهم اهد به۔
(ترمذی شریف: جلد 2 صفحہ 225)
ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ان کو دعا دی کہ اے اللہ معاویہؓ کو حساب کتاب سکھا دے اور اس کو عذابِ جہنم سے بچا۔
اللهم علم معاوية الكتاب والحساب وقه العذاب
(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 381،
مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 356)
مشہور صحابی سیدنا عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے اللہ معاویہ کو کتاب سکھلا دے اور شہروں میں اس کے لیے ٹھکانہ بنا دے اور اس کو عذاب سے بچا لے۔
اللهم علمه الكتاب ومكن له فى البلاد وقه العذاب(مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 356)
نبی کریمﷺ نے آپؓ کی امارت و خلافت کی اپنی حیات میں ہی پیشین گوئی فرما دی تھی اور اس کے لیے دعا بھی فرمائی تھی۔ سیدنا معاویہؓ خود بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں نبی کریمﷺ کے واسطے وضو کا پانی لے گیا آپﷺ نے پانی سے وضو فرمایا اور وضو کرنے کے بعد میری طرف دیکھا اور فرمایا اے معاویہ اگر امارت تمہارے سپرد کی جائے اور تمہیں امیر بنا دیا جائے تو تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور انصاف کرنا۔ (الاصابہ فی معرفۃ الصحابہؓ: جلد 3 صفحہ 413 مطبوعہ مصر)
ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہؓ کو دربارِ نبویﷺ میں ایک خاص مقام حاصل تھا اور آپﷺ سیدنا معاویہؓ سے بہت محبت فرماتے تھے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ سواری پر سوار ہوئے اور سیدنا معاویہؓ کو بھی اپنے پیچھے بٹھایا، تھوڑی دیر کے بعد آپﷺ نے فرمایا اے معاویہ تمہارے جسم کا کون سا حصہ میرے جسم کے ساتھ مل رہا ہے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! میرا سینہ (اور پیٹ) آپﷺ کے جسم کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ یہ سن کر آپﷺ نے دعا دی "اللهم املاه علما" اے اللہ اس کو علم سے بھر دے۔
(تاریخ الاسلام از حافظ ذہبی: جلد 2 صفحہ 319)
حدیثِ پاک میں ہے سیدہ اُمِ حرامؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ میری اُمت میں پہلا لشکر جو بحری جنگ کرے گا انہوں نے اپنے لیے جنت کو واجب کر لیا اول جيش يغزون البحر قد اوجبوا
(بخاری شریف: صفحہ 410،
کتاب الجہاد باب ما قيل فی قتال الروم)
دوسری روایت میں سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضورﷺ سیدہ اُمِ حرامؓ کے گھر تشریف لائے اور سو گئے، جب بیدار ہوئے تو مسکرائے، سیدہ اُمِ حرامؓ نے مسکرانے کی وجہ دریافت کی، آپﷺ نے فرمایا میری اُمت کے کچھ لوگ سمندر میں اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے جہازوں پر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوئے ہوں سیدہ اُمِ حرامؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! دعا فرما دیجیے اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ چنانچہ آپﷺ نے دعا فرما دی کہ اے اللہ ان کو بھی ان میں کر دے۔
ناس من امتی يركبون البحر الاخضر فی سبيل الله مثلهم مثل الملوك على الاسرة فقالت يا رسول اللهﷺ ادع الله ان يجعلنی منهم قال اللهم اجعلها منهم الخ
(بخاری شریف: جلد 1 صفحہ 403،
باب غزوة المراة فى البحر كتاب الجہاد)
یہ غزوہ جس کے لیے رسول اللہﷺ نے جنت کی بشارت دی سیدنا معاویہؓ کی قیادت میں ہوا۔ چنانچہ امام طبریؒ لکھتے ہیں کہ سیدنا معاویہؓ نے 28ھ میں قبرص پر پہلا بحری حملہ کیا اور قبرص کو فتح کر لیا اور اس غزوہ میں آپؓ کے ساتھ سیدنا عبادہ بن الصامتؓ کی یہی زوجہ محترمہ سیدہ اُمِ حرامؓ بھی تھیں جن کے لیے حضورِ اکرمﷺ نے شرکت کی دعا فرمائی تھی، ان کے علاوہ سیدنا مقدادؓ، سیدنا ابو الدرداءؓ اور سیدنا شداد بن اوسؓ جیسے بڑے صحابہؓ بھی اس میں شریک تھے۔ (طبری: جلد 3 صفحہ 315)
ان خصوصیات کی بناء پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں انہیں ممتاز مقام دیا، سیدنا عمر بن الخطابؓ نے انہیں شام کا گورنر بنایا اور آخرِ حیات تک انہوں نے اس عہدے پر برقرار رکھا۔ دنیا جانتی ہے کہ سیدنا عمرؓ اپنے گورنروں اور والیوں کے تقرر میں انتہائی محتاط تھے جب تک کسی شخص پر مکمل اطمینان نہ ہو جاتا اس وقت تک اس کو کسی مقام اور علاقہ کا امیر مقرر نہ کرتے تھے، پھر جس کو گورنر بناتے اس کی پوری نگرانی فرماتے، اگر معیارِ مطلوب سے ذرہ برابر بھی کم درجہ کا پاتے فوراً معزول فرما دیتے۔ سیدنا عمرؓ کا آپؓ کو شام کا گورنر مقرر کرنا اور آخرِ حیات تک انہیں عہدے پر برقرار رکھنا ظاہر کرتا ہے کہ سیدنا عمرؓ کو سیدنا معاویہؓ پر مکمل اعتماد تھا۔
سیدنا عمرؓ کے بعد سیدنا عثمانؓ کا دور آیا وہ بھی آپؓ پر مکمل اعتماد کرتے تھے اور اہم معاملات میں آپؓ سے مشورہ لیتے اور اس پر عمل کیا کرتے تھے، انہوں نے بھی آپؓ کو شام کی گورنری کے عہدے پر نہ صرف باقی رکھا بلکہ آپؓ کے حسنِ انتظام اور تدبر کی وجہ سے آس پاس کے دوسرے علاقے اردن، حمص، قنسرین، اور فلسطین کے علاقے بھی آپؓ کے ماتحت گورنری میں دے دیے۔ غرض کہ آپؓ نے بڑی بڑی خدمات انجام دیں اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسنؓ نے آپؓ سے صلح کی اور آپؓ کو اس وقت کی وسیع مملکت کا خلیفہ تسلیم کر لیا اس طرح پوری اُمت آپؓ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئی۔
سیدنا حسینؓ تقریباً 20 سال آپؓ کی خلافت میں رہے اور آپؓ نے ان کی طرف سے سالانہ وظیفہ بھی قبول فرمایا، سید اشباب اہل الجنۃ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کا آپؓ کی خلافت کو قبول کرنا اور آپؓ کی خلافت میں رہنا سیدنا معاویہؓ کی خلافت حقہ ہونے کی زبردست شہادت اور دلیل ہے۔
(فتاویٰ رحیمیہ: جلد 4 صفحہ 61 تا 66)
ان تمام فضیلتوں کے باوجود انتہائی درجہ کا شقی اور بدبخت ہی ہوگا جو سیدنا معاویہؓ کے بارے میں زبان درازی کرے گا۔
مشاجراتِ صحابہؓ کے بارے میں اہل السنۃ والجماعۃ کی اہم کتابوں میں یہ عقیدہ بھی بطورِ خاص بیان کیا جاتا ہے کہ ہم تمام صحابہؓ کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں، ان کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں ان کی زلات و لغزشات سے صرف نظر اور کفِ لسان کرتے ہیں اور ان میں سے کسی کا بھی تذکرہ خیر کے بغیر نہیں کرتے۔
نترحّم عليهم و نذكر فضلهم و نكف عن زللهم ولا نذكر احداً منهم الا بخير۔
(الفقہ الاکبر: صفحہ 43،
العقيدۃ الطحاويہ: صفحہ 81،
طبقات الحنابلہ: جلد 2 صفحہ 21)
علامہ تفتازانیؒ فرماتے ہیں صحابہؓ کی تعظیم کرنا ان پر طعن سے احتراز کرنا اور ان کی لغزشوں کی تاویل کرنا یا ان کو مناسب محمل پر محمول کرنا واجب ہے۔
يجب تعظيم الصحابة والكف عن مطاعنهم وحمل ما يوجب بظاهره الطعن فيهم على محامل والتاويلات(مقدمۃ الاصابہ: جلد 1 صفحہ 25)
حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں کسی بھی صحابیؓ کے بارے میں طعن و تشنیع کے ممنوع ہونے پر اہل السنۃ کا اتفاق ہے، صحابہؓ کے آپسی مناقشات کے سلسلہ میں بھی، حتیٰ کہ ان میں سے کسی کا حق پر ہونا سمجھ میں آ جائے تب بھی دوسرے پر تبصرہ کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ ان حضرات کے مشاجرات اجتہاد کی بنیاد پر تھے اور اجتہاد میں غلطی کرنے والے کو تو اللہ تعالیٰ معاف فرما چکے ہیں بلکہ حدیث شریف میں تو مخطی کے لیے ایک اجر اور مصیب کے لیے دوہرے اجر کی بھی بات ثابت ہے۔
اتفق اهل السنة على وجوب منع الطعن على احد من الصحابة بسبب ما وقع لهم من ذلك ولو عرف المحق منهم لانهم لم يقاتلوا فی تلك الحروب الا عن اجتهاد وقد عفا الله تعالٰى عن المخطئ فی الاجتهاد بل ثبت انه يؤجر اجرا واحدا وان المصيب يؤجر اجرين الخ
(فتح الباری کتاب الفتن باب اذا التقى المسلمان بسيفيهما)
علامہ بیجوریؒ فرماتے ہیں جہاں تک ممکن ہو مشاجراتِ صحابہؓ کے قصہ میں ہرگز مت پڑو اور اگر ایسا اتفاق پیش آ جائے تو صحابہؓ کی طرف سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے مناسب توجیہ و دلائل کے ساتھ ایسے واقعات کا تذکرہ کرو، کسی بھی صحابیؓ کی تنقیص مت کرو اس لیے کہ اس موضوع کا تصفیہ کوئی عقیدے کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی علمِ کلام کا موضوع ہے اس موضوع کو چھیڑنا کسی دینی اور علمی نفع کے بجائے اکثر ایمان و یقین کے لیے مضر ہی ہوتا ہے۔
(مقدمۃ التحقیق الاصابہ: جلد 1 صفحہ 25)
امام مورخین والمحدثین فخر المتاخرین علامہ شمس الدین الذہبیؒ اپنی بے نظیر کتاب سیر اعلام النبلاء میں فرماتے ہیں صحابہؓ کے آپس کے اختلافات اور قتال وغیرہ سے سکوت رکھنے کا مسئلہ طے شدہ ہے ہماری نظروں سے اس موضوع سے متعلق روایات روزانہ تاریخ وغیرہ کی کتابوں اور رسالوں میں گزرا کرتی ہیں مگر وہ زیادہ تر منقطع اور ضعیف ہوتی ہیں بلکہ موضوع تک ہوتی ہیں، یہ کتابیں ہمارے سامنے بھی ہیں دیگر علماء کے سامنے بھی ہیں، جو چاہے اٹھا کر دیکھ لے، اس لیے مناسب یہی ہے کہ یہ موضوع بند کر کے اور لپیٹ کر ہی رکھا جائے بلکہ اس کو اپنی گفتگو سے خارج ہی کر دیا جائے تاکہ قلوب میں صفائی رہے اور صحابہؓ سے محبت اور رضا کا جذبہ موجزن رہے۔
اور عوام سے اسی طرح نام نہاد عالموں سے اس طرح کے موضوعات کا اخفاء ہی متعین ہے صرف اسی عالم کے لیے رخصت ہے جو انصاف پسند ہو۔ نفسیاتی جذبات سے بالاتر ہو وہ بھی تنہائی میں مطالعہ کرے اور آخر میں تمام صحابہؓ کے لیے استغفار کا اہتمام کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ان کے بعد والے آ کر ان صحابہؓ کے بارے میں یہ کہا کریں گے۔
اے ہمارے رب مغفرت فرما دیجیے ہماری اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ گزر چکے اور نہ رکھیے ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کھوٹ۔
تقرر الكف عن كثير مما شجر بين الصحابة وقثالهم رضی الله عنهم اجمعين وما زلل يمر بنا ذلك فى الدواوين والكتب والاجزاء ولكن اكثر ذلك منقطع وضعيف وبعضه كذب وهذا فيما بين أيدينا وبين علمائنا فينبغى طيه واخفاؤه بل اعدامه لتصفو القلوب وتتوفر على حب الصحابة والترضى عنهم وكتمان ذلك متعين عن العامة وآحاد العلماء وقد يرخص فى مطالعة ذلك خلوة للعالم المنصف العرى من الهوى بشرط ان يستغفر لهم كما علمنا الله تعالىٰ وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۔ (سير اعلام النبلاء: جلد 10 صفحہ 92)
قرآنِ کریم کے اندر صحابہ کرامؓ کی تعریف کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ امام مالکؒ آیتِ بالا کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں کسی بھی صحابیؓ کی طرف سے معمولی غیظ اور کھوٹ ہوگا وہ اس آیت کا مصداق ہے یعنی اس کے اندر کفر کی بو پائی جاتی ہے اسی وجہ سے وہ صحابہؓ سے جلتا اور بدگمانی رکھتا ہے۔
مختلف احادیث میں سبّ صحابہؓ یعنی صحابہ کرامؓ پر تنقید و تبصرے کی ممانعت وارد ہوئی ہے چنانچہ ایک حدیثِ شریف میں ہے آپﷺ نے ارشاد فرمایا میرے صحابہؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو، میرے بعد ان کو اپنی تنقید کا نشانہ مت بنانے لگنا جو ان سے محبت کرتا ہے تو وہ میری نسبت ہی کا خیال کر کے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے ہی بغض کا نتیجہ ہے۔ جو انہیں ایذاء پہنچائے اس نے گویا مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی تو اس نے یقیناً اللہ کو ناراض کیا اور جس نے اللہ کو ناراض کیا تو قریب ہے کہ اللہ اس کی پکڑ فرمائے۔
الله الله فی اصحابی لا تتخذوهم غرضا من بعدی فمن احبهم فبحبی احبهم ومن ابغضهم فببغضی ابغضهم ومن آذاهم فقد آذانی ومن آذانی فقد آذى الله ومن آذى الله يوشك ان ياخذه۔ (ترمذی شریف: رقم الحديث 3862)
کسی عام مسلمان کو برا کہنے پر فسق کا حکم (کہنے والے پر) عائد ہوتا ہے تو جو شخص العیاذ باللہ کسی صحابیؓ کی شان میں گستاخانہ و نازیبا کلمات کہے سیدنا معاویہؓ جیسے جلیل القدر صحابی کو تنقید کا نشانہ بنائے اس کا فسق کس درجہ خطرناک ہوگا یہ اندازہ کرنے کی بات ہے۔
امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابیِ رسولﷺ پر تنقید کر رہا ہے تو سمجھ لو اس کا دین مشکوک ہے۔
اذا رايت رجلا يذكر احداً من اصحاب رسول اللهﷺ بسوء فاتهمه على الاسلام۔
(تاریخ دمشق: جلد 59 صفحہ 209)
آپ سے معلوم کیا گیا کہ اگر کوئی شخص سیدنا معاویہؓ یا عمرو بن العاصؓ کی تنقیص کرتا ہے تو کیا اس کو رافضی کہا جائے گا؟ فرمایا حضراتِ صحابہ کرامؓ کی تنقیص کی جرأت وہی شخص کر سکتا ہے جو بد باطن ہو کوئی بھی شخص کسی صحابیِ رسولﷺ سے اگر بغض رکھتا ہے تو یہ اس کے بدباطن ہونے کی علامت ہے۔
سئل الامام احمد عن رجل انتقص معاوية وعمرو بن العاص أيقال له رافضی قال انه لم يجترئ عليهما الا وله خبيئة سوء ما يبغض احذ احداً من اصحاب رسول اللهﷺ الا وله داخلة سوء۔ (تاریخ دمشق: جلد 59 صفحہ 201)
قاضی ابو یعلیٰ حنبلیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی صحابیِ رسولﷺ کو نشانہ بنا رہا ہے تو یقین کر لو وہ آنحضور ﷺ کو کچھ کہنا چاہتا ہے اور قبر شریف میں آپﷺ کی ذات پاک کو تکلیف پہنچا رہا ہے۔
واعلم انه من تناول احدامن اصحاب رسول اللّٰہﷺ فاعلم انه اراد محمداًﷺ وقد آذاه فی قبره۔(طبقات حنابلہ: جلد 2 صفحہ 37)
حضرت امام نسائیؒ سے سیدنا معاویہؓ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اسلام کی مثال اس گھر کی سی ہے جس کا ایک دروازہ ہو اور اسلام کا دروازہ صحابہ کرامؓ ہیں جو شخص صحابہؓ کو تکلیف پہنچاتا ہے وہ اسلام پر حملہ کرنا چاہتا ہے جیسے کوئی شخص دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ گھر کے اندر ہی داخل ہونا چاہتا ہے لہٰذا جو شخص سیدنا معاویہؓ کو نشانہ تنقید بنا رہا ہے تو اس کا اصل نشانہ صحابہ کرامؓ ہی ہیں۔
قال ابن عساكر روى عن ابی عبد الرحمٰن النسائی انه سئل عن معاوية بن ابي سفيان صاحب رسول اللهﷺ فقال انما الاسلام كدار لها باب، فباب الاسلام الصحابة فمن آذى الصحابة انما اراد الاسلام كمن نقر الباب انما يريد دخول الباب فمن اراد معاوية فانما اراد الصحابة۔
(تاریخ دمشق: جلد 71 صفحہ 175)
امام وکیعؒ فرماتے ہیں کہ جس طرح دروازے کا کنڈا ہلانے سے پورے دروازے میں حرکت ہوتی ہے اسی طرح سیدنا معاویہؓ پر کوئی تبصرہ کرنے سے پوری جماعتِ صحابہؓ پر زَد پڑتی ہے۔
قال ابن عساكر عن موسى بن هارون يقول بلغنى عن بعض اهل العلم واظنه وكيع انه قال معاوية بمنزلة حلقة الباب من حركه اتهمناه على من فوقه (تاریخ دمشق: جلد 59 صفحہ 210)
مشہور محدث خطیب بغدادیؒ امام ابو زرعہ رازیؒ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ کسی صحابیؓ کی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ بے دین ہے اس لیے کہ آپﷺ سچے، آپﷺ کا لایا ہوا قرآن برحق، آپﷺ کے لائے ہوئے دین اور کتاب و سنت کو ہم تک پہنچانے والے یہی صحابہؓ ہیں تو جو شخص صحابہؓ پر زبانِ طعن دراز کرتا ہے وہ ہمارے ان واسطوں اور گواہوں کو مجروح کرنا چاہتا ہے حالانکہ ایسا شخص خود مجروح اور زندیق ہے۔
اذا رايت الرجل ينتقص احدا من اصحاب رسول اللهﷺ فاعلم انه زنديق وذلك ان الرسولﷺ عندنا حق و القرآن حق وانما ادى الينا هذا القرآن والسنن اصحاب رسول اللّٰہﷺ وانما يريدون ان يجرحوا شهودنا ليبطلوا الكتاب والسنة والجرح بهم اولىٰ وهم زنادقة۔ (الکفایہ فی علم الروایہ: صفحہ 49)
علامہ مرتضیٰ زبیدیؒ شرح احیاء العلوم میں لکھتے ہیں کہ تمام صحابہ کرامؓ کا عدالت کے ذریعہ تزکیہ کرنا اور ان پر کسی طرح کا طعن کرنے سے بچنا واجب ہے اور دیندار کے لیے زیبا ہے کہ صحابہؓ جس حال پر عہدِ نبوی میں تھے اسی حالت پر آخر تک ان کو باقی رہنے والا اعتقاد کرے۔
قال السيد مرتضىٰ الزبيدى واعتقاد اهل السنة والجماعة تزكية جميع الصحابة رضی الله عنهم وجوبا باثبات العدالة لكل منهم والكف عن الطعن فيهم والثناء عليهم كما اثنى الله سبحانه وتعالىٰ واثنى رسولهﷺ بعمو مهم و خصوصهم فى آى من القرآن الى قوله و مناقب الصحابة كثيرة و حقيق على المتدين ان يستصحب لهم ما كانوا عليه فى عهد رسولهﷺ(اتحاف السادة المتقين: جلد 2 صفحہ 222)
پوری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرامؓ کی معرفت، ان کے درجات اور ان میں پیش آنے والے باہمی اختلافات کا فیصلہ کوئی عام تاریخی مسئلہ نہیں ہے بلکہ معرفت صحابہؓ تو علم حدیث کا ایک اہم جزء ہے جیسا کہ مقدمہ اصابہ میں حافظ ابن حجرؒ نے اور مقدمہ استیعاب میں حافظ ابن عبدالبرؒ نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے اور صحابہ کرامؓ کے باہمی تفاضل و درجات اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلافات کے فیصلہ کو علماء اُمت نے عقیدہ کا مسئلہ قرار دیا ہے اور تمام کتب عقائد اسلامیہ میں اس کو ایک مستقل باب کی حیثیت سے لکھا ہے، ایسا مسئلہ جو عقائد اسلامیہ سے متعلق ہو اور اسی مسئلہ کی بنیاد پر بہت سے اسلامی فرقوں کی تقسیم ہوئی ہو، اس کے فیصلہ کے لیے بھی ظاہر ہے کہ قرآن و سنت کی نصوص اور اجماع اُمت جیسی شرعی حجت درکار ہیں اس کے متعلق اگر کسی روایت سے استدلال کرنا ہے تو اس کو محدثانہ اصول تنقید پر رکھنا واجب ہے۔ اس کو تاریخی روایتوں میں ڈھونڈنا اور ان پر اعتماد کرنا اصولی اور بنیادی غلطی ہے وہ تاریخیں کتنے ہی بڑے ثقہ اور معتمد علماء اہل حدیث کی لکھی ہوئی کیوں نہ ہوں ان کی فنی حیثیت ہی تاریخی ہے جس میں صحیح و سقیم روایات جمع کر دینے کا عام دستور ہے
(مقامِ صحابہؓ: صفحہ 35، 36،
مولفہ مولانا مفتی محمد شفیع ؒ)
علامہ ذہبیؓ فرماتے ہیں "اور یہ سب باتیں جو روافض اور اہلِ بدعت صحابہ کرامؓ سے متعلق اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں۔ ان کا کوئی اعتبار نہیں، فضول باتیں ہیں، ان میں سے اکثر باتیں باطل جھوٹ اور بالکل من گھڑت ہوتی ہیں، روافض کا شیوہ یہی ہے باطل خبروں کا روایت کرنا اور مستند صحاح ومسانید کی روایتوں کو رد کر دینا، مگر جس کی عقل ہی ٹھکانے نہ ہو اس سے کیا توقع رکھی جائے۔"
فاما ما تنقله الرافضة واهل البدع فی كتبهم من ذلك فلا نعرج عليه ولا كرامة فاکثره باطل وكذب وافتراء فدأب الروافض رواية الاباطيل أورد مافی الصحاح والمسانيد ومتى افاقۃ من به سكران(سیر اعلام النبلاء: جلد 10 صفحہ 93)
چنانچہ بہ قول علامہ سبکیؓ سلامتی اور سعادت مندی کی بات بس یہی ہے کہ آدمی گذشتہ بزرگوں کے اختلاف میں پڑ کر ان کے درمیان حکم اور فیصل بننے کی ہرگز کوشش نہ کرے۔
لا يزال طالب العلم عندی نبيلا حتى يخوض فيما جرى بين الماضين ويقضى بعضهم على بعض۔
(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ: جلد 2 صفحہ 272)
علامہ شہاب الدین خفاجیؒ نے بہت نپی تلی بات ارشاد فرمائی ہے، فرماتے ہیں۔
ومن يكن يطعن فی معاوية
فذاك كلب من كلاب الهاوية
جو شخص سیدنا معاویہؓ پر طعن کرتا ہے تو وہ ہاویہ (یعنی جہنم) کے کتوں میں سے ایک کتا ہے۔
(شمیم الرياض بحوالہ فتاویٰ رحیمیہ: جلد 4 صفحہ 68)
غرض اس تفصیل سے بخوبی واضح ہو گیا کہ سیدنا معاویہؓ کی شان میں گستاخانہ و نازیبا کلمات کہنے والا شخص حدیث شریف کی صراحت کے مطابق اللہ اور اس کے رسولﷺ کو سخت تکلیف پہنچانے والا ہے۔
بقول حضرت امام مالکؒ اس کے اندر کفر کی بو پائی جاتی ہے حضرت امام احمدؒ کی نظر میں اس کا دین مشکوک اور غیر معتبر ہے نیز یہ اس کے بدباطن ہونے کی علامت ہے۔ حضرت امام نسائیؒ کے بقول وہ شخص نعوذ باللہ مذہب اسلام پر حملہ کرنا چاہتا ہے اور امام ابوذرعہؒ کے نزدیک انتہائی درجہ کا بددین ہے اور علامہ شہاب الدین خفاجیؒ کی نظر میں ایسا شخص جہنم کا کتا ہے۔
رہی بات سیدنا معاویہؓ کے عہد حکومت کو جبر و تشدد والی حکومت کہنے کی تو جو شخص سیدنا معاویہؓ کی سلطنت کو جبر و سرکش اور ظلم والی حکومت کہتا ہے تو وہ سخت ناواقفیت کا شکار ہے۔
اس سلسلہ میں چند باتیں ذہن میں رکھنے کی ہیں:
1: پہلی بات تو یہ کہ اگر حضرت سفینہؓ والی اس حدیث شریف کو درست مان لیا جائے تب بھی آنحضرتﷺ کا سیدنا معاویہؓ کا عہدِ حکومت کو سلطنت سے تعبیر کرنا موجب فتح ہرگز نہیں اس لیے کہ سلطنت کا ملنا بھی انعام خداوندی ہے حضرت طالوت کو حق تعالیٰ شانہ نے بادشاہ بنایا یا اسی طرح حضرت داؤد علیہ السلام کو نبوت کے ساتھ ملوکت و بادشاہی عطا کی گئی، ان کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمانؑ کو بھی اس انعام خداوند سے سرفراز فرمایا گیا۔
غرض کہ بادشاہت و سلطنت کا ملنا کسی قدح کا موجب ہرگز نہیں ہے نہ ہی اس کو نبی کریمﷺ نے مقام مذمت میں بیان فرمایا ہے بلکہ وہ ایک طرح سے پیش آنے والے حالات کی اطلاع اور پیشین گوئی ہے۔
2: دوسری بات یہ ہے کہ بعض علماء نے اس حدیث کی سند پر تنقید کر کے اسے غیر صحیح قرار دیا ہے چنانچہ قاضی ابوبکر ابن عربیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔ هٰذا حديث لا يصح (العواصم من القواصم: صفحہ 201)
3: بعض علماء نے حدیث شریف میں وارد الفاظ ملک عاض اور ملک عضوض کے دوسرے ہی معنیٰ اختیار کیے ہیں۔ ان کے بقول جس طرح عض یعض کے ایک معنیٰ کاٹنے کے ہیں تو دوسرے معنیٰ مضبوط اور مضبوطی سے کسی چیز کو تھامنے کے بھی ہیں اس لحاظ سے ملک عضوض کے دوسرے معنیٰ مضبوط سلطنت کے بھی مراد لیے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ ان معنیٰ کا خیال کر کے حدیث شریف میں سیدنا معاویہؓ کی سلطنت و بادشاہی کی تعریف کا پہلو مراد لینا زیادہ مناسب اور ان کے حال کے مطابق ہوگا ورنہ اگر مستشرقین اور حاسدین کے پروپیگنڈہ سے متاثر ہو کر یہ مان لیا جائے کہ سیدنا علیؓ کی حیات اور ان کے دور خلافت تک تمام امور میں خیر ہی خیر غالب تھا اور سیدنا معاویہؓ کے زمام حکومت سنبھالتے ہی وہ تمام امور شر اور جبر و تشدد سے تبدیل ہو گئے جو کہ عقل کے بھی خلاف ہے تو پھر حدیث شريف ثم الذين يلونهم، ثم الدين يلونهم كا كوئى مطلب باقی نہیں رہ جاتا۔
:4 چوتھی بات یہ ہے کہ اگر ملک عاض اور ملک عضوض کو کاٹنے والی حکومت کے معنیٰ میں ہی لیا جائے تب بھی زیادہ سے زیادہ کاٹنے والے کے لفظ سے واقعات حرب وقتال کا پیش آنا اور ایک کا دوسرے پر حملہ کرنا مراد ہوگا، جیسا کہ یہ واقعات سیدنا معاویہ کے زمانہ خلافت میں بکثرت پیش آئے ان سے جبر و سرکشی اور ظلم والی حکومت مراد لینا سخت نادانی ہوگی۔
علامہ ابن حجر ہیتمیؒ نے سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کی ایک حدیث شریف نقل فرمائی ہے اور فرماتے ہیں کہ اس حدیث شریف کے تمام راوی ثقہ ہیں اس حدیث شریف سے سیدنا معاویہؓ کے عہد حکومت کی صحیح حیثیت واضح ہو جاتی ہے اس میں وضاحت کے ساتھ یہ بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ خلافت راشدہ ختم ہونے کے بعد جو حکومت آئے گی وہ بھی ملوکت اور رحمت ہوگی۔ اول هذا الامر نبوة ورحمة ثم يكون خلافة ورحمة ثم يكون ملكا ورحمة ثم يكون امارة ورحمة ثم يتهادمون عليها تكادم الحمير.
(تطهير الجنان على بامش الصواعق المحرقہ: صفحہ 31)
علامہ ابن حجر ہیتمیؒ ایک دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت سفینہؓ سے جو روایت مروی ہے کہ سیدنا معاویہ ؓپہلے بادشاہ ہیں اس سے یہ وہم نہ کیا جائے کہ سیدنا معاویہؓ کی خلافت صحیح نہ تھی اس لیے کہ ان کی مراد یہ ہے کہ ان کی خلافت تو صحیح تھی لیکن اس پر ملوکت کی مشابہت غالب آگئی تھی اس لیے کہ وہ بہت سے معاملات میں خلفائے راشدینؓ کے طریقوں سے قدر ے مختلف تھی، چنانچہ خلافت کی بات اس لیے صحیح ہے کہ سیدنا حسؓن کی دست برداری اور اہل حل و عقد کے اتفاق کے بعد سیدنا معاویہ کی خلافت حق اور صحیح تھی اور ملوکت کی بات اس لیے درست ہے کہ ان کے عہد حکومت میں کچھ ایسے امور واقع ہوئے جن کا منبیٰ غلط اجتہاد تھا۔ جس کی بنیاد پر مجتہد گنہگار تو نہیں ہوتا لیکن اس کا رتبہ ان حضرات سے بہر حال گھٹ جاتا ہے جن کے اجتہادات صحیح اور واقعہ کے مطابق ہوں اور یہ حضرات خلفائے راشدینؓ اور سیدنا حسن ؓتھے۔( الصواعق المحرقہ: صفحہ 131)
علامہ عبدالعزیز فرہاری جو شرح عقائد کے مشہور محقق شارح ہیں