سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم - ردِ…

سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 4 از 5

قال ابن عساكر عن موسى بن هارون يقول بلغنى عن بعض اهل العلم واظنه وكيع انه قال معاوية بمنزلة حلقة الباب من حركه اتهمناه على من فوقه (تاریخ دمشق: جلد 59 صفحہ 210)

مشہور محدث خطیب بغدادیؒ امام ابو زرعہ رازیؒ کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ کسی صحابیؓ کی تنقیص کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ وہ بے دین ہے اس لیے کہ آپﷺ سچے، آپﷺ‎ کا لایا ہوا قرآن برحق، آپﷺ‎ کے لائے ہوئے دین اور کتاب و سنت کو ہم تک پہنچانے والے یہی صحابہؓ ہیں تو جو شخص صحابہؓ پر زبانِ طعن دراز کرتا ہے وہ ہمارے ان واسطوں اور گواہوں کو مجروح کرنا چاہتا ہے حالانکہ ایسا شخص خود مجروح اور زندیق ہے۔

اذا رايت الرجل ينتقص احدا من اصحاب رسول اللهﷺ‎ فاعلم انه زنديق وذلك ان الرسولﷺ‎ عندنا حق و القرآن حق وانما ادى الينا هذا القرآن والسنن اصحاب رسول اللّٰہﷺ‎ وانما يريدون ان يجرحوا شهودنا ليبطلوا الكتاب والسنة والجرح بهم اولىٰ وهم زنادقة۔ (الکفایہ فی علم الروایہ: صفحہ 49)

علامہ مرتضیٰ زبیدیؒ شرح احیاء العلوم میں لکھتے ہیں کہ تمام صحابہ کرامؓ کا عدالت کے ذریعہ تزکیہ کرنا اور ان پر کسی طرح کا طعن کرنے سے بچنا واجب ہے اور دیندار کے لیے زیبا ہے کہ صحابہؓ جس حال پر عہدِ نبوی میں تھے اسی حالت پر آخر تک ان کو باقی رہنے والا اعتقاد کرے۔

قال السيد مرتضىٰ الزبيدى واعتقاد اهل السنة والجماعة تزكية جميع الصحابة رضی الله عنهم وجوبا باثبات العدالة لكل منهم والكف عن الطعن فيهم والثناء عليهم كما اثنى الله سبحانه وتعالىٰ واثنى رسولهﷺ‎ بعمو مهم و خصوصهم فى آى من القرآن الى قوله و مناقب الصحابة كثيرة و حقيق على المتدين ان يستصحب لهم ما كانوا عليه فى عهد رسولهﷺ‎(اتحاف السادة المتقين: جلد 2 صفحہ 222)

پوری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرامؓ کی معرفت، ان کے درجات اور ان میں پیش آنے والے باہمی اختلافات کا فیصلہ کوئی عام تاریخی مسئلہ نہیں ہے بلکہ معرفت صحابہؓ تو علم حدیث کا ایک اہم جزء ہے جیسا کہ مقدمہ اصابہ میں حافظ ابن حجرؒ نے اور مقدمہ استیعاب میں حافظ ابن عبدالبرؒ نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے اور صحابہ کرامؓ کے باہمی تفاضل و درجات اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلافات کے فیصلہ کو علماء اُمت نے عقیدہ کا مسئلہ قرار دیا ہے اور تمام کتب عقائد اسلامیہ میں اس کو ایک مستقل باب کی حیثیت سے لکھا ہے، ایسا مسئلہ جو عقائد اسلامیہ سے متعلق ہو اور اسی مسئلہ کی بنیاد پر بہت سے اسلامی فرقوں کی تقسیم ہوئی ہو، اس کے فیصلہ کے لیے بھی ظاہر ہے کہ قرآن و سنت کی نصوص اور اجماع اُمت جیسی شرعی حجت درکار ہیں اس کے متعلق اگر کسی روایت سے استدلال کرنا ہے تو اس کو محدثانہ اصول تنقید پر رکھنا واجب ہے۔ اس کو تاریخی روایتوں میں ڈھونڈنا اور ان پر اعتماد کرنا اصولی اور بنیادی غلطی ہے وہ تاریخیں کتنے ہی بڑے ثقہ اور معتمد علماء اہل حدیث کی لکھی ہوئی کیوں نہ ہوں ان کی فنی حیثیت ہی تاریخی ہے جس میں صحیح و سقیم روایات جمع کر دینے کا عام دستور ہے

(مقامِ صحابہؓ: صفحہ 35، 36، 

مولفہ مولانا مفتی محمد شفیع ؒ)

علامہ ذہبیؓ فرماتے ہیں "اور یہ سب باتیں جو روافض اور اہلِ بدعت صحابہ کرامؓ سے متعلق اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں۔ ان کا کوئی اعتبار نہیں، فضول باتیں ہیں، ان میں سے اکثر باتیں باطل جھوٹ اور بالکل من گھڑت ہوتی ہیں، روافض کا شیوہ یہی ہے باطل خبروں کا روایت کرنا اور مستند صحاح ومسانید کی روایتوں کو رد کر دینا، مگر جس کی عقل ہی ٹھکانے نہ ہو اس سے کیا توقع رکھی جائے۔"

فاما ما تنقله الرافضة واهل البدع  فی كتبهم من ذلك فلا نعرج عليه ولا كرامة فاکثره باطل وكذب وافتراء فدأب الروافض رواية الاباطيل أورد مافی الصحاح والمسانيد ومتى افاقۃ من به سكران(سیر اعلام النبلاء: جلد 10 صفحہ 93)

چنانچہ بہ قول علامہ سبکیؓ سلامتی اور سعادت مندی کی بات بس یہی ہے کہ آدمی گذشتہ بزرگوں کے اختلاف میں پڑ کر ان کے درمیان حکم اور فیصل بننے کی ہرگز کوشش نہ کرے۔

لا يزال طالب العلم عندی نبيلا حتى يخوض فيما جرى بين الماضين ويقضى بعضهم على بعض۔

(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ: جلد 2 صفحہ 272)

علامہ شہاب الدین خفاجیؒ نے بہت نپی تلی بات ارشاد فرمائی ہے، فرماتے ہیں۔

ومن يكن يطعن فی معاوية

فذاك كلب من كلاب الهاوية

جو شخص سیدنا معاویہؓ پر طعن کرتا ہے تو وہ ہاویہ (یعنی جہنم) کے کتوں میں سے ایک کتا ہے۔ 

(شمیم الرياض بحوالہ فتاویٰ رحیمیہ: جلد 4 صفحہ 68)

غرض اس تفصیل سے بخوبی واضح ہو گیا کہ سیدنا معاویہؓ کی شان میں گستاخانہ و نازیبا کلمات کہنے والا شخص حدیث شریف کی صراحت کے مطابق اللہ اور اس کے رسولﷺ‎ کو سخت تکلیف پہنچانے والا ہے۔

بقول حضرت امام مالکؒ اس کے اندر کفر کی بو پائی جاتی ہے حضرت امام احمدؒ کی نظر میں اس کا دین مشکوک اور غیر معتبر ہے نیز یہ اس کے بدباطن ہونے کی علامت ہے۔ حضرت امام نسائیؒ کے بقول وہ شخص نعوذ باللہ مذہب اسلام پر حملہ کرنا چاہتا ہے اور امام ابوذرعہؒ کے نزدیک انتہائی درجہ کا بددین ہے اور علامہ شہاب الدین خفاجیؒ کی نظر میں ایسا شخص جہنم کا کتا ہے۔

رہی بات سیدنا معاویہؓ کے عہد حکومت کو جبر و تشدد والی حکومت کہنے کی تو جو شخص سیدنا معاویہؓ کی سلطنت کو جبر و سرکش اور ظلم والی حکومت کہتا ہے تو وہ سخت ناواقفیت کا شکار ہے۔

اس سلسلہ میں چند باتیں ذہن میں رکھنے کی ہیں:

1: پہلی بات تو یہ کہ اگر حضرت سفینہؓ والی اس حدیث شریف کو درست مان لیا جائے تب بھی آنحضرتﷺ کا سیدنا معاویہؓ کا عہدِ حکومت کو سلطنت سے تعبیر کرنا موجب فتح ہرگز نہیں اس لیے کہ سلطنت کا ملنا بھی انعام خداوندی ہے حضرت طالوت کو حق تعالیٰ شانہ نے بادشاہ بنایا یا اسی طرح حضرت داؤد علیہ السلام کو نبوت کے ساتھ ملوکت و بادشاہی عطا کی گئی، ان کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمانؑ کو بھی اس انعام خداوند سے سرفراز فرمایا گیا۔

غرض کہ بادشاہت و سلطنت کا ملنا کسی قدح کا موجب ہرگز نہیں ہے نہ ہی اس کو نبی کریمﷺ نے مقام مذمت میں بیان فرمایا ہے بلکہ وہ ایک طرح سے پیش آنے والے حالات کی اطلاع اور پیشین گوئی ہے۔

صفحہ 4 از 5