سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم - ردِ…

سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 3 از 5

امام مورخین والمحدثین فخر المتاخرین علامہ شمس الدین الذہبیؒ اپنی بے نظیر کتاب سیر اعلام النبلاء میں فرماتے ہیں صحابہؓ کے آپس کے اختلافات اور قتال وغیرہ سے سکوت رکھنے کا مسئلہ طے شدہ ہے ہماری نظروں سے اس موضوع سے متعلق روایات روزانہ تاریخ وغیرہ کی کتابوں اور رسالوں میں گزرا کرتی ہیں مگر وہ زیادہ تر منقطع اور ضعیف ہوتی ہیں بلکہ موضوع تک ہوتی ہیں، یہ کتابیں ہمارے سامنے بھی ہیں دیگر علماء کے سامنے بھی ہیں، جو چاہے اٹھا کر دیکھ لے، اس لیے مناسب یہی ہے کہ یہ موضوع بند کر کے اور لپیٹ کر ہی رکھا جائے بلکہ اس کو اپنی گفتگو سے خارج ہی کر دیا جائے تاکہ قلوب میں صفائی رہے اور صحابہؓ سے محبت اور رضا کا جذبہ موجزن رہے۔

اور عوام سے اسی طرح نام نہاد عالموں سے اس طرح کے موضوعات کا اخفاء ہی متعین ہے صرف اسی عالم کے لیے رخصت ہے جو انصاف پسند ہو۔ نفسیاتی جذبات سے بالاتر ہو وہ بھی تنہائی میں مطالعہ کرے اور آخر میں تمام صحابہؓ کے لیے استغفار کا اہتمام کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ان کے بعد والے آ کر ان صحابہؓ کے بارے میں یہ کہا کریں گے۔

اے ہمارے رب مغفرت فرما دیجیے ہماری اور ہمارے ان بھائیوں کی جو ہم سے پہلے ایمان کے ساتھ گزر چکے اور نہ رکھیے ہمارے دلوں میں ایمان والوں کے لیے کوئی کھوٹ۔

تقرر الكف عن كثير مما شجر بين الصحابة وقثالهم رضی الله عنهم اجمعين وما زلل يمر بنا ذلك فى الدواوين والكتب والاجزاء ولكن اكثر ذلك منقطع وضعيف وبعضه كذب وهذا فيما بين أيدينا وبين علمائنا فينبغى طيه واخفاؤه بل اعدامه لتصفو القلوب وتتوفر على حب الصحابة والترضى عنهم وكتمان ذلك متعين عن العامة وآحاد العلماء وقد يرخص فى مطالعة ذلك خلوة للعالم المنصف العرى من الهوى بشرط ان يستغفر لهم كما علمنا الله تعالىٰ وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۔ (سير اعلام النبلاء: جلد 10 صفحہ 92)

قرآنِ کریم کے اندر صحابہ کرامؓ کی تعریف کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: لِيَـغِيۡظَ بِهِمُ الۡكُفَّارَ‌ امام مالکؒ آیتِ بالا کے ذیل میں فرماتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں کسی بھی صحابیؓ کی طرف سے معمولی غیظ اور کھوٹ ہوگا وہ اس آیت کا مصداق ہے یعنی اس کے اندر کفر کی بو پائی جاتی ہے اسی وجہ سے وہ صحابہؓ سے جلتا اور بدگمانی رکھتا ہے۔

مختلف احادیث میں سبّ صحابہؓ یعنی صحابہ کرامؓ پر تنقید و تبصرے کی ممانعت وارد ہوئی ہے چنانچہ ایک حدیثِ شریف میں ہے آپﷺ نے ارشاد فرمایا میرے صحابہؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرو اللہ سے ڈرو، میرے بعد ان کو اپنی تنقید کا نشانہ مت بنانے لگنا جو ان سے محبت کرتا ہے تو وہ میری نسبت ہی کا خیال کر کے محبت کرتا ہے اور جو ان سے بغض رکھتا ہے وہ مجھ سے ہی بغض کا نتیجہ ہے۔ جو انہیں ایذاء پہنچائے اس نے گویا مجھے تکلیف پہنچائی اور جس نے مجھے تکلیف پہنچائی تو اس نے یقیناً اللہ کو ناراض کیا اور جس نے اللہ کو ناراض کیا تو قریب ہے کہ اللہ اس کی پکڑ فرمائے۔

الله الله فی اصحابی لا تتخذوهم غرضا من بعدی فمن احبهم فبحبی احبهم ومن ابغضهم فببغضی ابغضهم ومن آذاهم فقد آذانی ومن آذانی فقد آذى الله ومن آذى الله يوشك ان ياخذه۔ (ترمذی شریف: رقم الحديث 3862)

کسی عام مسلمان کو برا کہنے پر فسق کا حکم (کہنے والے پر) عائد ہوتا ہے تو جو شخص العیاذ باللہ کسی صحابیؓ کی شان میں گستاخانہ و نازیبا کلمات کہے سیدنا معاویہؓ جیسے جلیل القدر صحابی کو تنقید کا نشانہ بنائے اس کا فسق کس درجہ خطرناک ہوگا یہ اندازہ کرنے کی بات ہے۔

امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ صحابیِ رسولﷺ‎ پر تنقید کر رہا ہے تو سمجھ لو اس کا دین مشکوک ہے۔

اذا رايت رجلا يذكر احداً من اصحاب رسول اللهﷺ‎ بسوء فاتهمه على الاسلام۔ 

(تاریخ دمشق: جلد 59 صفحہ 209)

آپ سے معلوم کیا گیا کہ اگر کوئی شخص سیدنا معاویہؓ یا عمرو بن العاصؓ کی تنقیص کرتا ہے تو کیا اس کو رافضی کہا جائے گا؟ فرمایا حضراتِ صحابہ کرامؓ کی تنقیص کی جرأت وہی شخص کر سکتا ہے جو بد باطن ہو کوئی بھی شخص کسی صحابیِ رسولﷺ‎ سے اگر بغض رکھتا ہے تو یہ اس کے بدباطن ہونے کی علامت ہے۔

سئل الامام احمد عن رجل انتقص معاوية وعمرو بن العاص أيقال له رافضی قال انه لم يجترئ عليهما الا وله خبيئة سوء ما يبغض احذ احداً من اصحاب رسول اللهﷺ‎ الا وله داخلة سوء۔ (تاریخ دمشق: جلد 59 صفحہ 201)

قاضی ابو یعلیٰ حنبلیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص کسی صحابیِ رسولﷺ‎ کو نشانہ بنا رہا ہے تو یقین کر لو وہ آنحضور ﷺ کو کچھ کہنا چاہتا ہے اور قبر شریف میں آپﷺ‎ کی ذات پاک کو تکلیف پہنچا رہا ہے۔

واعلم انه من تناول احدامن اصحاب رسول اللّٰہﷺ‎ فاعلم انه اراد محمداًﷺ‎ وقد آذاه فی قبره۔(طبقات حنابلہ: جلد 2 صفحہ 37)

حضرت امام نسائیؒ سے سیدنا معاویہؓ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ اسلام کی مثال اس گھر کی سی ہے جس کا ایک دروازہ ہو اور اسلام کا دروازہ صحابہ کرامؓ ہیں جو شخص صحابہؓ کو تکلیف پہنچاتا ہے وہ اسلام پر حملہ کرنا چاہتا ہے جیسے کوئی شخص دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ گھر کے اندر ہی داخل ہونا چاہتا ہے لہٰذا جو شخص سیدنا معاویہؓ کو نشانہ تنقید بنا رہا ہے تو اس کا اصل نشانہ صحابہ کرامؓ ہی ہیں۔

قال ابن عساكر روى عن ابی عبد الرحمٰن النسائی انه سئل عن معاوية بن ابي سفيان صاحب رسول اللهﷺ‎ فقال انما الاسلام كدار لها باب، فباب الاسلام الصحابة فمن آذى الصحابة انما اراد الاسلام كمن نقر الباب انما يريد دخول الباب فمن اراد معاوية فانما اراد الصحابة۔ 

(تاریخ دمشق: جلد 71 صفحہ 175)

امام وکیعؒ فرماتے ہیں کہ جس طرح دروازے کا کنڈا ہلانے سے پورے دروازے میں حرکت ہوتی ہے اسی طرح سیدنا معاویہؓ پر کوئی تبصرہ کرنے سے پوری جماعتِ صحابہؓ پر زَد پڑتی ہے۔

صفحہ 3 از 5