سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم - ردِ…

سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 2 از 5

دوسری روایت میں سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آنحضورﷺ سیدہ اُمِ حرامؓ کے گھر تشریف لائے اور سو گئے، جب بیدار ہوئے تو مسکرائے، سیدہ اُمِ حرامؓ نے مسکرانے کی وجہ دریافت کی، آپﷺ‎ نے فرمایا میری اُمت کے کچھ لوگ سمندر میں اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے جہازوں پر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تخت پر بیٹھے ہوئے ہوں سیدہ اُمِ حرامؓ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ‎‎! دعا فرما دیجیے اللہ تعالیٰ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ چنانچہ آپﷺ‎ نے دعا فرما دی کہ اے اللہ ان کو بھی ان میں کر دے۔

ناس من امتی يركبون البحر الاخضر فی سبيل الله مثلهم مثل الملوك على الاسرة فقالت يا رسول اللهﷺ‎ ادع الله ان يجعلنی منهم قال اللهم اجعلها منهم الخ 

(بخاری شریف: جلد 1 صفحہ 403، 

باب غزوة المراة فى البحر كتاب الجہاد)

یہ غزوہ جس کے لیے رسول اللہﷺ نے جنت کی بشارت دی سیدنا معاویہؓ کی قیادت میں ہوا۔ چنانچہ امام طبریؒ لکھتے ہیں کہ سیدنا معاویہؓ نے 28ھ میں قبرص پر پہلا بحری حملہ کیا اور قبرص کو فتح کر لیا اور اس غزوہ میں آپؓ کے ساتھ سیدنا عبادہ بن الصامتؓ کی یہی زوجہ محترمہ سیدہ اُمِ حرامؓ بھی تھیں جن کے لیے حضورِ اکرمﷺ نے شرکت کی دعا فرمائی تھی، ان کے علاوہ سیدنا مقدادؓ، سیدنا ابو الدرداءؓ اور سیدنا شداد بن اوسؓ جیسے بڑے صحابہؓ بھی اس میں شریک تھے۔ (طبری: جلد 3 صفحہ 315)

ان خصوصیات کی بناء پر سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے اپنے دورِ خلافت میں انہیں ممتاز مقام دیا، سیدنا عمر بن الخطابؓ نے انہیں شام کا گورنر بنایا اور آخرِ حیات تک انہوں نے اس عہدے پر برقرار رکھا۔ دنیا جانتی ہے کہ سیدنا عمرؓ اپنے گورنروں اور والیوں کے تقرر میں انتہائی محتاط تھے جب تک کسی شخص پر مکمل اطمینان نہ ہو جاتا اس وقت تک اس کو کسی مقام اور علاقہ کا امیر مقرر نہ کرتے تھے، پھر جس کو گورنر بناتے اس کی پوری نگرانی فرماتے، اگر معیارِ مطلوب سے ذرہ برابر بھی کم درجہ کا پاتے فوراً معزول فرما دیتے۔ سیدنا عمرؓ کا آپؓ کو شام کا گورنر مقرر کرنا اور آخرِ حیات تک انہیں عہدے پر برقرار رکھنا ظاہر کرتا ہے کہ سیدنا عمرؓ کو سیدنا معاویہؓ پر مکمل اعتماد تھا۔

سیدنا عمرؓ کے بعد سیدنا عثمانؓ کا دور آیا وہ بھی آپؓ پر مکمل اعتماد کرتے تھے اور اہم معاملات میں آپؓ سے مشورہ لیتے اور اس پر عمل کیا کرتے تھے، انہوں نے بھی آپؓ کو شام کی گورنری کے عہدے پر نہ صرف باقی رکھا بلکہ آپؓ کے حسنِ انتظام اور تدبر کی وجہ سے آس پاس کے دوسرے علاقے اردن، حمص، قنسرین، اور فلسطین کے علاقے بھی آپؓ کے ماتحت گورنری میں دے دیے۔ غرض کہ آپؓ نے بڑی بڑی خدمات انجام دیں اور ایک وقت وہ بھی آیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا حسنؓ نے آپؓ سے صلح کی اور آپؓ کو اس وقت کی وسیع مملکت کا خلیفہ تسلیم کر لیا اس طرح پوری اُمت آپؓ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئی۔

سیدنا حسینؓ تقریباً 20 سال آپؓ کی خلافت میں رہے اور آپؓ نے ان کی طرف سے سالانہ وظیفہ بھی قبول فرمایا، سید اشباب اہل الجنۃ سیدنا حسنؓ اور سیدنا حسینؓ کا آپؓ کی خلافت کو قبول کرنا اور آپؓ کی خلافت میں رہنا سیدنا معاویہؓ کی خلافت حقہ ہونے کی زبردست شہادت اور دلیل ہے۔ 

(فتاویٰ رحیمیہ: جلد 4 صفحہ 61 تا 66)

ان تمام فضیلتوں کے باوجود انتہائی درجہ کا شقی اور بدبخت ہی ہوگا جو سیدنا معاویہؓ کے بارے میں زبان درازی کرے گا۔

مشاجراتِ صحابہؓ کے بارے میں اہل السنۃ والجماعۃ کی اہم کتابوں میں یہ عقیدہ بھی بطورِ خاص بیان کیا جاتا ہے کہ ہم تمام صحابہؓ کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں، ان کے فضائل و مناقب بیان کرتے ہیں ان کی زلات و لغزشات سے صرف نظر اور کفِ لسان کرتے ہیں اور ان میں سے کسی کا بھی تذکرہ خیر کے بغیر نہیں کرتے۔

نترحّم عليهم و نذكر فضلهم و نكف عن زللهم ولا نذكر احداً منهم الا بخير۔ 

(الفقہ الاکبر: صفحہ 43، 

العقيدۃ الطحاويہ: صفحہ 81، 

طبقات الحنابلہ: جلد 2 صفحہ 21)

علامہ تفتازانیؒ فرماتے ہیں صحابہؓ کی تعظیم کرنا ان پر طعن سے احتراز کرنا اور ان کی لغزشوں کی تاویل کرنا یا ان کو مناسب محمل پر محمول کرنا واجب ہے۔

يجب تعظيم الصحابة والكف عن مطاعنهم وحمل ما يوجب بظاهره الطعن فيهم على محامل والتاويلات(مقدمۃ الاصابہ: جلد 1 صفحہ 25)

حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں کسی بھی صحابیؓ کے بارے میں طعن و تشنیع کے ممنوع ہونے پر اہل السنۃ کا اتفاق ہے، صحابہؓ کے آپسی مناقشات کے سلسلہ میں بھی، حتیٰ کہ ان میں سے کسی کا حق پر ہونا سمجھ میں آ جائے تب بھی دوسرے پر تبصرہ کرنا جائز نہیں، اس لیے کہ ان حضرات کے مشاجرات اجتہاد کی بنیاد پر تھے اور اجتہاد میں غلطی کرنے والے کو تو اللہ تعالیٰ معاف فرما چکے ہیں بلکہ حدیث شریف میں تو مخطی کے لیے ایک اجر اور مصیب کے لیے دوہرے اجر کی بھی بات ثابت ہے۔

اتفق اهل السنة على وجوب منع الطعن على احد من الصحابة بسبب ما وقع لهم من ذلك ولو عرف المحق منهم لانهم لم يقاتلوا فی تلك الحروب الا عن اجتهاد وقد عفا الله تعالٰى عن المخطئ فی الاجتهاد بل ثبت انه يؤجر اجرا واحدا وان المصيب يؤجر اجرين الخ

(فتح الباری کتاب الفتن باب اذا التقى المسلمان بسيفيهما)

علامہ بیجوریؒ فرماتے ہیں جہاں تک ممکن ہو مشاجراتِ صحابہؓ کے قصہ میں ہرگز مت پڑو اور اگر ایسا اتفاق پیش آ جائے تو صحابہؓ کی طرف سے حسنِ ظن رکھتے ہوئے مناسب توجیہ و دلائل کے ساتھ ایسے واقعات کا تذکرہ کرو، کسی بھی صحابیؓ کی تنقیص مت کرو اس لیے کہ اس موضوع کا تصفیہ کوئی عقیدے کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی علمِ کلام کا موضوع ہے اس موضوع کو چھیڑنا کسی دینی اور علمی نفع کے بجائے اکثر ایمان و یقین کے لیے مضر ہی ہوتا ہے۔ 

(مقدمۃ التحقیق الاصابہ: جلد 1 صفحہ 25)

صفحہ 2 از 5