سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم - ردِ…

سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 1 از 5

سوال 2:اس شخص نے متعدد بار صحابیِ رسول و کاتبِ وحی، خال المسلمین سیدنا معاویہؓ کی شان میں گستاخانہ و نازیبا کلمات کہے نیز وہ سیدنا معاویہؓ کو خاطی، طاغی اور باغی قرار دیتا ہے (نعوذ باللہ) ہمیشہ معاویہ سے خطاب کرتا ہے (بغیر ترضی کے) تو وہ شخص شریعت کی نگاہ میں کیسا ہے؟

ثبوت کے طور پر یہ ہے کہ اُس شخص نے اپنے ایک ویڈیو میں کہا کہ ”آلِ حسن شرمندہ ہوں گے اگر وہ یزید یا اس شخص کی طرف ادنیٰ جھکاؤ رکھیں گے، جس کے نطفے سے یزید پیدا ہوا ہے۔“

(ایسی زبان استعمال کرنے والے شخص کو شریعت کیسا شخص قرار دیتی ہے)۔

اسی طرح ایک ویڈیو میں وہ شخص کہتا ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا تھا کہ خلافتِ راشدہ کے بعد جبر و سرکشی اور ظلم والی دہشت گردانہ حکومت ہو گی یزید کی حکومت جبر و عتو کی تھی، معاویہؓ کی جو حکومت تھی وہ بنص حدیثِ نبوی ملک عضوض تھی (ایسا کہنے والے شخص کے بارے میں شریعت کا کیا فیصلہ ہے؟)

جواب 2:سیدنا معاویہؓ جیسے جلیل القدر اور عظیم الشان صحابی کی شان میں جس عالم نما شخص نے یہ یاوہ سرائی کی ہے اس نے جسارت بیجا کی ہے، اندازہ ہوتا ہے کہ رفض اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر چکا ہے اس لیے کہ کسی صحیح العقیدہ سنی کے ایسے گندے خیالات ہرگز نہیں ہو سکتے۔ سیدنا معاویہؓ نے خدمتِ نبویﷺ میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کی، حَبر امت سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ آپؓ کو فقہائے اُمت میں شمار کرتے تھے، جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ ایک موقع پر سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ نے سیدنا معاویہؓ کے متعلق فرمایا: انه فقيه، انہوں نے درست فرمایا وہ تو فقیہ ہیں۔ (مشکوٰۃ شریف: صفحہ 112)

ایک اور روایت میں ہے کہ آپﷺ‎ نے فرمایا: "فانه قد صحب النبیﷺ‎" (البخاری) ان کو (یعنی سیدنا معاویہؓ کو ان کی حالت پر) چھوڑ دو اس لیے کہ وہ حضورِ اکرمﷺ کی صحبت میں رہے ہیں۔ (مشکوٰۃ شریف: صفحہ 113) 

یعنی حضورﷺ سے خصوصی طور پر فیض حاصل کیا ہے، صحبتِ نبویﷺ میں رہ کر آپؓ نے ارشاداتِ رسولﷺ کا کافی ذخیرہ محفوظ کیا کتبِ احادیث میں ایک سو تریسٹھ (163) احادیث آپؓ سے مروی ہیں۔

اسلام لانے کے بعد غزوہ حنین میں حضورِ اکرمﷺ کے ساتھ شریک رہے، کتابتِ وحی کی خدمات انجام دیں۔ سیدنا ابو سفیانؓ نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر درخواست کی: معاوية تجعله كاتبا بين يديك قال (رسول اللهﷺ‎) نعم 

"معاویہ کو آپ اپنا کاتب بنا لیجیے چنانچہ آپﷺ نے اس کو منظور فرما لیا" 

(مسلم شریف: جلد 2 صفحہ 304)

کتابتِ وحی کے ساتھ سیدنا معاویہؓ نبی کریمﷺ کی خصوصی خدمت بھی انجام دیتے تھے حج کے بعد عمرہ جعرانہ کے موقع پر سیدنا معاویہؓ نے آپﷺ کے بال مبارک بھی کاٹے۔ قال ابن عباس قال لی معاوية اعلمت انی قصرت من راس النبیﷺ‎ عند المروة بمشقص

سیدنا ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہؓ نے مجھ سے فرمایا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے قینچی سے مروہ پہاڑی کے پاس نبی اکرمﷺ کے سر کے بال مبارک کاٹے تھے۔ 

(مسلم شریف: جلد 1 صفحہ 408)

سیدنا معاویہؓ کی ایک بڑی منقبت یہ بھی ہے کہ حضورِ اکرمﷺ نے آپؓ کے لیے خصوصی دعا فرمائی کہ اے اللہ معاویہ کو ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعہ (لوگوں کو) ہدایت دے۔ 

(ترمذی شریف: جلد 2 صفحہ 225)

حضرت ابو ادریس خولانیؒ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمرؓ نے سیدنا عمیر بن سعد رضی اللہ عنہ کو حمص سے معزول کر کے سیدنا معاویہؓ کو گورنر بنا دیا تو لوگ کہنے لگے کہ عمر نے عمیر کو معزول کر دیا اس وقت سیدنا عمیرؓ نے فرمایا تم معاویہؓ کا ذکر خیر کے سوا نہ کرو کیونکہ میں نے نبی کریمﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے اللهم اهد به اے اللہ معاویہؓ کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت فرمایا۔ ”لما عزل عمر بن الخطاب عمير بن سعد عن حمص ولى معاوية فقال عمير لا تذكروا معاوية الا بخير فانی سمعت رسول اللهﷺ‎ يقول اللهم اهد به۔ 

(ترمذی شریف: جلد 2 صفحہ 225)

ایک اور حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریمﷺ نے ان کو دعا دی کہ اے اللہ معاویہؓ کو حساب کتاب سکھا دے اور اس کو عذابِ جہنم سے بچا۔

اللهم علم معاوية الكتاب والحساب وقه العذاب 

(الاستیعاب: جلد 3 صفحہ 381، 

مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 356)

مشہور صحابی سیدنا عمرو بن العاصؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریمﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے اللہ معاویہ کو کتاب سکھلا دے اور شہروں میں اس کے لیے ٹھکانہ بنا دے اور اس کو عذاب سے بچا لے۔

اللهم علمه الكتاب ومكن له فى البلاد وقه العذاب(مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 356)

نبی کریمﷺ نے آپؓ کی امارت و خلافت کی اپنی حیات میں ہی پیشین گوئی فرما دی تھی اور اس کے لیے دعا بھی فرمائی تھی۔ سیدنا معاویہؓ خود بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں نبی کریمﷺ کے واسطے وضو کا پانی لے گیا آپﷺ‎ نے پانی سے وضو فرمایا اور وضو کرنے کے بعد میری طرف دیکھا اور فرمایا اے معاویہ اگر امارت تمہارے سپرد کی جائے اور تمہیں امیر بنا دیا جائے تو تم اللہ سے ڈرتے رہنا اور انصاف کرنا۔ (الاصابہ فی معرفۃ الصحابہؓ: جلد 3 صفحہ 413 مطبوعہ مصر)

ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہؓ کو دربارِ نبویﷺ‎ میں ایک خاص مقام حاصل تھا اور آپﷺ سیدنا معاویہؓ سے بہت محبت فرماتے تھے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ نبی کریمﷺ سواری پر سوار ہوئے اور سیدنا معاویہؓ کو بھی اپنے پیچھے بٹھایا، تھوڑی دیر کے بعد آپﷺ‎ نے فرمایا اے معاویہ تمہارے جسم کا کون سا حصہ میرے جسم کے ساتھ مل رہا ہے۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ‎! میرا سینہ (اور پیٹ) آپﷺ‎ کے جسم کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ یہ سن کر آپﷺ نے دعا دی "اللهم املاه علما" اے اللہ اس کو علم سے بھر دے۔ 

(تاریخ الاسلام از حافظ ذہبی: جلد 2 صفحہ 319)

حدیثِ پاک میں ہے سیدہ اُمِ حرامؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ میری اُمت میں پہلا لشکر جو بحری جنگ کرے گا انہوں نے اپنے لیے جنت کو واجب کر لیا اول جيش يغزون البحر قد اوجبوا

(بخاری شریف: صفحہ 410، 

کتاب الجہاد باب ما قيل فی قتال الروم)

صفحہ 1 از 5