حضرات صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہنے والے کا حکم - ردِ رافضیت…

حضرات صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہنے والے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 3 از 3

چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور اکرمﷺ کے فیض یافتہ اور صحبت یافتہ ہیں آپﷺ‎ کی مصاحبت سے ان کا قلب منور اور باطن بالکل صاف ہو چکا تھا اس لیے انسان کی سعادت مندی اس میں ہے کہ ان کی شان میں گستاخی کر کے اپنی آخرت برباد نہ کرے جو لوگ اپنی حماقت و نادانی سے حضرات صحابہ کرامؓ کی طرف کسی غلطی کی نسبت کر کے اپنی خفتِ عقل کو آشکارا کرتے ہیں وہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی اس عبارت کو بغور پڑھ لیں۔ حضرت امام رُبانی مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں: وہ رذائل (یعنی کمینہ صفتیں) جو شفقت و مہربانی کے منافی ہیں۔ اور برے اخلاق میں شمار کیے جاتے ہیں مثلاً حسد، بُغض اور کینہ، یہ صفتیں ان حضرات کے بارے میں کیسے متصور ہو سکتی ہیں جو خیر البشر کی صحبت سے مشرف ہوئے، جو تمام اُمتوں میں سے بہترین اُمت کے بہترین افراد ہیں اور تمام مذہبوں کو منسوخ کرنے والے مذہب کے سابق ترین ہیں جن کا زمانہ تمام زمانوں میں بہترین تھا اور ان کا محبوب تمام نبیوں اور رسولوں سے فضیلت والا تھا، اگر خدا نخواستہ یہ صحابہؓ ہی ان ردی صفتوں سے متصف ہوں جن سے متصف ہونے پر ایک ادنیٰ اور معمولی آدمی کو بھی عار محسوس ہوتی ہو تو پھر کس طرح یہ امت میں بہتر شمار ہوں گے اور یہ اُمت کس اعتبار سے خیر الاُمم ہو گی اور ایمان لانے میں اوّل و سابق ہونا اور جان و مال کو سب سے بڑھ کر خرچ کرنا کیوں کر زیادت اور فضیلت کا باعث ہو گا اور خیر القرون کی کیا تاثیر ہو گی اور حضرت خیر البشرﷺ کی صحبت کا کیا اثر ہو گا۔

جو لوگ اس اُمت کے اولیاء کی صحبت میں کچھ مدت رہتے ہیں وہ ان گندی صفتوں سے نجات پا جاتے ہیں تو وہ لوگ جنہوں نے حضرت افضل المرسلینﷺ کی صحبت میں اپنی عمریں صرف کی ہیں اور دین کی تائید اور مدد کے لیے انہوں نے اپنی جانوں اور مالوں کو خرچ کیا ہے کیا یہ ممکن ہے کہ ان لوگوں کے حق میں اس قسم کی بری خصلتوں کا وہم کیا جائے اور اگر العیاذ باللہ حضرات صحابہ کرامؓ کی جانب کسی غلط بات کو منسوب کیا جائے تو سوائے اس کے اس بات کا کوئی نتیجہ نہ ہو گا کہ حضرت رسولِ کریمﷺ کی عظمت و بزرگی پر حرف آئے اور آپﷺ‎ کی صحبت ایک ادنیٰ اُمتی کی صحبت سے بھی ناقص سمجھی جائے۔

(مکتوبات امام ربانی: جلد 3 صفحہ 61، 

بحوالہ فتاویٰ رحیمیہ: جلد 4 صفحہ 47)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ پر کلام کرنے والا اور عوام و خواص کے سامنے العیاذ باللہ صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہنے والا شخص فاسق و فاجر اور انتہائی درجہ کا زندیق و بد باطن ہے وہ ہرگز اس لائق نہیں کہ اس کو عالمِ دین کہا جائے اگرچہ رسمی طور پر اس نے کسی مدرسہ میں کورس پورا کر لیا ہو۔ اس لیے کہ علمِ حقیقی کا خاصہ یہ ہے کہ اس کے حصول کے بعد آدمی خشیتِ الٰہی سے متصف ہو جاتا ہے اور اگر حصولِ علم کے بعد آدمی صفتِ خشیت سے متصف نہ ہو تو سمجھنا چاہیے کہ اس کو علم کی ہوا بھی نہیں لگ سکی۔

اسلامی حکومت کے اندر ایسے شخص کے لیے سخت ترین سزا متعین ہے امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ صحابہؓ کو برا بھلا کہنا حرام ہے، سخت ترین محرمات میں سے ہے، خواہ وہ صحابیؓ فتنوں کے حالات سے دوچار ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں۔

ان سب کا حکم ایک ہی ہے اس لیے کہ ان اختلافات میں سب کا مبنی اجتہاد اور تاویل تھا، قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ سب صحابہؓ (یعنی کسی بھی صحابیؓ کو برائی سے یاد کرنا) کبیرہ گناہوں میں سے ہے ہمارا اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اس کے مرتکب کو سزا دی جائے گی، قتل نہیں کیا جائے گا البتہ بعض مالکیہ فرماتے ہیں کہ ایسے گستاخ کو سزا کے طور پر قتل کر دیا جائے گا۔

اعلم ان سب الصحابة رضی الله عنهم حرام من فواحش المحرمات سواء من لا بس الفتن منهم وغيره لانهم مجتهدون فی تلك الحروب متأولون قال القاضىؒ وسب احدهم من المعاصي الكبائر ومذهبنا ومذهب الجمهور انه يعزر وقال بعض المالكية يقتل۔ (شرح مسلم: باب تحریم سب الصحابہؓ)


صفحہ 3 از 3