حضرات صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہنے والے کا حکم - ردِ رافضیت…

حضرات صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہنے والے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 2 از 3

علامہ ابنِ ہمامؒ نے لکھا ہے کہ اہل السنہ والجماعۃ کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کی جائے اس طرح کہ ان سب کو عادل مانا جائے اور ان پر کسی قسم کے طعن کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ان کی مدح و ثناء کی جائے، ”قال ابن الهمام رحمه الله واعتقاد اهل السنة تزكية جميع الصحابة والثناء عليهم“ (المسامرة فی علم الکلام: صفحہ 168،

الاصل الثامن، المطبعۃ المحموديۃ التجاريۃ، مصر)

ابنِ امیر حاج نے التقرير والتحبير میں علامہ تاج الدین سبکیؒ کے حوالہ سے اس سلسلہ میں نہایت عمدہ بحث ذکر کی ہے۔

فرماتے ہیں کہ اس بارے میں قول فیصل یہ ہے کہ ہم صحابہ کرامؓ کی عدالت کا بلا تردد یقین کرتے ہیں صحابہ کرامؓ پر طعن و تشنیع کرنے والا شخص گمراہی اور کھلے ہوئے خسارے میں ہے اگر کوئی شخص آج صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نشانہ بنا کر دریدہ دہنی کا مظاہرہ اور ہرزہ سرائی کی جرأت کرتا ہے تو ایسے بد باطن شخص کی طرف ہرگز کوئی التفات نہیں کیا جائے گا۔ حضراتِ صحابہ کرامؓ کی ذات اس سے بہت بلند ہے کہ ہم ان کی عدالت ثابت کریں اس لیے کہ خود کائنات کے پیدا کرنے والے نے اور اس کے محبوب حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے ان کی تعریف و توصیف بیان فرمائی ہے۔ ان کے درمیان جو اختلافی باتیں پیش آئی ہیں ان کو ہم اللہ تعالیٰ کے حوالہ کرتے ہوئے اپنی زبانوں کو بند رکھنے کے پابند ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ جو ان اختلافی باتوں کو کریدتا ہے وہ کھلی گمراہی کا شکار ہے اس کے باطن میں گندگی بھری ہوئی ہے۔

وقال ابن امیر حاج: وقال السبكى والقول الفصل انا نقطع بعدالتهم من غیر التفات الى هذيان الهاذين وزيغ المبطلين وقد سلف اكتفاؤ نافى العدالة بتزكية الواحد منا فكيف بمن زكاهم علام الغيوب الذى لا يعزب عن علمه مثقال ذرة فى الارض ولا فى السماء فى غير آية وافضل خلق الله الذى عصمه الله عن الخطاء فى الحركات والسكنات محمدﷺ‎ فى غير حديث ونحن نسلم امرهم فيما جرى بينهم الى ربهم جلا وعلا ونبراء الى الملك سبحانه ممن يطعن فيهم ونعتقد ان الطاعن على ضلال مهين وخسران مبين۔والكل عدول رضی الله عنهم فهم نقلة هذا الدين وحملته الذين بأسيافهم ظهر وبالسنتهم انتشر ولو تلو ناالآى وقصصنا الاحاديث فى تفضيلهم لطال الخطاب فهذه كلمات من اعتقد خلا فها كان على زلل و بدعة فليضمر ذوالدين هذه الكلمات عقدا ثم ليكف عما جرى بينهم فتلك دماء طهر الله منها ايدينا فلا نلوث بها السنتنا انتهى۔ 

(التقرير والتحبير: جلد 2 صفحہ 260، 

مسئلہ عدالۃ الصحابہ، دار الكتب العلميۃ، بيروت)

علامہ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ اہل سنت کے اصول و عقائد میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ اپنے دلوں اور زبانوں کو صحابہؓ کے معاملہ میں صاف رکھتے ہیں۔

قال ابن تيمية خلاصة اهل السنة فی اصحاب رسول اللهﷺ‎ ومن اصول اهل السنة والجماعة سلامة قلوبهم والسنتهم لاصحاب محمدﷺ‎

(العقيدۃ الواسطيہ: جلد 1 صفحہ 115، 

الباب الخامس، الفصل الثانی، اضواء السلف، رياض)

امام غزالیؒ نے المستصفىٰ میں اور امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر میں جمہورِ اہلِ حق کا اس بات پر اجماع نقل کیا ہے۔ نیز مُلا علی قاریؒ نے شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے کہ جمہورِ علماء کا مذہب یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب عادل ہیں سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؓ کے دور میں پیش آنے والے اختلافات سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔

قال الامام الغزالیؒ والذی عليه سلف الامة وجماهير الخلف ان عدالتهم معلومة بتعديل الله عز وجل اياهم وثنائه عليهم فی كتابه فهو معتقدنا فيهم الا ان يثبت بطريق قاطع ارتكاب واحد لفسق مع علمه به، وذلك مما لا يثبت فلا حاجة لهم الى التعديل قال الله تعالىٰ كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ

وقال تعالىٰ وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ

وهو خطاب مع الموجودين في ذلك العصر، وقال تعالىٰ لَقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ

وقال عزوجل وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ وقد ذكر الله تعالىٰ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ فى عدة مواضع واحسن الثناء عليهم و قال رسول اللهﷺ‎ خير الناس قرنى ثم الذين يلونهم وقالﷺ‎ لو انفق احدكم ملء الارض ذهبا ما بلغ مد احدهم ولا نصيفه، وقالﷺ‎ ان الله اختار لى اصحابا واصهارا وانصارا فاى تعديل اصح من تعديل علام الغيوب سبحانه وتعديل رسول اللّٰہﷺ كيف ولو لم يرد الثناء لكان فيما اشتهر وتواتر من حالهم فى الهجرة والجهاد وبذل المهج والاموال وقتل الآباء والاهل فى موالاة رسول اللهﷺ ونصرته كفاية فى القطع بعدالتهم۔ 

(المستصفىٰ: جلد 1 صفحہ 130، 

الفصل الرابع فی عدالۃ الصحابہؓ، 

دار الكتب العلميہ، بيروت)

صفحہ 2 از 3