حضرات صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہنے والے کا حکم - ردِ رافضیت…

حضرات صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہنے والے کا حکم

  مفتی عطاالرحمٰن قاسمی

صفحہ 1 از 3

سوال1:مشاجراتِ صحابہؓ پر کلام کرنے والے اور عوام و خواص کے سامنے صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہنے والے شخص کا کیا حکم ہے؟

کیا ہم اسے مسلمان اور عالمِ دین کہہ سکتے ہیں اگرچہ وہ کسی مدرسہ کا فارغ ہو۔

جواب1:بسم الله الرحمن الرحيم

سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم 

الجواب بعون الله الملك الوهاب

حضرات صحابہ کرامؓ حضورﷺ کے جانثار اولینِ شاگرد، آسمانِ ہدایت کے چمکتے ستارے، اللہ کے رسولﷺ کے صحبت و فیض یافتہ، حضورﷺ کے لاڈلے اور دُلارے، علومِ نبوی کے محافظ، امین اور روشن منارے، جن کا نام زبان پر آتے ہی ایک سچے مسلمان کے دل و دماغ ان کی عظمت و محبت سے بھر جاتے ہیں، ایمان میں اضافہ محسوس ہوتا ہے، اور ان کی قسمت پر رشک آنے لگتا ہے۔

چشمِ فلک نے آج تک ایسی بابرکت، برگزیدہ، مقدس اور فرشتہ صفت جماعت نہیں دیکھی جن کی عدالت پر تمام اُمت کا اجماع ہے، سوائے زندیق اورشقی ازلی کے کوئی دوسرا حضراتِ صحابہ کرامؓ کے بارے میں بدکلامی، بدزبانی و بدگمانی نہیں کر سکتا۔

بہ لحاظِ فرقِ مراتب تمام صحابہ کرامؓ کے بارے میں ہمارے تمام اہلِ حق، اہل السنہ والجماعۃ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ زمین و آسمان کی نگاہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد ان سے زیادہ مقدس اور پاکیزہ انسان نہیں دیکھے۔

حق و صداقت کے اس مقدس قافلہ کا ہر فرد اتنا بلند کردار اور نفسانیت سے اس قدر دور تھا کہ انسانیت کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے اور اگر کسی سے کبھی کوئی لغزش ہوئی بھی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اُسے معاف فرما کر ان کے جنتی ہونے کا اعلان فرما دیا ہے۔

حق تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کی اس مقدس جماعت کے ایمان و عقیدہ، فکر و عمل، تقویٰ و طہارت، عدالت و دیانت اور صدق و امانت کی گواہی دیتے ہوئے صاف لفظوں میں ارشاد فرمایا ہے:

وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ

ترجمہ: "لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنا دیا ہے اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آچکے ہیں"

اور ارشاد ہے: اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ لِلتَّقۡوٰى‌ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ

ترجمہ:"یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقویٰ کے لیے منتخب کر لیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی"

یہاں کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ فضیلتیں اور خدائی وعدے صرف سابقینِ اولین اور مشاہیرِ صحابہؓ کے لیے ہیں، آخر آخر میں اسلام لانے والے اور مختصر مدت کا شرفِ صحبت حاصل کرنے والے ان فضائل کے مستحق اور ان وعدوں کے مخاطب نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے شکوک و شبہات کو دور کرتے ہوئے نہایت وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا:

لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ‌ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا‌ وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى‌ 

ترجمہ:"تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے" 

پھر جن لوگوں سے اللہ نے حسنیٰ یعنی جنت کا وعدہ کر لیا ہے ان کی مغفرت و نجات یقینی ہے حتیٰ کہ وہ سزا بُھگتنے کے لیے بھی جہنم میں نہیں جائیں گے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ

ترجمہ:"(البتہ) جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے لکھی جا چکی ہے، (یعنی نیک مومن) ان کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا"

انہی نصوص کی بناء پر علامہ ابنِ حزمؒ فرماتے ہیں کہ تمام صحابہؓ جنتی ہیں:

فثبت أن الجميع من اهل الجنة لانهم المخاطبون بالآيات السابقة وقال الصحابة كلهم من أهل الجنة

(فتح المغیث: جلد 4 صفحہ 47)

صدیوں سے ہمارا یہ عقیدہ بالتواتر مسلم اور جزءِ ایمان ہے کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب عادل و ثقہ ہیں۔

امام خطیب بغدادیؒ نے الکفایہ فی علم الروایہ میں باب قائم کیا ہے: باب ما جاء فی تعديل الله ورسوله للصحابة اس کے تحت متعدد قرآنی آیات اور احادیثِ رسولﷺ‎ سے عدالتِ صحابہؓ کو ثابت کیا ہے، حافظ ابنِ حجرؒ نے الاصابہ فی تمییز الصحابہؓ میں خطیب بغدادیؒ کی مذکورہ بحث بیان فرمائی ہے۔

صحیح ابنِ حبان میں بھی عدالتِ صحابہؓ کا مستقل عنوان ہے:

ذكر الخبر الدال على ان اصحاب رسول اللهﷺ‎ كلهم ثقات عدول

الفقہ الاكبر میں حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ ہم ہر صحابیؓ کا تذکرہ خیر ہی کے ساتھ کرتے ہیں۔

قال الامام ابو حنيفة رحمه الله ولا نذكر احدا من اصحاب رسول اللهﷺ‎ الا بخير(الفقہ الاكبر: صفحہ 9  دائرة المعارف حیدرآباد)

امام طحاویؒ نے العقيدة الطحاويہ (جو کہ اصولِ دین کی نہایت مستند کتاب ہے، اس) میں اہل السنہ والجماعۃ کے عقیدے کا تفصیلی ذکر کیا ہے، فرماتے ہیں: ہم تمام صحابہؓ رسول اللہﷺ سے محبت کرتے ہیں، کسی کی محبت میں کمی نہیں کرتے نہ کسی سے اظہارِ برأت کرتے ہیں، ہاں جو ان سے بغض رکھتا ہے یا خیر کے علاوہ کے ساتھ ان کا ذکر کرتا ہے تو ہم اس سے بغض رکھتے ہیں، ہم صحابہؓ کا تذکرہ خیر ہی کے ساتھ کرتے ہیں، ان کی محبت دین و ایمان اور احسان کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی کی علامت ہے۔

قال الطحاوى ونحب اصحاب رسول اللهﷺ‎ ولا نفرط فى حب احد منهم ولا نتبرأ من احد منهم ونبغض من يبغضهم وبغير الخير يذكرهم ولا نذكرهم الا بخير وحبهم دين وايمان واحسان وبغضهم كفر ونفاق وطغيان۔(العقیدہ الطحاویہ: صفحہ 29  دار ابن حزم بیروت)

صفحہ 1 از 3