سوال1:مشاجراتِ صحابہؓ پر کلام کرنے والے اور عوام و خواص کے سامنے صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہنے والے شخص کا کیا حکم ہے؟
کیا ہم اسے مسلمان اور عالمِ دین کہہ سکتے ہیں اگرچہ وہ کسی مدرسہ کا فارغ ہو۔
جواب1:بسم الله الرحمن الرحيم
سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم
الجواب بعون الله الملك الوهاب
حضرات صحابہ کرامؓ حضورﷺ کے جانثار اولینِ شاگرد، آسمانِ ہدایت کے چمکتے ستارے، اللہ کے رسولﷺ کے صحبت و فیض یافتہ، حضورﷺ کے لاڈلے اور دُلارے، علومِ نبوی کے محافظ، امین اور روشن منارے، جن کا نام زبان پر آتے ہی ایک سچے مسلمان کے دل و دماغ ان کی عظمت و محبت سے بھر جاتے ہیں، ایمان میں اضافہ محسوس ہوتا ہے، اور ان کی قسمت پر رشک آنے لگتا ہے۔
چشمِ فلک نے آج تک ایسی بابرکت، برگزیدہ، مقدس اور فرشتہ صفت جماعت نہیں دیکھی جن کی عدالت پر تمام اُمت کا اجماع ہے، سوائے زندیق اورشقی ازلی کے کوئی دوسرا حضراتِ صحابہ کرامؓ کے بارے میں بدکلامی، بدزبانی و بدگمانی نہیں کر سکتا۔
بہ لحاظِ فرقِ مراتب تمام صحابہ کرامؓ کے بارے میں ہمارے تمام اہلِ حق، اہل السنہ والجماعۃ کا اجماعی عقیدہ ہے کہ زمین و آسمان کی نگاہوں نے انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد ان سے زیادہ مقدس اور پاکیزہ انسان نہیں دیکھے۔
حق و صداقت کے اس مقدس قافلہ کا ہر فرد اتنا بلند کردار اور نفسانیت سے اس قدر دور تھا کہ انسانیت کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے عاجز ہے اور اگر کسی سے کبھی کوئی لغزش ہوئی بھی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اُسے معاف فرما کر ان کے جنتی ہونے کا اعلان فرما دیا ہے۔
حق تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کی اس مقدس جماعت کے ایمان و عقیدہ، فکر و عمل، تقویٰ و طہارت، عدالت و دیانت اور صدق و امانت کی گواہی دیتے ہوئے صاف لفظوں میں ارشاد فرمایا ہے:
وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ حَبَّبَ اِلَيۡكُمُ الۡاِيۡمَانَ وَزَيَّنَهٗ فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ وَكَرَّهَ اِلَيۡكُمُ الۡكُفۡرَ وَالۡفُسُوۡقَ وَالۡعِصۡيَانَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الرّٰشِدُوۡنَ
ترجمہ: "لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے اور اسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنا دیا ہے اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آچکے ہیں"
اور ارشاد ہے: اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ امۡتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوۡبَهُمۡ لِلتَّقۡوٰى لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ
ترجمہ:"یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقویٰ کے لیے منتخب کر لیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی"
یہاں کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ فضیلتیں اور خدائی وعدے صرف سابقینِ اولین اور مشاہیرِ صحابہؓ کے لیے ہیں، آخر آخر میں اسلام لانے والے اور مختصر مدت کا شرفِ صحبت حاصل کرنے والے ان فضائل کے مستحق اور ان وعدوں کے مخاطب نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے شکوک و شبہات کو دور کرتے ہوئے نہایت وضاحت کے ساتھ ارشاد فرمایا:
لَا يَسۡتَوِىۡ مِنۡكُمۡ مَّنۡ اَنۡفَقَ مِنۡ قَبۡلِ الۡفَتۡحِ وَقَاتَلَ اُولٰٓئِكَ اَعۡظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِيۡنَ اَنۡفَقُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَقَاتَلُوۡا وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الۡحُسۡنٰى
ترجمہ:"تم میں سے جنہوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے خرچ کیا اور لڑائی لڑی، وہ (بعد والوں کے) برابر نہیں ہیں۔ وہ درجے میں ان لوگوں سے بڑھے ہوئے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد خرچ کیا اور لڑائی لڑی۔ یوں اللہ نے بھلائی کا وعدہ ان سب سے کر رکھا ہے"
پھر جن لوگوں سے اللہ نے حسنیٰ یعنی جنت کا وعدہ کر لیا ہے ان کی مغفرت و نجات یقینی ہے حتیٰ کہ وہ سزا بُھگتنے کے لیے بھی جہنم میں نہیں جائیں گے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ الَّذِيۡنَ سَبَقَتۡ لَهُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰٓى اُولٰٓئِكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُوۡنَ
ترجمہ:"(البتہ) جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی پہلے سے لکھی جا چکی ہے، (یعنی نیک مومن) ان کو اس جہنم سے دور رکھا جائے گا"
انہی نصوص کی بناء پر علامہ ابنِ حزمؒ فرماتے ہیں کہ تمام صحابہؓ جنتی ہیں:
فثبت أن الجميع من اهل الجنة لانهم المخاطبون بالآيات السابقة وقال الصحابة كلهم من أهل الجنة
(فتح المغیث: جلد 4 صفحہ 47)
صدیوں سے ہمارا یہ عقیدہ بالتواتر مسلم اور جزءِ ایمان ہے کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب عادل و ثقہ ہیں۔
امام خطیب بغدادیؒ نے الکفایہ فی علم الروایہ میں باب قائم کیا ہے: باب ما جاء فی تعديل الله ورسوله للصحابة اس کے تحت متعدد قرآنی آیات اور احادیثِ رسولﷺ سے عدالتِ صحابہؓ کو ثابت کیا ہے، حافظ ابنِ حجرؒ نے الاصابہ فی تمییز الصحابہؓ میں خطیب بغدادیؒ کی مذکورہ بحث بیان فرمائی ہے۔
صحیح ابنِ حبان میں بھی عدالتِ صحابہؓ کا مستقل عنوان ہے:
ذكر الخبر الدال على ان اصحاب رسول اللهﷺ كلهم ثقات عدول
الفقہ الاكبر میں حضرت امامِ اعظم ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ ہم ہر صحابیؓ کا تذکرہ خیر ہی کے ساتھ کرتے ہیں۔
قال الامام ابو حنيفة رحمه الله ولا نذكر احدا من اصحاب رسول اللهﷺ الا بخير(الفقہ الاكبر: صفحہ 9 دائرة المعارف حیدرآباد)
امام طحاویؒ نے العقيدة الطحاويہ (جو کہ اصولِ دین کی نہایت مستند کتاب ہے، اس) میں اہل السنہ والجماعۃ کے عقیدے کا تفصیلی ذکر کیا ہے، فرماتے ہیں: ہم تمام صحابہؓ رسول اللہﷺ سے محبت کرتے ہیں، کسی کی محبت میں کمی نہیں کرتے نہ کسی سے اظہارِ برأت کرتے ہیں، ہاں جو ان سے بغض رکھتا ہے یا خیر کے علاوہ کے ساتھ ان کا ذکر کرتا ہے تو ہم اس سے بغض رکھتے ہیں، ہم صحابہؓ کا تذکرہ خیر ہی کے ساتھ کرتے ہیں، ان کی محبت دین و ایمان اور احسان کی علامت ہے اور ان سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی کی علامت ہے۔
قال الطحاوى ونحب اصحاب رسول اللهﷺ ولا نفرط فى حب احد منهم ولا نتبرأ من احد منهم ونبغض من يبغضهم وبغير الخير يذكرهم ولا نذكرهم الا بخير وحبهم دين وايمان واحسان وبغضهم كفر ونفاق وطغيان۔(العقیدہ الطحاویہ: صفحہ 29 دار ابن حزم بیروت)
علامہ ابنِ ہمامؒ نے لکھا ہے کہ اہل السنہ والجماعۃ کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کی جائے اس طرح کہ ان سب کو عادل مانا جائے اور ان پر کسی قسم کے طعن کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ان کی مدح و ثناء کی جائے، ”قال ابن الهمام رحمه الله واعتقاد اهل السنة تزكية جميع الصحابة والثناء عليهم“ (المسامرة فی علم الکلام: صفحہ 168،
الاصل الثامن، المطبعۃ المحموديۃ التجاريۃ، مصر)
ابنِ امیر حاج نے التقرير والتحبير میں علامہ تاج الدین سبکیؒ کے حوالہ سے اس سلسلہ میں نہایت عمدہ بحث ذکر کی ہے۔
فرماتے ہیں کہ اس بارے میں قول فیصل یہ ہے کہ ہم صحابہ کرامؓ کی عدالت کا بلا تردد یقین کرتے ہیں صحابہ کرامؓ پر طعن و تشنیع کرنے والا شخص گمراہی اور کھلے ہوئے خسارے میں ہے اگر کوئی شخص آج صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نشانہ بنا کر دریدہ دہنی کا مظاہرہ اور ہرزہ سرائی کی جرأت کرتا ہے تو ایسے بد باطن شخص کی طرف ہرگز کوئی التفات نہیں کیا جائے گا۔ حضراتِ صحابہ کرامؓ کی ذات اس سے بہت بلند ہے کہ ہم ان کی عدالت ثابت کریں اس لیے کہ خود کائنات کے پیدا کرنے والے نے اور اس کے محبوب حضرت محمد مصطفیٰﷺ نے ان کی تعریف و توصیف بیان فرمائی ہے۔ ان کے درمیان جو اختلافی باتیں پیش آئی ہیں ان کو ہم اللہ تعالیٰ کے حوالہ کرتے ہوئے اپنی زبانوں کو بند رکھنے کے پابند ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ جو ان اختلافی باتوں کو کریدتا ہے وہ کھلی گمراہی کا شکار ہے اس کے باطن میں گندگی بھری ہوئی ہے۔
وقال ابن امیر حاج: وقال السبكى والقول الفصل انا نقطع بعدالتهم من غیر التفات الى هذيان الهاذين وزيغ المبطلين وقد سلف اكتفاؤ نافى العدالة بتزكية الواحد منا فكيف بمن زكاهم علام الغيوب الذى لا يعزب عن علمه مثقال ذرة فى الارض ولا فى السماء فى غير آية وافضل خلق الله الذى عصمه الله عن الخطاء فى الحركات والسكنات محمدﷺ فى غير حديث ونحن نسلم امرهم فيما جرى بينهم الى ربهم جلا وعلا ونبراء الى الملك سبحانه ممن يطعن فيهم ونعتقد ان الطاعن على ضلال مهين وخسران مبين۔والكل عدول رضی الله عنهم فهم نقلة هذا الدين وحملته الذين بأسيافهم ظهر وبالسنتهم انتشر ولو تلو ناالآى وقصصنا الاحاديث فى تفضيلهم لطال الخطاب فهذه كلمات من اعتقد خلا فها كان على زلل و بدعة فليضمر ذوالدين هذه الكلمات عقدا ثم ليكف عما جرى بينهم فتلك دماء طهر الله منها ايدينا فلا نلوث بها السنتنا انتهى۔
(التقرير والتحبير: جلد 2 صفحہ 260،
مسئلہ عدالۃ الصحابہ، دار الكتب العلميۃ، بيروت)
علامہ ابنِ تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ اہل سنت کے اصول و عقائد میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ اپنے دلوں اور زبانوں کو صحابہؓ کے معاملہ میں صاف رکھتے ہیں۔
قال ابن تيمية خلاصة اهل السنة فی اصحاب رسول اللهﷺ ومن اصول اهل السنة والجماعة سلامة قلوبهم والسنتهم لاصحاب محمدﷺ
(العقيدۃ الواسطيہ: جلد 1 صفحہ 115،
الباب الخامس، الفصل الثانی، اضواء السلف، رياض)
امام غزالیؒ نے المستصفىٰ میں اور امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر میں جمہورِ اہلِ حق کا اس بات پر اجماع نقل کیا ہے۔ نیز مُلا علی قاریؒ نے شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے کہ جمہورِ علماء کا مذہب یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ سب کے سب عادل ہیں سیدنا عثمانؓ اور سیدنا علیؓ کے دور میں پیش آنے والے اختلافات سے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔
قال الامام الغزالیؒ والذی عليه سلف الامة وجماهير الخلف ان عدالتهم معلومة بتعديل الله عز وجل اياهم وثنائه عليهم فی كتابه فهو معتقدنا فيهم الا ان يثبت بطريق قاطع ارتكاب واحد لفسق مع علمه به، وذلك مما لا يثبت فلا حاجة لهم الى التعديل قال الله تعالىٰ كُنۡتُمۡ خَيۡرَ اُمَّةٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ
وقال تعالىٰ وَكَذٰلِكَ جَعَلۡنٰكُمۡ اُمَّةً وَّسَطًا لِّتَکُوۡنُوۡا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ
وهو خطاب مع الموجودين في ذلك العصر، وقال تعالىٰ لَقَدۡ رَضِىَ اللّٰهُ عَنِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ يُبَايِعُوۡنَكَ تَحۡتَ الشَّجَرَةِ
وقال عزوجل وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ وقد ذكر الله تعالىٰ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ فى عدة مواضع واحسن الثناء عليهم و قال رسول اللهﷺ خير الناس قرنى ثم الذين يلونهم وقالﷺ لو انفق احدكم ملء الارض ذهبا ما بلغ مد احدهم ولا نصيفه، وقالﷺ ان الله اختار لى اصحابا واصهارا وانصارا فاى تعديل اصح من تعديل علام الغيوب سبحانه وتعديل رسول اللّٰہﷺ كيف ولو لم يرد الثناء لكان فيما اشتهر وتواتر من حالهم فى الهجرة والجهاد وبذل المهج والاموال وقتل الآباء والاهل فى موالاة رسول اللهﷺ ونصرته كفاية فى القطع بعدالتهم۔
(المستصفىٰ: جلد 1 صفحہ 130،
الفصل الرابع فی عدالۃ الصحابہؓ،
دار الكتب العلميہ، بيروت)
چونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور اکرمﷺ کے فیض یافتہ اور صحبت یافتہ ہیں آپﷺ کی مصاحبت سے ان کا قلب منور اور باطن بالکل صاف ہو چکا تھا اس لیے انسان کی سعادت مندی اس میں ہے کہ ان کی شان میں گستاخی کر کے اپنی آخرت برباد نہ کرے جو لوگ اپنی حماقت و نادانی سے حضرات صحابہ کرامؓ کی طرف کسی غلطی کی نسبت کر کے اپنی خفتِ عقل کو آشکارا کرتے ہیں وہ حضرت مجدد الف ثانیؒ کی اس عبارت کو بغور پڑھ لیں۔ حضرت امام رُبانی مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں: وہ رذائل (یعنی کمینہ صفتیں) جو شفقت و مہربانی کے منافی ہیں۔ اور برے اخلاق میں شمار کیے جاتے ہیں مثلاً حسد، بُغض اور کینہ، یہ صفتیں ان حضرات کے بارے میں کیسے متصور ہو سکتی ہیں جو خیر البشر کی صحبت سے مشرف ہوئے، جو تمام اُمتوں میں سے بہترین اُمت کے بہترین افراد ہیں اور تمام مذہبوں کو منسوخ کرنے والے مذہب کے سابق ترین ہیں جن کا زمانہ تمام زمانوں میں بہترین تھا اور ان کا محبوب تمام نبیوں اور رسولوں سے فضیلت والا تھا، اگر خدا نخواستہ یہ صحابہؓ ہی ان ردی صفتوں سے متصف ہوں جن سے متصف ہونے پر ایک ادنیٰ اور معمولی آدمی کو بھی عار محسوس ہوتی ہو تو پھر کس طرح یہ امت میں بہتر شمار ہوں گے اور یہ اُمت کس اعتبار سے خیر الاُمم ہو گی اور ایمان لانے میں اوّل و سابق ہونا اور جان و مال کو سب سے بڑھ کر خرچ کرنا کیوں کر زیادت اور فضیلت کا باعث ہو گا اور خیر القرون کی کیا تاثیر ہو گی اور حضرت خیر البشرﷺ کی صحبت کا کیا اثر ہو گا۔
جو لوگ اس اُمت کے اولیاء کی صحبت میں کچھ مدت رہتے ہیں وہ ان گندی صفتوں سے نجات پا جاتے ہیں تو وہ لوگ جنہوں نے حضرت افضل المرسلینﷺ کی صحبت میں اپنی عمریں صرف کی ہیں اور دین کی تائید اور مدد کے لیے انہوں نے اپنی جانوں اور مالوں کو خرچ کیا ہے کیا یہ ممکن ہے کہ ان لوگوں کے حق میں اس قسم کی بری خصلتوں کا وہم کیا جائے اور اگر العیاذ باللہ حضرات صحابہ کرامؓ کی جانب کسی غلط بات کو منسوب کیا جائے تو سوائے اس کے اس بات کا کوئی نتیجہ نہ ہو گا کہ حضرت رسولِ کریمﷺ کی عظمت و بزرگی پر حرف آئے اور آپﷺ کی صحبت ایک ادنیٰ اُمتی کی صحبت سے بھی ناقص سمجھی جائے۔
(مکتوبات امام ربانی: جلد 3 صفحہ 61،
بحوالہ فتاویٰ رحیمیہ: جلد 4 صفحہ 47)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مشاجراتِ صحابہؓ پر کلام کرنے والا اور عوام و خواص کے سامنے العیاذ باللہ صحابہ کرامؓ کو برا بھلا کہنے والا شخص فاسق و فاجر اور انتہائی درجہ کا زندیق و بد باطن ہے وہ ہرگز اس لائق نہیں کہ اس کو عالمِ دین کہا جائے اگرچہ رسمی طور پر اس نے کسی مدرسہ میں کورس پورا کر لیا ہو۔ اس لیے کہ علمِ حقیقی کا خاصہ یہ ہے کہ اس کے حصول کے بعد آدمی خشیتِ الٰہی سے متصف ہو جاتا ہے اور اگر حصولِ علم کے بعد آدمی صفتِ خشیت سے متصف نہ ہو تو سمجھنا چاہیے کہ اس کو علم کی ہوا بھی نہیں لگ سکی۔
اسلامی حکومت کے اندر ایسے شخص کے لیے سخت ترین سزا متعین ہے امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ صحابہؓ کو برا بھلا کہنا حرام ہے، سخت ترین محرمات میں سے ہے، خواہ وہ صحابیؓ فتنوں کے حالات سے دوچار ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں۔
ان سب کا حکم ایک ہی ہے اس لیے کہ ان اختلافات میں سب کا مبنی اجتہاد اور تاویل تھا، قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ سب صحابہؓ (یعنی کسی بھی صحابیؓ کو برائی سے یاد کرنا) کبیرہ گناہوں میں سے ہے ہمارا اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اس کے مرتکب کو سزا دی جائے گی، قتل نہیں کیا جائے گا البتہ بعض مالکیہ فرماتے ہیں کہ ایسے گستاخ کو سزا کے طور پر قتل کر دیا جائے گا۔
اعلم ان سب الصحابة رضی الله عنهم حرام من فواحش المحرمات سواء من لا بس الفتن منهم وغيره لانهم مجتهدون فی تلك الحروب متأولون قال القاضىؒ وسب احدهم من المعاصي الكبائر ومذهبنا ومذهب الجمهور انه يعزر وقال بعض المالكية يقتل۔ (شرح مسلم: باب تحریم سب الصحابہؓ)