جہلمی کا سیدنا حسینؓ کی ذات پر حملہ
مولانا اقبال رنگونیہمیں افسوس ہے کہ بعض بدبخت جو صرف اپنے آپ کو قرآن وحدیث کا پیرو اور دوسروں کو راہِ راست سے ہٹا ہوا کہنے میں کوئی حیاء نہیں کرتے ان کی زبانیں حضور اکرمﷺ کے اس محبوب نواسہ کے بارے میں بڑی بےدردی سے چلتی اور بہت بدتمیزی سے کھلتی ہے، خارجی لوگ تو بڑے ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ اہلِ بیت نبوت کی عزت و عظمت پر حملہ آور رہے ہیں مگر غیر مرد دانا حکیم فیض عالم شبلی کو کیا ہوگیا جس نے سیدنا حسینؓ کی ذات پر بری طرح حملہ کرتے ذرا بھی خوف خدا نہیں کیا، وہ لکھتا ہے:
حقیقت یہ ہے کہ آپ (یعنی سیدنا حسینؓ) برسام کے مریض تھے اور اس مرض کے مریض اول تو مر جاتے ہیں ورنہ پاگل ہو جاتے ہیں اور اگر بچ بھی نکلیں تو ان کی زبان لکنت آمیز ہو جاتی ہے اور ذہن کماحقہ سوچنے سمجھنے کی قوتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔
(خلافت راشده: صفحہ 124)
آپ ہی بتائیں کیا یہ زبان کسی اہلِ سنت کی ہوسکتی ہے؟ نہیں یہ لوگ خارجیت کے مریض ہیں اور اس مرض کے مریض اول مرحلے میں ہی اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں پھر جو منہ میں آیا بک دیتے ہیں اور یہ تک نہیں سوچتے ہیں کہ وہ کس خاندان کو نشانہ طعن بنا رہے ہیں یاد رکھیے کہ حضور اکرمﷺ کے خاندان اور آپﷺ کے صحابہ کرامؓ کی عزت و ناموس سے کھیلنے والا دنیا اور آخرت میں رسوا ہو کر ہی رہتا ہے۔
