قاتلان حسینؓ میں سے کوئی بھی سزا سے نہ بچ سکا - دفاعِ اہلِ…

قاتلان حسینؓ میں سے کوئی بھی سزا سے نہ بچ سکا

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 2 از 2

حافظ ابن کثیرؒ نقل کرتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ کو شہید کرنے والے جب واپس گئے اور خوشی میں رقص و سرور کی مجلس جمائی تو پردہ غیب سے ایک آہنی قلم نمودار ہوا جس نے دیوار پر یہ لکھ دیا کہ

أَتَرْجُو أَمَةٌ قَتَلَتْ حُسَيْنًا  

شَفَاعَةَ جَدِهِ يَوْمَ الْحِسَابِ؟

حسین کو قتل کرنے والے کیا یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ قیامت کے روز ان کے نانا ان لوگوں کی شفاعت کریں گے؟ (البدایہ: جلد 8 صفحہ 218)

اس میں یہ بتلا دیا گیا کہ یہ سب لوگ شفاعت سے محروم ہوں گے اور انہیں اپنے کیے کی سزا مل کر رہے گی (العیاذباللہ تعالیٰ)

مشہور تابعی حضرت ابراہیم نخعیؒ (94ھ) فرماتے ہیں کہ (اللہ نہ کرے) اگر میں ان لوگوں میں سے ہوتا جنہوں نے سیدنا حسینؓ کے ساتھ جنگ کی تھی اور مجھے جنت میں جانا مل جاتا تو مجھے شرم آتی کہ میں (کس منہ سے) حضور اکرمﷺ کے چہرہ انور کی طرف دیکھوں۔

وقد صح عن إبراهيم النخعي أنہ كان يقول: لو كنت فيمن قاتل الحسين ثم أدخلت الجنۃ لاستحييت أن انظر إلى وجه رسول اللہﷺ۔ (الاصابہ: جلد 2 صفحہ 71)

اس سے وہ لوگ عبرت حاصل کریں جو آج بھی جانے انجانے میں سیدنا حسینؓ اور خاندانِ نبوت کے دوسرے حضرات کے بارے میں اپنی زبان اور اپنے قلم کو بے قابو کیے ہوئے ہیں، جس حسینؓ کی ذرا سی تکلیف پر آپﷺ افسردہ اور تڑپ جاتے تھے کیا آپ کو یہ بات برداشت ہو گی کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک سیدنا حسینؓ کو آپ کا نام لیوا زبان اور قلم سے تکلیف پہنچائے اور آپ روز محشر ان کی شفاعت بھی کریں، آنحضرتﷺ کو اپنے صحابہؓ اور اپنے اہل بیتؓ کے بارے میں زبان درازی اور ان کی بے حرمتی ہرگز برداشت نہیں ہے اور آپﷺ نے یہ بات بار بار اپنی امت کو بتلا اور سمجھا دی ہے، جس نے اپنی آخرت کامیاب کرنی ہو وہ ان کی حرمت و عظمت اپنے دل میں رکھے اور جس نے اپنی دنیا اور آخرت برباد کرنی ہو وہ ان کے بارے میں اپنی زبان دراز کرے (معاذاللہ)۔ 

حاصل یہ کہ کربلا میں جس جس نے بھی سیدنا حسینؓ اور آپؓ کے گھر والوں اور ساتھیوں پر ظلم کیا، ان کو شہید کیا اللہ تعالیٰ نے اسی دنیا میں ان سب کو ایک ایک اپنے عبرتناک انجام تک پہنچا دیا تھا، ان کی عبرتناک زندگی اور موت کے واقعات مختلف کتابوں میں منقول ہیں جس سے اس حدیث قدسی پر ہمارا یقین اور پختہ ہو جاتا ہے کہ جس نے اللہ کے کسی دوست اور نیک بندے کے ساتھ دشمنی رکھی، اسے دکھی کیا، اسے ستایا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے اعلان جنگ ہے، اور جب خدا کسی سے جنگ کا اعلان کر دے تو پھر اس شخص اور قوم کی تباہی و بربادی، اور ذلت و رسوائی یقینی ہو جاتی ہے کبھی اس بربادی کا منظر دنیا والوں کو بھی دکھا دیا جاتا ہے، رہی آخرت تو کوئی خدا سے بچ نہیں سکتا۔


صفحہ 2 از 2