سوال: ایک شخص شیعہ تبرا گو بظنِ غالب ہے۔ اس کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال ہے یا نہیں؟
جواب: رافضی تبرا گو اگر حضرت عائشہ صدیقہؓ کے افک اور قذف کا بھی معتقد ہے تو اس کو علماء نے باتفاق کافر کہا ہے کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی برأت نصِ قطعی سے ثابت ہے۔ پس منکر اس کا کافر ہے۔ ایسے رافضی کا ذبیحہ کھانا حلال نہیں ہے۔ اور اگر وہ ایسے عقیدے کا اظہار نہیں کرتا اور احتمالِ قوی ہے کہ وہ تبرا گو اور افکِ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا معتقد ہے تب بھی اس کے ہاتھ کا ذبیحہ حلال نہیں ہے۔ اور چونکہ فرقہ مذکورہ بوجہِ خباثتِ باطنی کے اس کھانے میں جو اہلِ سنت کو کھلاتے ہیں نجاست ملا دیتے ہیں، اگر بظنِ غالب ایسا خیال ہو تو ان کے گھر کا کھانا بھی نہ کھائے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مدلّل و مکمل: جلد 15 صفحہ 325)