ایک متعہ کرنے والی کی حیرت - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ایک متعہ کرنے والی کی حیرت

  حافظ عبدالقدوس خان قارن

ایک ہندو لاہوری بیرسٹر کے دفتر میں متعہ کو جائز سمجھنے والی اور اس کی عموماً پابند، عفیفہ پاکدامن شیعہ عورت اپنی لڑکی کے ایک متعہ ہی کی قسم کے مقدمے کے سلسلے میں قانونی مدد حاصل کرنے کے لیے آئی ہوئی تھی۔ اس نے بیان کیا کہ ہم میں متعہ جائز ہے۔ چنانچہ فلاں نواب نے فلاں عورت سے متعہ کیا ہوا ہے۔

اس سے پوچھا گیا: کیا اس کے اتنے ثواب کی بھی قائل ہو کہ اگر ایک دفعہ متعہ کیا جائے تو حضرت حسینؓ کا درجہ مل جاتا ہے۔

یہ سن کر وہ چونکی کے سیدنا حسینؓ کا درجہ شہیدِ کربلا کا درجہ مظلومِ نینوا کا درجہ کسی اور کو نہیں مل سکتا، کہیں نہیں مل سکتا۔

مرد و عورت کے عارضی تعلق سے گھڑی گھنٹے کے تعلق سے سیدنا حسینؓ کا درجہ مل جائے، غلط ہے، جھوٹ ہے، سنیوں کی اُڑائی ہوئی بات ہے، بہتان ہے، افتراء ہے شیعہ اس کے قائل نہیں ہو سکتے عمرؓ کا درجہ ملتا ہوگا، اور وہ عمرؓ جس کا ہم بُت بناتے ہیں، اور اس کے ساتھ یہ کرتے ہیں، وہ کرتے ہیں اسے بتایا گیا ہے کہ بی بی صاحبہ، یہ شیعوں ہی کا عقیدہ ہے بولی: ایسی فساد کی بات نہ کرو شیعوں تک یہ بات پہنچے گی کہ ان کے امام کی ایسی عزت گھٹائی جاتی ہے کہ ایک متعہ کرنے والے کو ان کا ہم مرتبہ بنایا جاتا ہے تو وہ آپے سے باہر ہو جائیں گے اور بڑا فساد برپا ہوگا۔

اس عفیفہ شیعہ عورت کو بتایا گیا ہے کہ اس ثواب کے قائل بڑے بڑے شیعہ علماء و مجتہدین ہیں تو بھی اسے یقین نہ آیا اور بولی کہ سنیوں نے ایسی توہین کی بات لکھ کر شیعوں کی طرف منسوب کر دی ہوگی پھر غصے سے بولی کہ اگر تم سچے ہو تو لکھ دو، کے شیعہ واقعی متعہ کو ایسا پر ثواب فعل یقین کرتے ہیں میں ابھی نواب صاحب کے ہاں جا کر پوچھتی ہوں کہ یہ کیا بکواس ہے۔

چنانچہ اسے کتاب برہان المتعہ مصنفہ فخر المفسرین، لسان المتکلمین، عمدۃ الفقہاء والمحدثین، قدوۃ المحصلین محی الملت والشرعیۃ، صاحب الملکہ الملکیہ، مولانا الحاج السعید ابو القاسم مدظلہ کے حوالے سے لکھ دیا گیا کہ اس کے صفحہ 52 میں لکھا ہے کہ: 

جو شخص ایک بار متعہ کرے وہ ہمدرجہ حسینؓ ہے دوبارہ کرے تو سیدنا حسنؓ کا درجہ پائے تین بار کرے تو سیدنا علیؓ کا اور چار بار کرے تو حضرت رسول اکرم ﷺ کا۔

بی بی صاحبہ تحریر لے کر نواب صاحب کے ہاں پہنچیں۔ وہاں سے حکم ہوا کہ کتابِ موصوف کے مؤلف صاحب کے فرزندِ رشید، شمس العلماء علامہ حائری صاحب کے پاس وسن پورہ جاؤ۔ چنانچہ وہ ٹانگا دوڑاتی وہاں پہنچیں حضرت مسجد میں رونق افروز تھے اس نے پرچہ سامنے ڈال دیا اور عرض کیا: حضرت! اس کا جواب ابھی لکھ دیں کہ یہ بات غلط ہے سیدنا حسینؓ کا درجہ متعہ جیسے فعل سے نہیں مل سکتا بولے اس کا جواب فوراً نہیں دیا جا سکتا تین، دو روز تک لکھ دیں گے بلکہ چھاپ کر بیرسٹر صاحب کی بیٹھک پر پہنچا دیں گے۔

یہ جواب پا کر اور اپنا سا منہ لے کر وہ واپس آئیں اور نہایت ندامت سے بولیں کہ ہم ہوئیں ایسی ویسی عورتیں، ہمیں مسئلے کی کیا خبر؟ حائری صاحب جواب دیں گے بیرسٹر صاحب نے فرمایا کہ علامہ صاحب کچھ جواب نہیں دے سکتے ہم نے اصل کتاب پڑھ لی ہے باقی وہ ثواب کے مسئلے کا رد نہیں کر سکتے۔

چنانچہ اس بات کو دو برس ہو گئے، ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا اور نہ آ سکتا ہے۔

ناظرین! آپ نے دیکھ لیا ہے کہ ایک شیعہ عورت، جس نے جائز سمجھ کر کئی بار متعہ کیا، وہ بھی اس کے ثواب کی قائل نہیں ہوئی بلکہ اس کے ضمیر نے یہی گواہی دی کہ یہ کام ثواب کا نہیں اس کے مرتکب کو سیدنا حسینؓ کا ہمدرجہ بنانا بہت بری بات ہے اگر یہ کارِ ثواب ہوتا تو ان کے ائمہ کرام نے بھی کئی بار متعہ کیا ہوتا چنانچہ ہمیں شیعہ حضرات نہیں بتا سکتے، اور نہ بتا سکتے ہیں کہ ان کے 12 اماموں میں سے کس نے متعہ کیا اور ان سے کون کون امام پیدا ہوئے۔

کتنے افسوس کی بات ہے کہ متعہ جیسے حرام فعل کے متعلق کہا جائے کہ جو اس کا مرتکب نہ ہو اس کا ایمان کامل نہیں۔

(برہان المتعہ: صفحہ45) 

جو عورت متعہ کرے وہ بخشی بخشائی ہے،

متعہ رات کی نماز پر مقدم ہے صفحہ 47 ضرورت نہ ہو پھر بھی متعہ کرنا چاہیے متعہ مسکرات (شراب وغیرہ) کا عوض ہے صفحہ 48 خدا متعہ کرنے والوں پر درود بھیجتا ہے صفحہ 49 متعی عورت سے بات کرنے اس کی طرف ہاتھ بڑھانے سے نیکیاں ملتی ہیں اور صحبت سے تمام گناہ بخشے جاتے ہیں فارغ ہو کر غسل کرنے سے تمام بدن کے بالوں جتنی نیکیاں ملتی ہیں صفحہ 50 اور غسل کے ہر قطرہ سے 70 فرشتے پیدا ہوتے ہیں جو کرنے کرانے والوں کے حق میں استغفار اور نہ کرنے والوں کے لیے تا قیامت لعنت کرتے رہتے ہیں صفحہ 51 جو شخص ایک بار متعہ کرے اس کا سوم حصہ جسم دوزخ سے آزاد ہو جاتا ہے اور وہ خود خدائے جبار کے غضب سے امن حاصل کر لیتا ہے دوسری دفعہ کرنے سے اس کا دو تہائی حصہ آگ سے رہائی پا لیتا ہے اور وہ ابرار میں شمار ہو جاتا ہے تیسری بار کرنے سے اس کا تمام وجود عذابِ نار سے محفوظ اور اس کا حق ہو جاتا ہے کہ وہ رسولِ خداﷺ کا جنت میں مزاحم ہو صفحہ 51، 52۔

استغفر اللّٰہ ربی من ہذہ الخرافات۔