سوال: خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی شان میں جو شخص الفاظ ناملائم یا دشنام یا برا بھلا کہتا ہو اور تہمت لگاتا ہو وہ دائرہ اسلام میں ہے یا نہیں؟ ایسے شخص کے ہاتھ کا ذبیحہ درست ہے یا نہیں؟ ان لوگوں کے ساتھ تعلق دوستانہ و ہمدردی رکھنا اور کھانا کھانا وغیرہ جائز ہے یا نہیں اور جو شخص ایسے لوگوں سے میل جول رکھتا ہو اس سے میل جول رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب: خلفائے راشدینؓ پر سبِّ وشتم کو بھی بہت سے علماء و فقہاء نے کافر لکھا ہے اور بالخصوص سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت رکھنے والوں اور افک کے قائلین کو باتفاق کافر کہا ہے کیونکہ اس میں نصِ قطعی کا انکار ہے۔ پس اس شخص کا ذبیحہ درست نہیں، اور اس سے تعلق و محبت رکھنا درست نہیں ہے۔ اور جو شخص اس سے میل جول رکھے وہ عاصی و فاسق ہے، توبہ کرے۔
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند مدلّل و مکمل: جلد 12 صفحہ 273)